• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نون لیگ اپنے مفرور لیڈران کے بارے میں بات کر رہی ہے، شہزاد اکبر

وزیرِ اعظم  عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا پاکستان مسلم لیگ نون کی قیادت سے متعلق کہنا ہے کہ جب یہ ملک سے باہر چلے جائیں گے تو اس کیس میں 14 ملزمان کا مقدمہ نہیں چل سکے گا، نون لیگ اپنے ان لیڈران کے بارے میں بات کر رہی ہے جو مفرور ہیں۔

شہزاد اکبر نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے ہمراہ نیوز کافرنس کے دوران مسلم لیگ نون سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ کرپشن کا کوئی ثبوت اور الزام نہیں ہے، آمدن سے زائد اثاثوں کا سوال ہمیشہ ایک پبلک آفس ہولڈر پر ہی اٹھتا ہے، کرپشن صرف نوٹ لیتے ہوئے پکڑے جانے پر نہیں ہوتی۔

شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ وہ ناسور ہے جس کے باعث پاکستان آج گرے لسٹ میں شامل ہے، شہباز شریف کے اثاثوں میں اضافہ خاندان کے افراد کے ذریعے ہوتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون والے کہیں گے کہ شہباز شریف نے ٹی ٹی کا پیسہ استعمال نہیں کیا، جوغلط ہے،  گاڑی کی کسٹم ڈیوٹی دینی ہوتی ہے تو نصرت شہباز کے اکاؤنٹ میں ٹی ٹی سے پیسے آتے ہیں، نصرت شہباز کے اکاؤنٹ سے پیسے نکل کر شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں آتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نون لیگ کے کچھ لوگ ہیں جو بار بار عوام کو گمراہ کرنےکی کوشش کرتے ہیں، عطاء تارڑ پی ایس او تھے اور اب کہتے ہیں کہ میں وکیل ہوں۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو عدالت کو حقیقت پر مبنی سچائی بتانی چاہیئے تھی، مسلم لیگ نون کو عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کرانا چاہیئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں کہ شہزاد اکبر کاغذ لہراتے ہیں، ثبوت کہاں ہیں، شہباز شریف کے خلاف دستاویزی ثبوت عدالت میں پیش کریں گے، 55 والیوم شہباز شریف کےخلاف عدالت میں ریفرنس کے ساتھ دائر ہیں، یہ ہیں وہ ذرائع جو آپ بتانے سے قاصر ہیں لیکن میرے پاس ہیں۔

شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ یہ ہیں وہ ثبوت جن پر عید کے بعد ٹرائل آگے چلے گا۔

انہوں نے کہا ہے کہ عدالت نے شہباز شریف کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا، عدالت کے سامنے حکومت بھی اپنا مؤقف لے کر جائے گی، حکومت شہباز شریف کی ضمانت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا سوچ رہی ہے۔

قومی خبریں سے مزید