• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خیال تازہ … شہزادعلی
ون نیشن، ون ٹیم، ون گول، یہ نومنتخب ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے سلوگنز میں سے ایک اہم الیکشن سلوگن تھا۔ انقلابی یا مغربی میڈیا کے مطابق سخت گیر یہ یقین رکھتے ہیں کہ نئے صدر 100 فیصد لیڈر شپ سے مطابقت رکھتے ہیں۔ پارلیمنٹ، لیڈر شپ اور جیوڈیشری وہ سب ایک صفحہ پر ہوں گے جس باعث رئیسی بہتر پر فام کر سکیں گے اور سسٹم میں آرڈر لا سکتے ہیں ۔ ان کے حامیوں کو امید ہے کہ وہ صدر حسن روحانی کی دوسری اور آخری میعاد کے دوران جو اگست میں ختم ہوگی حکومت کو دھندلا دینے والی جاری گروہی لڑائی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ تھیوکریٹک سسٹم کے اندر اتحاد جس میں طاقت کے مسابقتی مراکز ہیں اور ہم آہنگی کا قیام خامنہ ای کی ترجیحات سمجھی جاتی ہیں، یہ مقاصد مزید دباؤ ڈالتے چلے گئے ہیں کیونکہ 1980کی دہائی میں ایران ، عراق جنگ کے بعد ایران اپنا سب سے ہنگامہ خیز دور دیکھ رہا ہے۔ امریکی پابندیوں کے سبب پیدا ہونے والا معاشی بحران، مایوس رائے دہندگان اور صدر کے اہم منصب پر ہارڈ لائنرز کی واپسی کے عزم کے باعث 62 فیصد رائے دہندگان نے رئیسی کی انتخابی کامیابی کی راہ ہموار کی البتہ نصف سے زیادہ رائے دہندگان نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا جس کو اصلاح پسندوں نے سول نافرمانی کا ایک نادر عمل قرار دیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ میں 48.8 فیصد ووٹ ڈالنا سب سے کم شرح تھی اور 3.7 ملین لوگوں نے کسی کو بھی ووٹ دینے کے بجائے اپنا ووٹ خراب کرنے کے طریقے کا انتخاب کیا۔جس پر فنانشل ٹائمز کے مطابق ایک ریفارمسٹ کا تبصرہ تھا کہ انتخابات کا پیغام یہ ہے کہ اختلاف رائے کا دھڑا، رائے کے حامیوں سے بہت بڑا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رئیسی کی فتح سے اس بات کے امکانات میں اضافہ ہوا ہے کہ 82 سالہ خامنہ ای سپریم کمانڈر کو یہ ان کے بعد ری پلیس کر سکتے ہیں لیکن صرف اس صورت میں جب وہ ان چیلنجز سےعہدہ برآ ہوسکے جو انہیں ورثہ میں ملے ہیں ان میں ایک ایسی معیشت ہےجو امریکی پابندیوں اور کورونا وائرس کی زد میں ہے ، اور ایک پولرائزڈ معاشرہ جو بدامنی کا شکار ہے۔ پیر کے لندن کے فناشل ٹائمز نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ نئے ایرانی صدر ایک سخت گیر اسلام پسند جج ابرہیم رئیسی نے صدارتی انتخابات میں باآسانی comfortably کامیابی حاصل کی ہے لیکن ان کی فتح کو بھاری قیمت پر حاصل کی گئی کامیابی سے تعبیر کیا ہے کیونکہ بہت سے ووٹرز نے ووٹ نہیں ڈالا اور ان کی لینڈ سلائیڈ وکٹری کو 1979 میں انقلاب اسلامی جمہوریہ کی تشکیل کے بعد سے بدترین بحرانوں میں سے ایک برے بحران کا سامنا ہے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے صدارتی انتخابات کی تاریخ میں 48.8 فیصد ٹرن آؤٹ کم تھا۔ سبکدوش ہونے والے صدر حسن روحانی 2017 میں 24 ملین ووٹوں کے ساتھ دوبارہ منتخب ہوئے تھے۔ جبکہ رئیسی کو 18 ملین ووٹ ملے ہیں آدھے سے زیادہ ایرانیوں نے ان کے مخالف امیدواروں کو ووٹ دیے ہیں۔ ابراہیم رئیسی کو کامیابی پر وزیراعظم عمران خان نے بھی خیر سگالی کا پیغام بھیجا ہے۔ عمران خان نے ابراہیم رئیسی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک ٹویٹ کیا کہ سلامی جمہوریہ ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات میں تاریخی فتح سمیٹنے پر میں برادر ابراھیم رئیسی کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات میں مزید پختگی، علاقائی امن، ترقی اور خوشحالی کےحصول کے لیے میں ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں۔ یہ بھی خیال رہے کہ ابراہیم رئیسی ایران کی عدلیہ کے اعلیٰ منصب پر بھی فائز رہے ہیں اور ان پر ماضی میں سیاسی قیدیوں کی پھانسی دینے جیسے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ایران میں متعدد لوگوں کے خیال میں اس منصب پر ان کی تقرری کا مطلب یہ ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای انھیں آئندہ انتخابات میں کامیاب کرانے کے بھی خواہشمند تھے جبکہ ا براہیم رئیسی کا یہ عزم بھی سامنے آیا ہے کہ وہ بدعنوانی کے خاتمے اور معاشی مسائل کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے ۔
یورپ سے سے مزید