• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذہنی دباؤ پر قابو پاکر امتحانات کی تیاری کریں

ہمارے ملک میں کووڈ-19 کی تیسری لہر کے باعث کچھ جماعتوں کے امتحانات ملتوی کردیے گئے ہیں جبکہ کچھ کو امتحانات دینا ہیں۔ کووِڈ-19کے باعث تعلیمی سال کے بیشتر حصے میں طلبا روایتی طریقہ تعلیم کے بجائے آن لائن کلاسزلیتے رہے۔ ایسے میں طلبا کی اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح تیاری نہیں کرپائے جیسے کہ وہ عام حالات میں کرتے، اسی وجہ سے امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھانے اور اچھے نمبر لانے کی فکر میںوہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ 

موجودہ حالات کا سامنا کرتے ہوئے دباؤ سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امتحانات کی تیاری پوری توجہ اور دلجمعی سے کی جاسکے۔ اس کے لیے آپ روزانہ پڑھنے کا معمول بنائیں اور امتحانات کے آغاز سے تین ہفتے قبل دن بھر ایک کرکے بھرپور طریقے سے تیاری شروع کردیں۔ بس یہ بات یاد رکھیں کہ اگر امتحا ن اچھے نمبر سے پاس کرنا ہے تو پھر ذہنی دباؤ کو کم سے کم رکھنا ہوگا۔

امتحانات کی فکر اور دباؤ میں فرق 

لوگوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ جب تک امتحانات کی فکر سر پر سوار نہیں کریں گے تب تک اس کی تیاری نہیں کی جاسکتی۔ یہ بات کافی حد تک درست ہے مگر آپ کو اس فکر کو مثبت انداز میں لینا ہوگا یعنی غیر ضروری وقت کے ضیاع سے بچنا ہوگا، بہت زیادہ سونے سے گریز کرنا ہوگا، جنک فوڈ سے پرہیز کرنا ہوگا۔ البتہ اگر یہی فکر منفی انداز میں ذہن پر سوار کرلی جائے تو وہ ذہنی دباؤ کا باعث بن جاتی ہے، پھر نہ تو طالب علم بہتر طریقے سے امتحانات کی تیاری کرپاتا ہے اور نہ ڈھنگ سے یاد کرپاتا ہےاس کے علاوہ سونے جاگنے اور کھانے پینے کا معمول بھی متاثر ہوتا ہے۔ 

ذہنی دباؤ کا ایک آئیڈیل لیول ہونا چاہیے، جو بہتر کام کرنے میں مدد دے سکے۔ آئیڈیل لیول دباؤ میں بہترین کام کرنے کی طرف راغب کرتاہے لیکن اگر دباؤ زیادہ ہوجائے تو ذہن کام کرنا چھوڑ سکتا ہے۔ امتحانات میں بہتر کارکردگی دکھانے اور اچھے نمبر لانے کے لیے طلبا خود تو ذہنی دباؤ لیتے ہی ہیں، ساتھ میں ان پر سماجی زندگی کا دباؤ بھی ہوتا ہے۔ اکثر طلبا پڑھائی کی فکر کرنے کے بجائے بیرونی دباؤ کا زیادہ شکار ہوجاتے ہیں۔ امتحانات میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے آپ مستعد رہیں، صحت بخش خوراک کھائیں بالخصوص صبح کا ناشتہ لازمی کریں اور مطلوبہ نیند پوری کریں۔

غیرنصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا

ایک بات یاد رکھیں کہ24گھنٹے کوئی بھی نہیں پڑھ سکتا، پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کچھ وقت اپنے لیے بھی نکالیں جس میں آپ جسمانی سرگرمیاں سرانجام دیں۔ طلبا کو چاہیے کہ ذہنی دباؤ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے تفریحی، معلوماتی اور اپنے مضامین سے متعلق پروگرامز میں حصہ لیں۔ 

