• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایف آئی اے کے رویے پر عدالت برہم 17 کروڑ کی ضبط شدہ غیرملکی کرنسی مدعی کو فوراً واپس کرنیکا حکم، ڈپٹی ڈائریکٹر کو شوکاز جاری

کراچی (اسد ابن حسن) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج II لاہور نے ایف آئی اے کے افسران کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ایک مقدمے میں ضبط 17کروڑ کی کرنسی فوراً مدعی کو واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔ توہین عدالت کے حوالے سے ایف آئی اے کے اعلیٰ افسران کو عدالت نے طلب کیا ہے۔ گزشتہ روز دیئے گئے فیصلے میں محترم جج حامد حسین نے مدعی کی توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ دیتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ مدعی محمد نعمان سلطان جوکہ پراچہ منی ایکسچینج کا ڈائریکٹر ہے کو اس حوالے سے ایک دوسرے ایڈیشنل سیشن جج نے مدعی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ضبط شدہ کیس پراپرٹی جس میں 17کروڑ کی ملکی اور غیر ملکی کرنسی شامل تھی، واپس کی جائے۔ اس فیصلے کے خلاف ایف آئی اے نے 2020ء میں درخواست دائر کی تھی اور اسٹے آرڈر کی درخواست بھی کی تھی جو خارج کرنے کے بعد ایف آئی اے کو بار بار تاکید کی گئی کہ وہ ضبط شدہ رقم واپس کردے مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ اب ان کی عدالت میں 5مارچ 2021ء کو مدعی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی جس کی شنوائی 4اپریل اور 22اپریل 2021ء کو کی گئی اور ایف آئی اے کو ان کی عدالت نے حکم دیا کہ کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے رقم واپس کی جائے۔ دوران سماعت ایف آئی اے نے احتجاج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ان کی اسٹے کی درخواست پر فیصلہ نہیں کیا گیا جس کے بعد معزز عدالت نے وہ درخواست 3مئی 2021ء کو فیصلہ دیتے ہوئے ایف آئی اے کو حکم دیا کہ رقم واپس کرتے ہوئے اس کی رپورٹ عدالت میں جمع کروائی جائے۔ دونوں سماعت میں ڈپٹی ڈائریکٹر مبشر احمد زیدی کئی مرتبہ عدالت میں پیش ہوئے مگر عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہے، جس پر ان کو 26اپریل 2021ء کو شوکاز نوٹس عدالت نے جاری کیا۔ ایف آئی اے نے عدالت سے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کیلئے مہلت مانگی جو 6مئی کو مسترد کردی گئی۔ ایف آئی اے نے اینٹی کرپشن ونگ لاہور حیلے بہانوں سے مدعی کو رقم واپس نہیں کررہا جو دو عدالتوں نے فیصلے دیئے۔ عدالت نے فیصلے میں مزید تحریر کیا ہے کہ ایف آئی اے نے پاکستانی کرنسی تو واپس کردیئے مگر 17کروڑ کی غیر ملکی کرنسی اب تک واپس نہیں کی۔ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ مدعی کو فوراً رقم واپس کی جائے اور اس فیصلے کی کاپی ڈائریکٹر زون I، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نارتھ اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو بھی روانہ کردی جائے۔

ملک بھر سے سے مزید