آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جنرل یحییٰ خان کی آمریت کا دور تھا ۔ کراچی میں کچھ طالب علم رہنماؤںکے خلاف سمری ملٹری کورٹ میں مقدمہ چل رہا تھا ۔ سرکاری وکلا کے پاس ان طالب علم رہنماؤں کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں تھے اور مقدمے کی کوئی بنیادبھی نہیں بن رہی تھی ۔ اس کے باوجود ملٹری کورٹ کے سربراہ کی طرف سے ایسی جرح ہو رہی تھی ، جس سے یہ پتہ چل رہا تھا کہ وہ ان طالب علم رہنماؤں کو چھوڑنے کے موڈ میں نہیں ہیں ۔ ایک طالب علم اٹھا اور فوجی عدالت کے سربراہ سے کہاکہ ’’ آپ وقت ضائع نہ کریں ، ہمیں سزا سنا دیں تاکہ سب لوگ جا کر آرام کریں ۔ ‘‘ لمبے بالوں اور تیکھے نقوش والے اس پرکشش طالب علم رہنما کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔ فوجی عدالت نے باقی طالب علم رہنماؤں کوتو رہا کر دیا لیکن اس نوجوان کے لیے حکم دیا کہ وہ پچھلے کیس میں سنائی گئی سزا کی باقی مدت جیل میں گزاریں گے ۔واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی فوجی عدالت سے طالب علم رہنماؤں کو 6 ماہ سے ایک سال قید کی سزا ہوئی تھی۔ یہ طالب علم رہنما ڈاکٹر رشید حسن خان تھے ، جو گذشتہ ہفتہ 30 اپریل کو ہمیں چھوڑ کر راہی عدم ہو گئے ۔ یہ وہ ڈاکٹر رشید حسن خان تھے ، جو جیل کے اندر بھی کامریڈز اور قیدیوں کو جمع کرکے یوم مئی مناتے تھے ۔ اس مرتبہ یوم مئی پر ان کا جنازہ اٹھا اور تدفین ہوئی ۔ان کے انتقال سے دنیا بھرکے

محنت کشوں ، مظلوم طبقات اور قوموں کیلئے انتہائی مضبوط دلیل کے ساتھ بلند ہونے والی آواز ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئی۔ڈاکٹر رشید حسن خان کو پاکستان کے ترقی پسند حلقوں میں انتہائی عزت اور احترام حاصل تھا لیکن ان کی شخصیت بہت پراسرار تھی ۔ طلبا سیاست میں انہوں نے بہت زیادہ سرگرمی سے حصہ لیا اور پورے ملک میںنہ صرف نام کمایا بلکہ سیاست میں بھی ہلچل مچا دی ۔ ایک زمانے میں ڈاکٹر رشید حسن خان کا طوطی بولتا تھا ۔ پھر عملی زندگی میں آئے تو سیاسی طورپر اچانک غیر فعال ہو گئے ۔ ان کے نام سے این ایس ایف کا گروپ چلتا تھا لیکن وہ زیر زمین رہ کر سیاست کرتے رہے ۔ انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ ترقی پسند تحریک کے لیے بہت کام کیا اور قربانیاں بھی دیں لیکن کبھی کوئی سیاسی عہدہ حاصل کرنے کی خواہش کی اور نہ ہی سیاست سے کوئی مالی فائدہ اٹھایا ۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے کئی طالب علم رہنماؤں نے سیاسی جماعتوںمیں بڑے عہدے حاصل کیے اور صوبائی یا وفاقی وزیر بھی بنے ۔ ڈاکٹر رشید حسن خان نے کبھی کچھ حاصل نہیں کیا ۔ ایک وقت تھا کہ وہ پاکستان کے سیاسی منظر نامےپرچھائےہوئےتھے۔ترقی پسند طلبا تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن ( این ایس ایف ) کے وہ پہلے مرکزی صدرتھے ۔اس زمانے میں انہوں نے پاکستان کی ترقی پسند تحریک میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا ۔ انہوں نے دو فوجی آمروں جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کے دور میں زیادہ تر وقت جدوجہد اور جیلوں میں گزارا اور پھر وہ اچانک غائب ہو گئے ۔اس بات کو بہت سے لوگ نہیں سمجھ سکے ہیں ۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ڈاکٹر رشید حسن خان نے کہا تھا کہ جب 1972 میں کراچی میں لسانی فسادات شروع ہوئے تو وہ خود ’’ لوپروفائل ‘‘ میں چلے گئے کیونکہ پاکستان کی سیاست جس طرف جا رہی تھی ، وہ اس کا حصہ نہیں بنناچاہتےتھے ۔ اس کے باوجود بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ سیاست میں بلند مقام اور نام حاصل کرنے کے بعد انہیں عملی سیاست سے الگ نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ وہ کسی بھی پلیٹ فارم پر اپنے نظریہ کے مطابق کام کر سکتے تھے اور اپنا حصہ ڈال سکتے تھے ۔ یہ بات بھی نہیں ہے کہ وہ سماج یا لوگوںسے لاتعلق ہوگئے یا اپنے ترقی پسندانہ نظریات سے منحرف ہو گئے ۔ وہ لوگوں سے بھی جڑے رہے اور اپنے نظریات کےلیے کام بھی کرتےرہے ۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے اور انہوں نے کراچی کے غریب علاقوں میں لوگوں کا مفت یا کم پیسوں پر علاج کرنےکےلیے کلینک کھولے ۔ یہ ان کے نظریہ سے سچی وابستگی کا ثبوت ہے ۔ وہ ترقی پسند حلقوں کی تقریبات میں بھی شریک ہوتے تھے لیکن انہوں نے ان تقریبات میں بھی کبھی نمایاں ہونے کی کوشش نہیں کی ۔ وہ ترقی پسند لوگوں کے ساتھ رابطے میں بھی رہے اوراپنا مطالعہ بھی جاری رکھا لیکن دوبارہ طالب علمی کے زمانے والی ’’ ہائی پروفائل پولیٹکس ‘‘ نہیں کی ۔۔ ڈاکٹر رشید حسن خان سے کئی دفعہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ ان کے ساتھ گفتگو میں یہ اندازہ ہوتا تھا کہ وہ اگرچہ سیاست میں عملی طور پر سرگرم نہیں تھے لیکن وہ ایک سچے ترقی پسند اور نظریاتی کارکن کی طرح کبھی حالات سے لاتعلق نہیں رہے ان کا تجزیہ ان لوگوں سے زیادہ درست ہوتاتھا،جو عملی سیاست میں ہیں۔ ڈاکٹر رشید حسن خان کی شخصیت کا یہ پہلو انتہائی پراسرار ہے ۔ اس پر حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی ایک کافی کا بیت یاد آ رہا ہے ( ترجمہ )
’’ اگرچہ وہ دریا نوش ہیں ۔۔۔
پرجوش ہو کر بھی خاموش ہیں ۔۔۔
اسرار کے سرپوش ہیں ۔۔۔
سامت رہتے ہیں ، کہنیاں مارکر آگے نہیں بڑھتے ۔ ‘‘
جس زمانے میں ڈاکٹر رشید حسن خان طلبا سیاست میں بہت زیادہ سرگرم تھے ، یہ وہ زمانہ تھا ، جب پاکستان کی ترقی پسند قوتیں اصل مقتدر حلقوںکے قہرو غضب کا نشانہ تھیں ۔ ڈاکٹر رشید حسن خان کا کہنا تھا کہ1950 اور 1960 کا عشرہ پاکستان میں فیصلہ کن تھا ۔ بنیادپرست اور انتہا پسند قوتیںپاکستان پر حاوی ہو رہی تھیں اور اسی زمانے میں ترقی پسند تحریک کےپنپنے کے حالات پیدا ہو گئےتھے ۔ وہ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی ترقی پسند قوتوں کا متحدہ محاذبنانےکے حامی تھے ۔ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مغربی پاکستان میں ترقی پسند تحریک کمزور ہو گئی تھی کیونکہ یہاںسے بڑی تعداد میں ترقی پسند سیاسی کارکن ہجرت کر گئے تھے ، جو ہندو اور سکھ تھے ۔ مغربی پاکستان میں جاگیردارانہ سماج اور اقدار کی وجہ سے ترقی پسند تحریک نہ پنپ سکی ۔ ان کے خیال میں کراچی ترقی پسند تحریک کا مرکز تھا کیونکہ اس کا سماجی ڈھانچہ قدرے مختلف تھا ۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ مشرقی پاکستان میں ترقی پسند عناصر بہت مضبوط ہیں ۔ اس طرح مشرقی اور مغربی پاکستان کے ترقی پسند عناصر کا کوئی متحدہ محاذ بن جاتا تو آج پاکستان میں بنیاد پرست اس قدر حاوی نہ ہوتے ۔ ڈاکٹر رشید حسن خان کا یہ تجزیہ نہ صرف معروضی ہے بلکہ اس عہد کے ترقی پسند حلقوں کی بعض کمزوریوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ترقی پسند تحریک کے سیاسی ثمرات حاصل کیے۔ یہ الگ بحث ہے کہ بھٹو نے ترقی پسند تحریک کو ختم کیا یا وہ اپنی کمزوریوںسے غیر مؤثر ہوئی ۔ ڈاکٹر رشید حسن کا خیال تھا کہ بنیادی اسباب اس وقت کی ترقی پسند قیادت کے غلط اندازے تھے ۔ جنرل یحییٰ نے ایک زمانے میں یہ رائے لی تھی کہ کیا کراچی کو وفاقی علاقےکے طورپربحال کر دیا جائے تو رشید حسن خان نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی تھی حالانکہ وہ اس وقت کراچی کی سیاست میں بہت مؤثر بھی تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سندھ کا حصہ رہے گا ۔ کراچی کو الگ کرنے سے باقی سندھ وڈیروں اور جاگیرداروں کے رحم و کرم پر چلا جائے گا اور کراچی سامراجی طاقتوںکے چنگل میں آ جائیگا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ترقی پسند حلقے کمزور ہوں گے ۔ بعد ازاں ترقی پسند لوگ لسانی تقسیم کا شکار ہوگئے لیکن ڈاکٹر رشید حسن خان ان لوگوں میں شامل تھے ، جو اس صف بندی میں نہیں گئے ۔ کاش 1970 ء کے عشرے میں ڈاکٹر رشید حسن خان جیسے لوگ سیاست میں سرگرم ہوتے تو آج پاکستان کا سیاسی دھارا کسی اور طرف بہہ رہا ہوتا کیونکہ ایسے لوگ کسی غرض یا لالچ کیلئے نہیں بلکہ اپنی آدرشوںکیلئے سیاست کرتے ہیں ۔ اگرچہ وہ عملی سیاست میں نہیں تھے لیکن قحط الرجالی کے اس عہد میں ان کا دم بھی غنیمت تھا ۔ یہ عہد ایک اور عظیم انسان سے محروم ہو گیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں