کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق شیخ نے کہا کہ امریکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں جو تشویشناک صورتحال پیدا ہورہی ہے وہ پاکستان کیلئے سب سے زیادہ تشویشناک ہے، افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی جاری ہے، دعویٰ کیا جارہا ہے کہ طالبان نے 160سے زائد اضلاع پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے،ایسے میں جو افغان فورسز ہیں ان کی کیا صلاحیت ہے، سب سے اہم افغان عوام کی امنگوں کے مطابق حکومت کا قیام عمل میں کس طرح آئے گا، ترجمان طالبان سہیل شاہین کہتے ہیں ان کا نظریہ ہے ایک پارٹی افغانستان میں پرامن طریقے سے حکمرانی نہیں کرسکتی اس لئے حکمرانی کا مذاکراتی حل چاہتے ہیں، لیکن کیا طالبان کا جو ایک کانسیپٹ ہے افغانستان میں حکمرانی اور نظام سے متعلق کیا وہ اس سے پیچھے ہٹیں گے، ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا طالبان کی حکمرانی میں افغانستان میں عملی جمہوریت قائم ہوسکتی ہے؟ صافی صاحب ؟ سلیم صافی: میرا جواب نہیں میں ہے،طالبان جو نظام اپنے لیے پسند کریں گے وہ پاکستان کے لئے بھی پسند کریں گے،طالبان کے ہاں ہماری طرح کی کوئی منافقت نہیں ہے۔سلیم صافی نے کہا کہ پاکستان کی اپنی بہترین کوششوں کے باوجود طالبان جمہوری سیٹ اپ کا حصہ بننے کے خواہشمند نہیں ہیں،پاک فوج کی قیادت ، آئی ایس آئی نے اپنی تمام کوششیں بشمول مذہبی علماء سے گفت و شنید اور دیگر ذرائع سے دبائو کے طریقے استعمال کئے لیکن طالبان اپنا وہی پرانا سیٹ بحال کرنا چاہتے ہیں،پروگرام کے دیگر شرکاء ریما عمر اور حسن نثار نے سلیم صافی کے نکتہ نظر کی تائید کی جبکہ حفیظ اللہ نیازی افغانستان میں جمہوریت کے متعلق پر امید ہیں۔ ریما عمر: افغانستان جمہوری ملک نہیں بن سکتا۔ حسن نثار: پاکستان نہیں وہ کیسے بن جائے گا، ان کے تو ڈی این اے میں ہی نہیں ہے۔ حفیظ اللہ نیازی: بالکل بن سکتا ہے، نہ بنا ہے تو اس کی بھی کوئی وجہ ہوگی اور نہ بننے دیا گیا تو بھی وجہ ہوگی، طالبان نے یہ چیز خون لے کر اور خون دے کر لی۔ علینہ فاروق شیخ : آپ کس بنیاد پر نہیں کا جواب دے رہے ہیں؟ سلیم صافی: اس وقت ہمارے وزراء جو الٹے سیدھے بیانات دیتے ہیں انہیں افغانستان کی صورتحال کی الف ب کا پتا نہیں ہے، اسلام آباد کلب میں بیٹھ کر یا لاہور کے جیمخانہ میں بیٹھ کر طالبان کے نظام کی تعریفیں کرنا اور وہاں کے جو قصے فیڈ کیے جاتے ہیں ان کو یہاں سنانا آسان کام ہے لیکن ہم نے طالبان کے پچھلے دور کو بھی دیکھا ہے، اس وقت بھی طالبان کو اندر باہر سے جانتے بھی ہیں، ان لوگوں کی آنکھیں کچھ دنوں بعد کھل جائیں گی، مستقبل میں جو ہوگا وہ ہوگا لیکن تین چار دنوں میں بھی پاکستان کے اندر جو پالیسی شفٹ آئے گا اور وزراء کی زباں بندی ہوگی وہ بھی ان کو یہاں پر پتہ چل جائے گا، طالبان کے ہاں ہماری طرح کی کوئی منافقت نہیں ہے،طالبان جو نظام اپنے لیے پسند کریں گے وہ پاکستان کے لئے بھی پسند کریں گے، سب لوگوں کو پتا چل جائے گا یہاں پر کیا ہورہا ہے، یہ تو ادھر رپورٹ نہیں ہوتا، ہمارے میڈیا کو تو حریم شاہ سے ، ایک ہیلی کاپٹر میں منگنی سے اور فردوس عاشق اعوان اور ان کی لڑائیوں سے فرصت نہیں ہے، آج بھی سرزمین پاکستان پرا گر اس کو کوئی مانتا ہے تو پرسوں ایک سابق طالبان کمانڈر ہے اس نے پانچ بندے اغوا کیے تھے، ان میں سے کل ایک کا سر کاٹ دیا گیا ہے، ایک تو آگے جو کچھ ہونے جارہا ہے وہ پتا چل جائے گا، دوسری بات یہ ہے کہ ایک سال سے طالبان اور حکومت کے نمائندے قطر میں بیٹھے تھے، طالبان یہ کہتے ہیں ہماری امارت کو اسی شکل میں بحال کردو ہم اس میں آپ کو حصہ دیں گے، افغان حکومت یہ کہتی تھی کہ ہم اپنی آئینی اور جمہوریت حکومت میں آپ کو اکاموڈیٹ کرتے ہیں، ایک رتی بھرا س میں پیشرفت نہیں ہوسکی، آگے جب وہ فاتح بن کر ابھریں گے تو کیسے کسی اور کو جگہ دیں گے، کل کے انٹرویو میں بھی آپ دیکھیں جب وہ امارات اسلامی پر اصرار کرتے ہیں تو اس امارات اسلامی کی ان کی definition اور ساری چیزیں ہم نے ان کی زبانی سنی بھی ہیں اور دیکھی بھی ہیں اس میں جمہوریت اورا ن چیزوں کی گنجائش نہیں بنتی، ہم میں سے اگر کوئی اپنے آپ کوبیوقوف بنانا چاہتا ہے تو بنالے لیکن یا طالبان کا نظام ہوگا یا پھر جس کو ہم جمہوریت کہتے ہیں یا جمہوریت ہوگی۔