• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عید الفطر: میٹھے، نمکین پکوان اور ہماری صحت

ڈاکٹر ارم جہاں آفریدی، پشاور

’’عیدالفطر‘‘ اُمّتِ مسلّمہ کے لیے خوشی اور مسّرت کے دِنوں میں سے ایک بہت ہی خاص دِن ہے، جو رمضان المبارک میں مسلسل ایک ماہ تک بھوک پیاس برداشت کرنے اور خواہشاتِ نفس سے رُک جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور انعام عطا کیا گیا ہے۔ عید کے معنی خوشی، جشن، فرحت اور چہل پہل کے ہیں، جب کہ فطر کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں۔ یہ دِن رمضان المبارک کے روزوں کے اختتام کا اعلان ہے۔ یعنی اس دِن روزہ نہیں رکھا جاتا اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے روزوں اور عبادات کا انعام عطا فرماتے ہیں۔

کسی بھی تہوار اور خوشیوں کے لمحات سے لُطف اندوز ہونے کے لیے انسان کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔ بلاشبہ صحت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے، جس کی ہمیشہ قدر کرنی چاہیے اوراس کے لیے ایسا طرزِ زندگی اختیارکیا جائے، جس کے نتیجے میں ہم ایک صحت مند زندگی گزارنے کے ساتھ پُرمسّرت لمحات سے بھی لُطف اندوز ہو سکیں۔ صحت مند رہنے کے لیے سب سےضروری ہے کہ صحت بخش غذائیں استعمال کی جائیں،لہٰذاکھانا محض ذائقے دار نہیں، غذائیت سے بھی بَھرپور ہونا چاہیے۔ اگر ہماری غذا متوازن ہو، تو نہ صرف جسم اور دماغ بَھرپور طریقے سے کام کرتے ہیں، بلکہ کئی عوارض سے بھی تحفّظ حاصل ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر غذامتوازن نہ ہو، توسخت سُستی و کاہلی محسوس ہوتی ہے۔ جسم کی دفاعی قوّت کم زور پڑنے لگتی ہے اور ہم جلدی جلدی بیمار بھی ہونے لگتے ہیں۔ 

ماہرینِ صحت کی متفّقہ رائے کے مطابق ہم جو غذااستعمال کرتے ہیں، ہمارا جسم اور دماغ اُسی کا عکّاس ہوتا ہے۔انواع واقسام کے کھانوں کے جسم پر مختلف انداز سےاثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ مثلاً پروٹین کے استعمال سےدماغ بیدار رہتا ہے اور اگر چربی زیادہ استعمال کی جائے تو دماغ سویا ہوا محسوس ہوگا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ صحت بخش غذاؤں کو زندگی کا حصّہ بنانا ہماری بنیادی ضرورت ہے۔ متوازن غذا کے بنیادی اجزاء میں پروٹینز، کاربوہائیڈریٹس، منرلز، وٹامنز اور اینٹی آکسیڈینٹس شامل ہیں۔ ایک عام فرد کو دِن بَھر کے لیے 200سے3000کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے، جو ان ہی بنیادی اجزاء سے پوری کی جاتی ہے۔اس ضمن میں غذا کو پانچ بنیادی گروپس میں منقسم کیا گیا ہے، تاکہ ایک دِن کےکھانے میں غذا کے بنیادی اجزاء آسانی سے استعمال کیےجا سکیں۔ یہ پانچ گروپس پھل، سبزی، پروٹین، دودھ سے بنی ہوئی اشیاء(جیسے پنیر، دہی وغیرہ) اور اناج(گندم، جَو، دالیں) وغیرہ پر مشتمل ہیں اور ان میںہر ایک گروپ کے اپنے اپنے فوائد ہیں۔

یہ تو تقریباً سب ہی جانتے ہیں کہ جسمانی کارکردگی بحال رکھنے میں شکرکا کردار اہم ہے، لیکن عام طور پر اس کمی کوپورا کرنے کے لیے جو چینی ،مٹھائی یا کوئی میٹھی شے استعمال کی جاتی ہے، اگر ان کا استعمال اعتدال میں نہ ہو،تو اس کےصحت پر سخت مضر اثرات مرتّب ہوسکتے ہیں اورعید الفطرکےایّام میں یہ میٹھے، مٹھائیاں یا دیگر میٹھی اشیاء ضرورت سے کچھ زیادہ ہی استعمال کی جاتی ہیں، جن میں موجود مٹھاس وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے، جب کہ ذیابطیس کے مریض تو متعدّد پیچیدگیوں کے شکار بھی ہوجاتے ہیں،لہٰذا عمومی طور پر بھی اور بالخصوص ایّامِ عید پر اعتدال کا اصول ہی اپنایا جائے، تو بہتر ہے۔ عیدالفطر پر سوّیاں بنانا تو روایت کا حصّہ بن چُکا ہے، یہ روایت ضرور قائم رکھیں، لیکن جسم کو درکار مٹھاس کی باقی ضرورت خوراک کے پہلے گروپ یعنی پھلوں کے ذریعے پوری کی جائے۔

