• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچوں کی ذہنی صلاحیتیں بڑھانے والی سرگرمیاں

سائنس سے لگاؤ پیدا کرنے میں عمر کی کوئی قید نہیں ہے۔ آپ کا بچہ قدرتی طور پر سائنس کے حوالے سے متجسس ہے یا پھر وہ ہچکچاہٹ کا شکار ہے، یہ آپ گھر میں ہی کچھ تفریحی اور سائنسی سرگرمیوں کے ذریعے جان سکتے ہیں۔ اگرچہ چھوٹے بچے جدید سائنسی تصورات کا ادراک نہیں کرسکتے، تب بھی آپ کو ان کی روزمرہ زندگی میں STEMاور اس کے تجربات کو شامل کرنا چاہیے۔ 

یہ سرگرمیاں آپ کے بچے کے تجسس کو بڑھائیں گی، انھیں تفریح ​​فراہم کریں گی اور دنیا کے کاموں کے بارے میں سبق دیں گی۔ کچھ سرگرمیوں میں جذبات و حسیات اور عمدہ موٹر اسکلز کو بڑھانے کی اضافی خصوصیات ہوتی ہیں۔ آج کے مضمون میں ایسی ہی چند سرگرمیوں کا ذکر کیا جارہا ہے، جو یقیناً آپ کے بچے کے لیے دلچسپی کا باعث بنیں گی۔

مِلک پینٹنگ

یہ سائنسی تجربہ بصری طور پر سیکھنے اور خود اپنے ہاتھوں سے چیزیں کرنے کے شوقین بچوں کو حیرت میں ڈال دے گا۔ ایک پلیٹ یا پیالے کو دودھ سے بھریں (زیادہ چکنائی والا دودھ بہترین کام کرتا ہے) اور اس میں فوڈ کلرز کے کچھ قطرے شامل کردیں۔ فوڈ کلرز ملانے میں احتیاط کریں ورنہ دودھ بھورے رنگ کا ہوجائے گا۔ 

اس کے بعد روئی یا ٹوتھ پِک کو صابن میں ڈبوئیں اور پھر اپنے بچے کو کہیں کہ وہ اسے دودھ میں گھمائے۔ ایسا کرنے سے ماربل کا تاثر ابھرے گا اور بچہ اسے دیکھ کر یقیناً خوش ہوگا۔ اس محلول کو ایک خوبصورت پینٹنگ بنانے میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بس ایک کاغذ لیں اور اسے دودھ کے محلول میں ڈبو کر خشک ہونے کے لیے لٹکا دیں، سوکھنے پر آپ کے پاس ایک خوبصورت پینٹنگ ہوگی۔

تیل اور پانی

اپنے بچے کو سائنسی تجربے کے ذریعے سکھائیں کہ تیل اور پانی آپس میں نہیں ملتے۔ اس کے لیے فوڈ کلرز کو چند کھانے کے چمچ تیل میں ملائیں۔ اب ایک گلاس پانی لیں اور اس میں یہ مرکب ڈال دیں۔ تیل (جس میں پانی سے کم کثافت ہے) پانی کے اوپر رہے گا جبکہ فوڈ کلرز (جس میں پانی کی وجہ سے زیادہ کثافت ہوتی ہے) نیچے چلے جائیں گے۔ جیسے ہی کلرز نیچے جائیں گے تو یہ رنگین بارش کا سماں پیدا کردے گا۔ اس عمل سے بچے کو کثافت (Density) کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا۔

پوشیدہ سیاہی

اس انوکھے سائنسی تجربے کو کرنے کے بعد آپ کا بچہ خود کو سیکریٹ ایجنٹ سمجھے گا۔ پیالے میں ایک چمچ پانی کے ساتھ ایک لیموں کا رس نچوڑیں۔ اپنے بچے کو کہیں کہ وہ پینٹ برش یا روئی کو لیموں کے اس مرکب میں ڈبو کر کاغذ پر کوئی پینٹنگ بنائے۔ سوکھنے کے بعد بھی اسے نہیں دیکھا جاسکتا، تاہم سورج کی روشنی یا کسی لائٹ بلب کے قریب یہ پینٹنگ ظاہر ہوجائے گی۔ جب لیموں کے رس کو گرمائش ملتی ہے تو وہ آکسیڈیشن کی وجہ سے بھورے رنگ کا ہوجاتا ہے۔

