• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت بجٹ میں منظم ریٹیل سیکٹر کیلئے ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کرے

حکومت بجٹ میں منظم ریٹیل سیکٹر کیلئے ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کرے
طارق محبوب

جنگ رپورٹ

ملک میں اس وقت بڑے کاروبار کو تو تحفظ حاصل ہےحکومت ہو یا بنک سب بڑے کاروباری افراد کو تو سہولتیں اور آسان قرضے دینے کے لئےہرو قت آمادہ دکھائی دیتے ہیںلیکن کروناسے جو سب سے زیادہ شعبہ متاثر ہوا ہے وہ چین سٹور جیسا درمیانہ کاروبار ہے اس سے لاکھوں افراد کا روز گار وابستہ ہے اس پر پہلے ہی ٹیکسز کی بھر مار ہے ایسے حالات میں بجٹ میں اس کاروبار کو مراعات ملنی چا ہئیں۔

اس کاروبار سے وابستہ چین اسٹور ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین طارق محبوب کہتے ہیں کہ ملک میں منظم ر یٹیلرز کا سب سے بڑا تجارتی ادارہ ہے جو کہ ڈائر یکٹرجنرل ٹریڈ آرگنائزیشن وزارت تجارت کے ساتھ رجسٹرڈ ہے اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ منسلک ہے ۔ اس وقت تقریباً پاکستان میں دو سو سے زیادہ برانڈز اس ایسوسی ایشن کا حصہ ہیں منظم ر یٹیل کا شعبہ تقریباً بیس ہزار سے زیادہ ماڈرن دکانوں پر مشتمل جو کہ پاکستان کے تمام بڑے شاپنگ مالز اور ہائی سٹریٹ ریٹیل برانڈز پر مشتمل ہیں ۔

منظم ریٹیل کا شعبہ تقریباً دس لاکھ سے زائد افراد کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کررہاہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ 2 سالوں سے ، چین سٹور ایسوسی ایشن آف پاکستان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ ایک معاہدے پر عمل پیرا ہے تاکہ پورے پاکستان کے منظم ریٹیل کے شعبے کو ڈیجیٹلائز بنایا جائے تاکہ اس کے ملکی معاشی صورتحال پر مثبت نتائج حاصل ہوں ،اس کے علاوہ چین سٹور ایسوسی ایشن آف پاکستان نیشنل ای کامرس کونسل کا بھی حصہ ہے اور ایک اہم ممبر کے طور پر اپنا کردار موثر طریقے سے ادا کر رہا ہے. نیشنل ای کامرس کونسل اکتوبر 2019 میں وفاقی کابینہ کی منظور سے تشکیل دی گئی تھی۔

طارق محبوب نے بتایا کہ حال ہی میں چین سٹور ایسوسی ایشن آف پاکستان نے این سی او سی (نیشنل کمانڈ اور آپریشن سنٹر) کے ساتھ ملاقات کر کے ملک میں کاروبار کی بحالی کےلیے مثبت تجاویز دیں. انکے تعاون سے اپنے ممبران کے ذریعے عوام کو ویکسینیشن پر راغب کرنے کےلیے بھرپور سوشل میڈیا مہم چلائی اور حکومت کو اس بات پرقائل کیا کہ فوری طور پر ملازمین کی ویکسینیشن کی جائے تاکہ محفوظ کاروبار کے تصور کو اجاگر کیا جائے. اس سلسلے میں اس مہم کا آغاز لاہور ڈویژن کی انتظامیہ آئندہ چند روز میں کرنے جارہی ہے . جس میں ہماری بھرپور مشاورت اور معاونت شامل ہے.