دراصل پھلوں کے ذریعے جسم کو بہت متوازن مقدار میں شکر فراہم ہوتی ہے، جب کہ پھلوں اور شہد کے استعمال سے ذیابطیس اور بلڈپریشر کی بیماری سے بھی تحفّظ ملتا ہے۔نیز، پھل وٹامنز، فائبرز اور کاربوہائیڈریٹس کی بھی ضرورت پوری کرتے ہیں، جب کہ ان تمام اجزاء کے جسم پر بھی مختلف اثرات مرتّب ہوتے ہیں، جیسا کہ وٹامن سی اور ای مل کر سرطان کے خلاف مؤثر کام کرتے ہیں۔ وٹامن ڈی ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے فائدہ مندہے ،تووٹامن بی کمپلیکس چہرے کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ منرلز کا ذکر کریں، تو یہ بھی ہڈیاں مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، کیلشیم کی مقدار اور دِل کی دھڑکن نارمل رکھتے ہیں۔ اعصابی سگنلز کنٹرول کرنے میں بھی ان کا اہم کردار ہے۔ فائبر ہاضمے کی کارکردگی بہتر کرتا اور وزن بڑھنے سے روکتا ہے۔ البتہ پھل ہمیشہ موسمی استعمال کریں کہ جو پھل ڈبّے میں بند ہوتے ہیں، وہ زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتے۔

خوراک کے دوسرے گروپ میں سبزیاں شامل ہیں۔ سبزیاں ہمیں منرلز، اینٹی آکسیڈینٹس، وٹامنز اورفائبر فراہم کرتی ہیں۔ اینٹی آکسیڈینٹس کی بات کی جائے تو یہ پھلوں کے ساتھ سبزیوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ان کا استعمال امراضِ قلب اور سرطان سے محفوظ رکھتا ہے ، بڑھاپے کے اثرات روکتا اور قوّتِ مدافعت بڑھاتا ہے۔ یوں تو سبزیاں پکی ہوئی بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں، لیکن پکانے کے بعد ان کی غذائیت میں کمی آجاتی ہے۔ 

اس لیے اپنے روزمرّہ کے غذائی شیڈول میں پکی ہوئی کے ساتھ تازہ سبزیاں بھی شامل رکھیں۔ واضح رہے ،جو غذائیت ہمیں پھلوں سے ملتی ہے، تقریباً ویسی ہی تازہ سبزیوں سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر دونوں طرح کی سبزیاں(کچی بھی اور پکی ہوئی بھی)ایک ساتھ استعمال کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ توواضح رہے، ہم دِن میں ایک، دو کے علاوہ ہر قسم کے پھل نہیں کھاسکتے۔ اب جو بھی پھل کھا رہے ہیں، اُن میں ایک یا دو قسم کے وٹامنز اور منرلز زیادہ مقدار میں پائے جائیں گے اور دیگر اجزاءکم مقدار میںہوں گے۔ تو اس کمی کو پورا کرنےکے لیے روزانہ دونوں طرح کی سبزیوں کا استعمال ضروری ہے۔

خوراک کا تیسرا گروپ اناج پر مشتمل ہے، جس میں گندم ،جَو ، چاول، دالیں وغیرہ شامل ہیں۔ ان سے ہمیں فائبر، پروٹینز، منرلز حاصل ہوتے ہیں اور کیلوریز کی بھی زائد مقدار حاصل کی جاتی ہے۔ یاد رہے، آٹا ہمیشہ سُرخ رنگ کا استعمال کرنا چاہیے کہ سفید آٹے میں فائبر اور پروٹینز کم مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

چوتھا گروپ پروٹینز پر مشتمل ہے۔ پروٹینز ہم پودوں اور حیوانات دونوں کے ذریعے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں مچھلی کا استعمال بہترین ہے، بالخصوص اومیگا تھری کے حصول کے لیے۔ اس کے علاوہ سیب، گوشت، چکن، بادام، اخروٹ، لوبیا وغیرہ بھی پروٹینز کے گروپ میں شمار کیے جاتے ہیں۔ اناج اور پروٹینز کے حصول میں اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ پروسیسڈ نہ ہوں۔ جیسے ریڈمِیٹ بہت پروسیسڈ ہو، تو کینسر کا سبب بن سکتا ہے، لہٰذا اس کی جگہ تازہ گوشت استعمال کریں۔ خیال رہے، پروٹینز زخم بَھرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