یوگا، آرٹ تھراپی، سلائی کڑھائی، کریون آرٹ، مہندی لگانے کا مقابلہ، سوئمنگ، والی بال، سائیکلنگ اور کرکٹ جیسی سرگرمیوں میں حصہ لے کر ذہنی دباؤ کو دور کیا جاسکتا ہے۔ جسمانی ورزش سے آپ کو اپنی پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تاہم، غیرنصابی سرگرمیاں انجام دینے کے لیے وقت کا تعین کریں۔ اگر آپ مقرر کردہ وقت سے زیادہ غیرنصابی سرگرمیوں پر خرچ کریں گے تو پھر آپ کی پڑھائی کا حرج ہوگا۔

صحت بخش غذا کا حصول

جیسے جیسے امتحانات قریب آتے ہیں طلبا کے کھانے پینے کا شیڈول متاثر ہوجاتا ہے۔ وقت بے وقت وہ صحت بخش غذائیں کھانے کے بجائے کیفین والے مشروبات اور جنک فوڈ پر زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں۔ پڑھائی کے دوران لگنے والی بےوقت کی بھوک میں وہ جنک فوڈ کھانے کو ترجیح دیتے ہیں جس سے ان کا معدہ متاثر ہونے یا تیزابیت کا خدشہ رہتا ہے۔ 

اس طرح کی غیرصحت بخش غذائیں کھانے سے توجہ و ارتکاز میں کمی آتی ہے، نتیجتاً طلبا ذہنی دباؤ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ سب سے بہترتو یہ ہے کہ آپ پھل اور سبزیوں کے ذریعے اپنی بھوک مٹائیں کیونکہ یہ غذائیت سے بھرپور ہونے کے ساتھ آپ کو مختلف بیماریوں سے بچاتے اور توانائی فراہم کرتے ہیں۔

صبح سویرے اُٹھنا

طلبا کی اکثریت رات کو جاگ کر پڑھنے کو ترجیح دیتی ہے، ان سے صبح اٹھ کر پڑھا نہیں جاتا۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری عادتیں ہیں، جس کی وجہ سے ہمیں رات کو جلدی سونا اور صبح سویرے بیدار ہونا نہایت مشکل لگتاہے۔ تاہم، امتحانات میں عمدہ کارکردگی دکھانے کے لیے آپ کو یہ عادت ڈالنی ہوگی کیونکہ رات کو بھرپور نیند لینے سے دماغ تازہ دَم ہوتا اور ہر چیزبآسانی سمجھ آتی ہے۔ صبح کی سیر یا چہل قدمی، آپ کے دماغ کو توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے علاوہ تازہ ہوا ذہنی دبائو کو کم کرتی ہے اور آپ تازہ دم ہو کرامتحانات کی تیاری کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

فون کا استعمال ترک کرنا

امتحانات کی تیاری کرتے وقت کچھ وقفہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ آپ تازہ دَم ہوجائیں۔ دو سے تین گھنٹے پڑھانے کے بعد دس سے پندر ہ منٹ کا وقفہ لیں مگر اس دوران اپنے اسمارٹ فون کو ہاتھ نہ لگائیں۔ امتحانات سے قبل اپنے فیس بک ، انسٹاگرام او رٹوئٹر وغیرہ کے اکائونٹس ڈی ایکٹیویٹ کردیں تاکہ آپ کی توجہ میں انتشار پیدا نہ ہو۔ 

مشاہدے میں یہی آتا ہے کہ آپ نوٹیفکیشن دیکھنے کے لیے موبائل اٹھاتے ہیں اور پھر اس کے بعد دوسری چیزیں دیکھنے میں اتنے مشغول ہوجاتے ہیں کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

والدین کا کردار

والدین کو چاہیے کہ امتحانات کے آغاز سے قبل بچوں کو گھر پر پُرسکون تعلیمی ماحول فراہم کریں۔ گھر پر کسی بھی قسم کی سماجی یا نجی تقریبات منعقد نہ کر یں اور اسے گھریلوجھگڑوں اور تنازعات سے پاک رکھیں۔ ٹی وی ہلکی آواز میں دیکھیں اور ہر وقت بچوں کو پڑھائی کی تلقین نہ کریں بلکہ اس کے لیے ایک نظام الاوقات تر تیب دے کر صرف نگرانی کریں۔