• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد اسلام

لاک ڈائون کو کئی روز گزر چکے تھے اب تو ایک ایک کرکے کھانے پینے کی تمام اشیا ختم ہوتی جا رہی تھیں جو بھی ایک پرائیوٹ اسکول میں پندرہ ہزار ماہانہ تنخواہ پانے والے استاد کے گھر اشیائے خورد و نوش کا بھلا کتنا ذخیرہ ہو سکتا ہے اس قلیل آمدنی جمع شدہ معمولی رقم بھی اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ثابت ہوئی اس دوران اسکول انتظا میہ سے رابطہ کیا تا کہ کچھ رقم کا بندوبست ہو جائے مگر صاحب وہاں سے جوا ب ملا لاک ڈائون کے بعد دیکھیں گے دونوں بچے بھوک سے بلبلا رہے تھے خاص طور پر چھوٹے بیٹے کو دودھ کی سخت ضرورت تھی۔

میں سفید پوش آدمی ہوں اسی لئے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا بیوی راحیلہ کے مشورے پر چند دوستوں سےرابط کیا انھوں نے کہا کورونا وائرس پھیلا ہوا ہے گھر رہو تو بہتر ہے معذرت ان کی باتیں سن کر شائد مجھے اتنا دکھ نہیں ہوا جتنا مجھے اپنی سفید پوشی کا بھرم ٹوٹنے پر ہوا میں خوددار انسان ہوں اس صورت حال نے میرے اندر توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ 

اس دوران چھوٹے بیٹے کی بھوک سے رونے کی آوازیں پھر میری سماعت سے ٹکرائیں میں آبدیدہ ہو گیا میں نے سوچا دوسروں کے بچوں کو تعلیم دے کر انھیں اعلی عہدوں پر پہنچانے والا استاد آج اپنے بچے کے لئے دودھ کا انتظام کرنے سے بھی قاصر ہے یہ سوچ کر میں اضطرابی کیفیت میں ٹہلنے لگا اس دوران میں نے ایک فیصلہ کرلیا میں اپنے بچے کو بھوک سے مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا لہٰذا میں لاک ڈائون کے دوران کسی سے بھیک مانگ لوں گا میں نے مایوسی سے سو چا اب مجھے سفید ہوشی کا چولا اُتارنا ہی پڑے گا۔وقفہ ہوتے ہی میں بازار کی طرف نکل گیا وہاں میں نے بہت سے گداگروں کو دیکھا میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا نے کی ہمت نہیں کر پارہا تھا گداگر بھی مجھے گھور کر دیکھ رہے تھے میں آنکھیں چرا کر آگے بڑھ گیا شائد لوگ میرا حلیہ دیکھ مجھے بھیک بھی نہیں دے رہے تھے۔ 

اسی تذبذب میں گئی گھنٹے گزر گئے پھر مجھے خیال آیا بھیک مانگنے سے بہتر ہے کسی دکان دار سے ُادھار لے لوں میں نے ایک دودھ فروش سے اپنا مدعا بیان کیا تو اس نے مجھے بری طرح چھڑک دیا اور گرج کر بولا ’’کام دھندہ ہے نہیں اور یہ آئے ہیں ادھار لینے‘‘ ۔اس کے الفاظ میرے کانوں گو نج رہے تھے میں ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہا تھا، مایوسی کے عالم میں گھر لوٹنا ایسا ہی تھا جیسے کوئی پھانسی کا قیدی تختہ دار کی طرف بوجھل قدموں سے چل رہا ہو ابھی گھر کے دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ بیوی کے رو نے کی آواز سنائی دی میں گھبرا کر گھر میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ مردہ بچے کی لاش پر بین کر رہی ہے۔