خوراک کا پانچواں گروپ ڈیری پراڈکٹس پر مشتمل ہے، جس میں دودھ، دہی، پنیر وغیرہ شامل ہیں۔ ان سے ہمیں پروٹینز اور کیلشیم حاصل ہوتا ہے، جو ہڈیوں اور دِل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، جب کہ صحت بخش چکنائی کا مآخذ بھی ڈیری پراڈکٹس ہیں۔ ان پانچوں گروپس کا کوئی نہ کوئی حصّہ اگر ہماری روزانہ کی خوراک میں شامل ہو، تو جسم کو متوازن غذا کے بنیادی اجزاء حاصل ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں بتدریج سستی ،کاہلی اور تھکاوٹ کے اثرات ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ 

متوازن غذا کے ساتھ صحت مند رہنے کے لیے جسم کو دِن میں قریباًآٹھ سے بارہ گلاس پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ضرورت سادہ پانی کے ساتھ دودھ، جوس اور شربت وغیرہ کے ذریعےبھی پوری کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ روزانہ کم از کم 20منٹ ورزش ضروری ہے،تو بَھر پور نیند بھی۔ بہترین نیند رات 10بجے سے صبح 4 بجے تک کی ہوتی ہے، تو ان سب اصولوںکو اپنی زندگی کا حصّہ بناکر ہی ہم ایک صحت مند زندگی بسر کرسکتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ غذا جب اعتدال سے تجاوزکر جائے، تو اس کےمعدے پرسخت مُضراثرات مرتب ہوتے ہیں، بالخصوص عید الفطر کے موقعے پر اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ صحت کے لیے نقصان دہ غذاؤں میں مضرِصحت چکنائی، نمک، چینی، مصنوعی ڈبّے کے جوسز اور فاسٹ فوڈز وغیرہ شامل ہیں۔ جسم کے لیےچکنائی کا استعمال ضروری بھی ہے،لیکن کم مقدار میںکیا جائے۔ویسےبہترین چکنائی زیتون کے تیل، دوھ اورد ہی سے حاصل ہوتی ہے۔اِسی طرح اگرنمک کم مقدار میں استعمال کیا جائے، تو نقصان دہ ثابت نہیں ہوتا۔اس ضمن میں سفید کی بجائے گلابی نمک بہتر ہے۔ چینی کی بجائے اس کےمتبادل شہد یا گڑاستعمال کریں۔ ویسے برائون شوگربھی سفید چینی کے مقابلے میں بہتر ہے۔ 

فاسٹ فوڈز مثلاً پیزا، برگر، ڈونٹس کا استعمال کم سے کم کیا جائے۔ پروسیسڈ تیل جسم میں جا کر نقصان پہنچانےوالی چربی کی طرح کام کرتا ہے، لہٰذا اس کی جگہ نباتاتی تیل استعمال کریں ، جس میں بہترین زیتون اور ناریل کا تیل ہے۔ماہرِا غذیہ کا مشورہ ہے کہ آپ اپنے کھانے کی پلیٹ کے کچھ حصّے بنالیں، جس میں ہر گروپ سے کچھ نہ کچھ شامل ہو۔ مثلاً پلیٹ کا آدھا حصّہ تازہ سبزیوں پر مشتمل ہو، ساتھ میں کچھ پھل بھی شامل کر سکتے ہیں۔ دوسرا حصّہ دو حصّوںمیں منقسم کریں۔

ایک حصّے میں پروٹین یعنی گوشت یا لوبیا وغیرہ ہو اور دوسرے حصّے میں اناج اور ساتھ میں ڈیری پراڈکٹس یعنی مکھن یا دہی شامل ہو۔ اس طرح آپ ایک وقت کے کھانے میں سارے بنیادی اجزا حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ایک وقت میں تمام اجزاء میسّر نہ ہوں، تو انھیں تین وقت کے کھانوں میں تقسیم کر لیں۔ صُبح کے وقت تھوڑی صحت بخش چکنائی اور زیادہ پروٹینز استعمال کریں اور دوپہر کوپھل ،جب کہ تازہ سبزیاں اور اناج وغیرہ رات کےکھانے میں استعمال کرسکتے ہیں۔

ماہِ صیام میں مسلسل ایک ماہ تک کھانے پینے کےمخصوص اوقاتِ کار کے باعث عید کے موقعے پر چند احتیاطی تدابیر ناگزیر ہیں۔ ہم اکثر عید پر وہ لوازمات کھاتے ہیں، جن کا ذائقہ اچھا ہو، چاہے وہ صحت کے لیے انتہائی مضر ہی کیوں نہ ہوں۔ حالاں کہ ذائقے سے کہیں ضروری کھانے کا صحت بخش ہونا ہے۔ عید پر عموماً مٹھائیاں اور بیکری کی چیزیں بکثرت استعمال کی جاتی ہیں، جن سے شوگر لیول بھی بڑھتا ہے اور کولیسٹرول کی سطح میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ 