ملکی معیشت کے اس شعبہ کےلئے ٹیکس کا موجودہ ڈھانچہ انتہائی مسخ شدہ ہے جس کی وجہ سے ہمارے ملک کا منظم ریٹیل بڑی حد تک غیر تصدیق شدہ ہے. ٹیکس کے ڈھانچے میںمشاورت سے اس شعبے سے ٹیکس محصولات میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہے۔

ہمیں امید ہے کہ حکومت رواں بجٹ میں منظم ریٹیل سیکٹر کے لئے ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کرے گی ، جس کا اعادہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو، چین سٹور ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ساتھ ایک یادداشت کے ذریعے مربوط ہیں ، ہمیں امید ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ میں اس عمل درآمد یقینی بنائیں گی ۔

ملک میں منظم تجارت اور خاص طور پر باضابطہ طبقہ کو اس موقع پر کاروباری ماحول میں غیر مساوی صورتحال کا سامنا ہے. جس کی وجہ سےمنظم ریٹیل سیکٹر کی بقا کو شدید خطرہ ہے. کیونکہ قوت خرید میں کمی کے ساتھ جہاں آبادی کے بہت سارے حصوں میں عارضی طور پر آمدنی کم ہوگئی ہے۔ بہر حال ، شنید ہے کہ اب معیشت بہتر ہے اور ہمیں امید ہے کہ ترقی پر مبنی پالیسی فریم ورک کے تحت ، ٹیکس کے مطابق کاروبار پر زیادہ بوجھ دور ہوجائےگا

منظم ریٹیل کے شعبے کے ساتھ 70 سے زیادہ شعبے منسلک ہیں۔ ہماری مصنوعات / خدمات خام مال کی تیاری ، رنگنے ، پروسیسنگ ، سلائی ، گھریلو صنعت اور پیکیجنگ خصوصی طور پر نمایاں کام کرتی ہیں۔

اس کے علاوہ بہت سارے خدمات فراہم کرنے والے جیسے۔ نقل و حمل ، رسد ، ایچ آر، آئی ٹی ، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ، اشتہار بنانے والے بہت زیادہ منسلک ہے۔ تجارتی تعمیراتی صنعت بھی بڑے پیمانے پر اس شعبے پر انحصار کرتی ہے

انھوں نے کہا کہ منظم ریٹیل (اور ہول سیل سیکٹر) میں براہ راست ملازمت کل افرادی قوت کا 18 فیصد ہے ، یعنی 9 لاکھ افراد اور ان کے اہل خانہ۔ اگر ہر خاندان میں اوسطاًپانچ ممبر ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ 45 ملین افراد پاکستان کے منظم ر یٹیل کے شعبے سے منسلک ہیں۔ منظم شعبہ غیر دستاویزی / غیر رسمی شعبے سے تقریباً پانچ گنا زیادہ خواتین کو ملازمت فراہم کرتا ہے

ہم ایف بی آر کے ساتھ انضمام کے ذریعہ معیشت کی دستاویزات میں سب سے آگے ہیں۔ ہم ملک کی معاشرتی اور معاشی بہبود کے لئے ٹیکسوں کے منصفانہ حصے سے زیادہ شراکت کرتے ہیں۔

طارق محبوب نے مارکیٹ سائز بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ، منظم ر یٹیل سیکٹر قومی جی ڈی پی میں تقریباً 16 فیصد سے زائد کا حصہ ڈالتا ہے ، یعنی تقریباً 7 ٹریلین سالانہ۔ تاہم بین الاقوامی تنظیموں نے اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان کے منظم شعبے کا سائز تعداد تقریبا. 23 کھرب روپے ($ 150 بلین) ہے پچھلے تین سالوں سے ٹیکس کا بوجھ ان کی آمدنی کا تقریباً 21سے -28٪ ہو گیا ہے، جنرل سیلز ٹیکس 12٪ سے 17٪ ٹرن اوور ٹیکس 1.5٪ جبکہ غیر دستاویزی / غیر رسمی رییٹلرز پر ٹیکس ان کی آمدنی کا 0.5-1٪ کے درمیان ہےنقد خرید و فروخت کی وجہ سے سامان پر صفر سے ایک جی ایس ٹی ،یوٹیلیٹی بلوں پر 0 سے 0.1٪ جی ایس ٹی ،یوٹیلیٹی بلوں پر 0 سے 0.1٪ انکم ٹیکس ۔لہذا ، ٹیکس میں 20 سے 25 فیصد کا بڑا فرق موجود ہے جو ایک بہت ہی غیر مساوی ہے اور صارفین کو غیر رسمی ذرائع سے خریدنے کی ترغیب دیتا ہے۔

کورونا کی تیسری لہرنے ملک میں کاروبار اور خاص طور پر باضابطہ کاروباری طبقے کی مشکلات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

کامرس سے مزید