• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: محمد خا ن ابڑو (کراچی)

 بینظیر اور ذوالفقار علی بھٹو جیسے رہنما قوموں کو صدیوں بعد ملتے ہیں ۔ ہماری بد قسمتی دیکھیں ہم نے دونوں کے ساتھ کیا کیا؟ ملک کو ایٹمی طاقت بنانے والے یہ دونوں رہنما زندگی میں جن حالات سے گزر کر موت تک پہنچے ان پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ آج ہم ہندوستان کو آنکھیں دکھانے کے قابل ہوئے ہیں تو اس کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے سر پر ہے۔ اور شاید دونوں کو اس کی سزا بھی مل چکی ہے۔ شہید بینظیر بھٹو کو 26 دسمبر 2007 کی رات اس وقت کے ڈی جی آئی ایس بتا چکے تھے کہ کل آپ پر حملہ ہونا ہے آپ محتاط رہیں مگر بینظیر بھٹو تو بھٹو کی بیٹی تھی اور بھٹوز کو کہاں موت سے ڈر لگتا ہے؟ 

مگر بحیثیت قوم ہم نے بھٹوز کے ساتھ اور بلخصوص محترمہ شہید بینظیر بھٹو کے ساتھ ان کی زندگی اور شہادت کے بعد جو کیا وہ ناقابل معافی ہے۔ شہید بینظیر بھٹو کو یہ علم تھا کہ وہ نشانے پر ہیں اس حوالے سے انہوں نے سابق آمر پرویز مشرف کو خط بھی لکھا اور جو جواب ملا وہ بھی کوئی خفیہ نہیں کیونکہ پرویز مشرف نے شہید بینظر بھٹو کہہ دیا تھا کہ انکی سیکورٹی کا دارومدار ان کے پرویز مشرف سے تعلقات پر ہے۔ 

بہرحال ہم نے بحیثیت معاشرہ اور ریاست دونوں نے محترمہ شہید بینظیر بھٹو کی حفاظت کے لئے کوئی قدم نہ اٹھایا کیونکہ جب ریاست کو معلوم تھا کہ ان پر حملہ ہونا ہے اور انہیں ہر حالت میں شہید کیا جانا ہے تو لیاقت باغ جلسے کے بعد لوگوں کے ہجوم کو اس گیٹ پر کیوں جمع ہونے دیا جہاں سے شہید بینظیر بھٹو کو واپس جانا تھا اور دوسری طرف ا نکے ساتھ بیٹھی ناہید خان کو بھی علم تھا اور مخدوم امین فہیم کو بھی کہ ان پر حملہ ہو سکتا ہے اور جلسے کے بعد انہیں گاڑی سے باہر نکالتے وقت کیوں نہ روکا گیا؟ 

کیونکہ ایسا نہ تھا کہ ناہید خان اور مرحوم مخدوم امین فہیم انہیں روکتے اور ان کی بات نہ مانتی مگر دونوں رہنمائوں کے حد درجے کی لاپروائی کی۔ پرویز مشرف حکومت اور پنجاب حکومت نے انہیں نہ ہونے کے برابر سیکورٹی دی ورنہ سابقہ وزیر اعظم تھیں ریاست چاہتی تو ان کے ہمراہ کمانڈوز تعینات کئے جا سکتے تھے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا ایک وی وی آئی پی کو نہایت ناقص سیکورٹی دیکر انہیں دہشت گردوں کےرحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا رہی بات شہید بینظیر بھٹو کے ہمراہ جانثاران بینظیر کی تو وہ نوجوان اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر شہید بینظیر بھٹو کی حفاظت کے لئے پہرہ دیتے مگر ان نوجوانوں کے پاس سیکورٹی کی نہ ہی ٹریننگ تھی اور نہ تجربہ وہ تو خود شہید بینظیر بھٹو کی ایک جھلک دیکھ کر خوشی کی تاب نہ لاتے ہوئے سیکورٹی چھوڑ کر رقص کرتے نظر آتے تھے، سیکورٹی انچارج رحمان ملک خود بھی جائے وقوعہ سے غائب ہو گئے کیونکہ جس گاڑی میں وہ موجود تھے اس کے آس پاس لاشوں کے ڈھیر میں شائد گاڑی شہید بی بی کی گاڑی کے پیچھے رکھنا آسان نہ رہا تھا خیر بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہونا یہ چاہئے تھا کہ انہیں عدالتیں انصاف مہیا کرتیں مگر یو این رپورٹ میں سب کچھ واضح ہونے کے بعد بھی بینظیر بھٹو کے مبینہ حقیقی قاتل آزاد ہیں اس کیس کے گواہ بھی گواہی سے انکاری ہو گئے اوراس طرح ایک عظیم لیڈر کا قتل آج تک حل نہ ہو سکا پے قاتل اتنا طاقتور ہے کہ اس کا کچھ نہیں بگڑ سکتا۔

آصف علی زرداری جانتے تھے کہ پاکستان میں شہید بینظیر بھٹو کی تحقیقات درست انداز میں ہونا ناممکن ہے کیونکہ طاقتور نے اپنے پنجے ہر جگہ گاڑ رکھے تھے اس لئے تحقیقات یو این او سے کروائی گئی لیکن مقامی سطح پر جس طرح اس تحقیق کے نتیجے میں نتائج کا حصول ممکن تھا اور اتنا ہی ناممکن رہا ، شاید مقدمے کی پیروی کرنیوالے بھی دھمکیوں کے زیر اثر رہے بہرحال اس علم ناک موت کے سبب کا تعین نہ کر پانا پورے معاشرے پر کالا داغ ہے، شہید بینظیر بھٹو کو انصاف دینا ریاست کی تو ذمہ داری تھی لیکن جو لوگ پابند تھے کہ انہیں انصاف دیتے انہوں نے بھی گزشتہ چودہ سالوں سے اپنی آنکھوں پر کالی پٹی باندھ رکھی ہے۔