لہٰذا بہتر یہی ہے کہ بازاری مٹھائیوں کے بجائے گھر میں گڑ کی مٹھائیاں وغیرہ بنالی جائیں، کیوں کہ گڑ، سفید چینی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے۔ اِسی طرح حلوہ جات بھی گڑ کے بنائے جائیں۔ کھیر بھی چاول اور دودھ سے بنائی گئی ہو تو بہت مناسب ہے۔ عید کے موقعے پر بالخصوص گرم موسم میں آئس کریمز بہت رغبت سے استعمال کی جاتی ہیں اور کہاجاتا ہے کہ یہ چوں کہ دودھ سے بنی ہیں، اس لیے صحت کے لیے نقصان دہ نہیں۔ تو یاد رکھیے، آئس کریمز صحت کے لیے قطعاً مفید نہیں کہ ان میں بہت زیادہ مقدار میں چینی استعمال کی جاتی ہے۔ ہاں، اگر تھوڑی مقدار میں کھائی جائیں، تو مضر اثرات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ 

علاوہ ازیں، عید کے موقعے پر مشروبات بھی کثرت سے استعمال کیے جاتے ہیں،خاص طور پر گرمیوں کی عید میں مشروبات کچھ زیادہ ہی بھاتے ہیں، تو مشروبات کا استعمال ضرور کریں کہ یہ گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، لیکن احتیاط بھی کریں کہ وہ بازار میں بکنے والے کھلے مشروبات ہوں، نہ ڈبّے والے جوسز اور کولڈ ڈرنکس۔ کیوں کہ ان میں ایک تو چینی زائد مقدار میں استعمال کی جاتی ہے۔ دوم، یہ گرمی کے باعث جسم میں پانی کی کمی بھی پوری نہیں کرپاتے۔ بہتر یہی ہے کہ گھر کے بنے ہوئے جوسز، ملک شیک یا پھر بغیر دودھ والے تازہ پھلوں کے جوس استعمال کرلیےجائیں۔ لیموں پانی بھی بہترین مشروب ہے۔ تاہم، اس میں مٹھاس کے لیے شہد یا گڑ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

مٹھائیوں اور مشروبات کے علاوہ کھانے کی دیگر اشیا ءکے استعمال میں بھی احتیاط برتی جائے ۔ جیسے فاسٹ فوڈ زسے یا تو مکمل پرہیز کریں یا صرف عید کے دِن ایک وقت کے کھانے میں کھائیں۔مگر اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ فاسٹ فوڈز کے ساتھ کولڈڈرنکس یا دیگر مضرِ صحت مشروب استعمال نہ کیے جائیں،کیوں کہ ان میں کئی ایسےکیمیائی مادّے شامل ہوتے ہیں،جو مختلف عوارض کا سبب بن سکتے ہیں،بہتر ہوگا کہ ان کی بجائے ایک پیالی تازہ پھل یا تازہ سبزی کا سلاد استعمال کرلیا جائے۔

اس کے علاوہ عید کے موقعے پر بنائے جانے والے دیگرکھانوں میں نباتاتی تیل استعمال کریں، لیکن چوں کہ وہ منہگا ہوتا ہے اور ہر شخص خریداری کا متحمل نہیں ہوسکتا، تو عام کم تیل میں کھانا بنانے کے بعد بعد ازاں زیتون یا ناریل کے تیل کے ایک دو چمچ ڈالنے سے بھی مطلوبہ فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، سلاد پر بھی نباتاتی تیل کا ایک چمچ ڈال سکتے ہیں۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد کم از کم دو گھنٹے بعد سادہ گرم پانی کا ایک کپ ضرور پیئں، تاکہ جو مضرِصحت اشیا ءاستعمال کی ہیں، اس سے معدہ اور آنتیں صاف ہو جائیں۔

اگر ان اصولوں پر اپنی صحت کا خیال رکھا جائے، تو پورا سال جسم اور دماغ صحت مند رہیں گے۔ اس ضمن میں اس حدیث کو بھی یاد رکھیں، جس میں رسول اللہ نے فرمایا کہ ’’اپنی صحت کو بیماری سے پہلے غنیمت جانو۔‘‘ (مضمون نگار، شعبۂ آپتھولومولوجی سے منسلک ہیں، نیز پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن(پیما) کی رکن بھی ہیں)