ہوم میڈ سلائم

گھر پر سلائم تیار کرنا کسی بھی بچے کے لیے دلچسپی سے خالی نہیں ہوسکتا۔ ویسے تو سلائم بنانے کی کئی ترکیبیں موجود ہیں، تاہم سب سے مقبول ترکیب پر عمل کرنے کے لیے ایک گلو کی بوتل، آدھا چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا اور ڈیڑھ کھانے کا چمچ کانٹیکٹ سلوشن لیں۔ ان تمام اجزاء کو ملالیں (اگر آپ چاہیں تو اس میں گلیٹر اور فوڈ کلرز بھی شامل کیے جاسکتے ہیں)۔ 

سلائم کو لچکدار بنانے کے لیے اس میں گرم پانی ڈالیں جبکہ خشک سلائم بنانے کے لیے اس میں کارن اسٹارچ مکس کریں۔ تیار ہونے کے بعد اس سے مختلف اشکال بنانے کے لیے بچے کی حوصلہ افزائی کریں۔ دیکھیں کہ کیا وہ اس کو چپٹا کرتا ہے، رول کرتا ہے، پھیلاتا ہے یا اسے گیند کی شکل دیتا ہے۔ سلائم سے کھیلنا ایک حسیاتی تفریح ہے اور اس سے موٹر مہارت بڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

سِنک یا فلوٹ؟

ایک بڑے کنٹینر کو پانی سے بھریں۔ یہ بچوں کا سوئمنگ پول، باتھ ٹب، اسٹوریج کنٹینر وغیرہ میں سے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ پھر مختلف کثافت والی اشیا لیںجیسے کہ اسٹک، پتھر، سکے، نہانے کے کھلونے، پتے، ماربل، کارک، اسپنج، ربڑ بینڈ اور واٹر پروف کھلونے وغیرہ۔ اپنے بچے کو ہر چیز پانی میں ڈالنے کا کہیں تاکہ وہ مشاہدہ کرے کہ کون سی شے ڈوبتی ہے اور کون سی پانی کے اوپر تیرتی ہے۔

سکّوں کی صفائی

اگرچہ بچے کیمیائی رد عمل کو نہیں سمجھتے مگر ان کے لیےیہ تجربات دیکھنے میں دلچسپ ہوتے ہیں۔ بچے کو عام گھریلو اشیا سے گندے ہونے والے سکّے صاف کرنا سکھائیں۔ اس کے لیے ایک گلاس میں سرکہ اور ایک چائے کا چمچ نمک ڈال کر ملائیں۔ اس کے بعد اپنے بچے کو کہیں کہ گندے سکّےاس محلول میں ڈالے اور کچھ منٹ کے لیے انہیں ملائے۔ پھر سکّے نکال کر انہیں دھونے کا کہیں، بچے چمکتے سکّے دیکھ کر یقیناً خوش ہوں گے۔

موسیقی کی دُھن

بچوں کو موسیقی کی دُھن سمجھانے کے لیے چند گلاس لیں اور انہیں مختلف مقدار میں پانی سے بھردیں۔ بچے سے کہیں کہ چمچ کو گلاس پر مارے، اس طرح وہ جلد سیکھے گا کہ پانی سے گزرنے والی آواز کی لہروں کی بدولت ہر گلاس ایک مختلف آواز پیدا کرتا ہے۔ بھرے ہوئے گلاس بھاری آواز پیدا کرتے ہیں جبکہ خالی گلاس سے اونچی آواز آتی ہے۔