اکثر جیالے اور پاکستان پیپلزپارٹی کے وہ مخالف یہ بات کہتے پائے جاتے ہیں کہ بینظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو حالات ایسے نہ ہوتے۔ پی پی پی کے مخالف جنہوں نے کبھی اس جماعت کو ووٹ نہیں دیا وہ بھی یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کا قتل پاکستان کا ہی نہیں پورے خطے کا قتل ہے ، وہ زندہ ہوتیں تو حالات یکسر مختلف ہوتے تو چلیں فرض کرتے ہیں کہ شہید بینظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو پاکستان کیسا ہوتا، بینظیر بھٹو کو اندازہ تھا کہ آنے والے سال بلوچستان کے لئے تلخ ہونگے ، انہیں شاید علم تھا کہ بھارت بلوچستان علیحدگی پسندوں کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرے گا، اس لئے انہوں نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر بلوچستان پہنچ کر بلوچ قوم پرستوں سے ملاقاتیں کیں تاکہ جمہوریت کی بحالی کے بعد بلوچ رہنمائوں کو ساتھ ملا کر دشمن ملک کے عزائم کو خاک میں ملایا جائے۔ 

بینظیر بھٹو اگر زندہ ہوتیں تو افغانستان میں حامد کرزائی کیساتھ ملکر پاک افغان دوستی کو ایک نئی راہ پر ڈال چکی ہوتیں کیونکہ حامد کرزائی سے ان کے تعلقات ڈھکی چھپی بات نہیں اور شاید آج افغانستان کے حالات یکسر تبدیل ہوتے اور دونوں ملکوں میں کئی سال رہنے والی تلخی کئی سال پہلے ہی ختم ہو چکی ہوتی، بینظیر بھٹو اگر زندہ ہوتیں تو دنیا میں ہمارا مقام کچھ اور ہوتا، ہم پر سالوں ڈبل گیم کا الزام کبھی نہ لگتا کیونکہ بینظیر بھٹو جو رتبہ عالمی سطح پر تھا وہ پھر کس کو میسر آیا؟جس موقف کو دنیا ہم سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے ، اپنے نوجوان اپنے فوجی دہشت گردی کی جنگ میں شہید کرا کر بھی دنیا کو ہم اپنا کردار نہ منوا سکے لیکن بینظیر بھٹیو زندہ ہوتیں تو مذہبی نتہا پسندی کو نہ صرف ہم شکست دے چکے ہوتے بلکہ دنیا ہمارا موقف تبدیل کرنے پر مجبور ہوتی، پاکستان پر طالبان اور انتہا پسندوں کے پسے پردہ مدد کا الزام لگنے کی نوبت نہ آتی اگر وہ زندہ ہوتیں۔

بینظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو آج پاکستان ہی نہیں افغانستان کے حالات بھی مختلف ہوتے، پاکستان کو آج جس طر ح کے گیس بحران کا سامنا ہے وہ بھی پاکستان ایران مشترکہ گیس پائپ لائن سے حل ہو چکا ہوتا اور محترمہ بینظیر بھٹو کے پاکستان میں اقتدار کی بدولت شاید ہندوستان میں بھی حالات مختلف ہوتے یہ بھی ممکن تھا کہ بینظیر کے اقتدار میں ہوتے ہوئے پڑوسی ملک میں بھی کوئی خاتون طاقت کا محور بن کر سامنے آتی اور پاکستان ہندوستان کے حالات یکسر مختلف ہوتے یہ ہی نہیں پاکستان کو عالمی سطح پر جس تنہائی کا شکار کیا جا رہا ہے وہ بھی ناممکن تھی کیونکہ بینظیر بھٹو کے روابط عالمی سطح پر کسی بھی بھارتی رہنما سے زیادہ تھے، بینظیر کا سیاسی قد عالمی سطح پر کسی بھی بھارتی رہنما سے زیادہ بڑا تھا۔

مختصر یہ کہ ہم نے بینظیر کا قتل نہیں کیا ہم نے پاکستان کے مستقبل، پاکستان کی ترقی کا قتل کیا اور آج بد قسمتی سے ہم یہ ہی کہہ سکتے ہیں کاش بینظیر زندہ ہوتی، ان کے قاتلوں کے سہولت کاروں کو خوب اندازہ تھا کہ بینظیر کا قتل مستقبل میں کسی تباہی کا شاخسانہ بن سکتا ہے اور شاید یہی وجہ تھی کہ پرویز مشرف انہیں بار بار باور کراتے رہے کہ سیکورٹی چاہئے تو پھر وہی کرناہو گا جو وہ چاہتے ہیں لیکن بھٹو کی بیٹی کے خون میں انکار شامل تھا، انہیں آمروں سے لڑ کر مرنا تو سکھایا گیا مگر سر جھکانا نہیں اور یوں مشرق کی بیٹی سر کٹا گئی ، کاش وہ زندہ ہوتی۔