امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کا ردعمل ہماری توقع سے کم رہا ہے، ہم نے سوچا تھا کہ یہ اس سے دوگنا ہوگا۔
امریکی میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایران پر حملے کے بعد سفارت کاری کہیں زیادہ آسان ہوگئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکا اب ایران کے ساتھ سفارتی حل تک پہنچنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ظاہر ہے اب یہ ایک دن پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے، کیونکہ انہیں بری طرح مار پڑ رہی ہے۔
امریکی صدر نے اپنے واضح اور دھمکی آمیز پیغام میں کہا کہ ایران نے آج سخت حملوں کا اعلان کیا ہے، بہتر ہے وہ ایسا نہ کرے، اگر ایسا کیا تو انہیں ایسی طاقت سے نشانہ بنائیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔
امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے، ایران کے سرکاری میڈیا نے آیت اللّٰہ کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران بھر میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روز کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایران کی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر کی بیٹی، داماد اور نواسی بھی شہید ہوئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ زیر زمین بینکر میں تھے، آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر 30 بم گرائے گئے۔ ایرانی سپریم لیڈر درجنوں ساتھیوں سمیت مارے گئے۔