علینہ فاروق شیخ : حسن صاحب؟ حسن نثار: صافی صاحب کا جواب ہی جواب ہے اور یہ خود بھی لاجواب ہیں، اس کے علاوہ اس کا ہر جواب لنگڑا لولا پولیو زدہ ہوگا،آپ کو جمہوریت کے نام پر ڈرامہ کرتے ہوئے 73سال ہوگئے، جمہوریت تو یہاں نہیں ہے، کچھ مخصوص لوگوں کا ایک کلب سا بنا ہوا ہے، یہ اپروچ اگر ایک قدم اور آگے جاتی ہے تو خونریزی، فتنہ فساد سے شاید نسبتاً ،coexistence ورنہ no existence اور یہ ادھر ہی ہے، صافی صاحب نے بڑی خوبصورت مثال دی ہے ، اس معاملہ میں طالبان پاکستان کیلئے بھی وہی typical جو definition ہے مومن کی کہ جو میں اپنے لیے پسند کروں حفیظ اللہ نیازی صاحب کیلئے بھی کروں، اس کیس میں وہاں وہ سوفیصد، سبحان اللہ صافی صاحب، آپ شارٹ اسٹوریز لکھنا شروع کریں، یہ کیا جرنلزم۔ علینہ فاروق شیخ : حفیظ اللہ نیازی صاحب؟ حفیظ اللہ نیازی: طالبان آج جہاں کھڑے ہیں یہ ان کو تحفے میں چیز نہیں ملی، طالبان نے یہ چیز خون لے کر اور خون دے کر لی ہے، عملاً طالبان کو پتا ہے کہ آگے کا نظام جو چلانا ہے کیونکہ پہلی دفعہ وہ مارکھاچکے ہیں، ان کے سامنے ایک lesson ہے، سلیم صافی کے ساتھ میں انٹرویو سن رہا تھا، ان کے جو ترجمان تھے وہ کہتے تھے ہم نے رہنمائی لینی ہے قرآن سے اور سنت سے، اس سے باہر نہیں جائیں گے ہمارے مفتی بتائیں گے، قرآن و سنت میں تو شورائی نظام ہے، خلیفہ اول سے لے کر آخر تک جو خلفائے راشدین ہیں ان کو بھی شوریٰ نے کیا، جیسے جیسے اس کا نظام ہے اس کو آج کل سب لوگ کہتے ہیں جمہوری نظام ہوگا، جب وہ کہتے ہیں ہم خیال جماعتوں میں کریں گے تو میرا خیال ہے اس میں ہمارے سمجھنے میں سقم ہے، میں سمجھتا ہوں ان کی ہم خیال جماعتوں سے مراد اشرف غنی نہ آئیں، کیونکہ افغانستان میں اس وقت خانہ جنگی ہورہی ہے، یہ خانہ جنگی ابھی اس طرح خونی نہیں ہے جتنے اس کے ہونے کے امکانات ہیں، ان کا ہم خیال کا مطلب ہے اور بھی کئی جماعتیں ہیں جیسے حکمت یار ہیں جو ہم خیال ہوں ،جو ایڈجسٹ کیے جاسکے، جو اس طرح انسٹال نہ ہو جو امریکا نے کیے ہیں، امریکا افغانستان میں جو صورتحال چھوڑ کر جارہا ہے اس کی خواہش اور کوشش ہے جس کیلئے انہیں پاکستان سے بھی راہداری چاہئے کہ افغانستان میں خانہ جنگی کو ہوا دی جاسکے اور اس کی خانہ جنگی پاکستان کو خودبخود undermine کرے گی، سلیم صافی اپنے کالمز میں بھی کئی دفعہ لکھ چکے ہیں، مجھے اس سے زیادہ کا ڈر ہے، یہ جمہوریت کی جو چیز ہے اللہ کرے ہوجائے، پتا نہیں آتی ہے یا نہیں آتی یا امریکا آنے دیتا یا نہیں دیتا لیکن جس جگہ انہوں نے چند جگہ طالبان کو اکٹھا کر کے اتنا لیتھل ایکشن کرنا ہے کہ بہت زیادہ خون ہوگا، آج تک پچاس ہزار طالبان مارے گئے ہیں، میرا خیال ہے اگلے چند ہفتے اور چند دن بہت بھاری گزرنے ہیں۔ علینہ فاروق شیخ : ریما؟ ریما عمر: افغانستان کا آئین کہتا ہے کہ ملک پر جو بھی حکمرانی کرے گا وہ ووٹ کے ذریعہ حکمرانی کرے گی، یہ جمہوریت کی بنیادی تعریف ہے اور افغانستان کے آئین نے جس طرح ان کی جمہوریت کو define کیا ہے، کیا طالبان اس پر پورا اترتے ہیں؟ کیا وہ مانتے ہیں وہ ووٹنگ کے ذریعہ حکمرانی کریں گے؟ فی الحال تو ایسا نہیں لگتا، انہوں نے جس طرح افغانستان میں کچھ ڈسٹرکٹس پر قبضہ کیا ہے وہ تو انہوں نے زورزبردستی کے ذریعہ کیا ہے، وہ وہاں جس طرح کے نظام کی کوشش کررہے ہیں اس میں کچھ جمہوری نہیں لگتا، پہلی بات تو یہ ہے کہ جیسے صافی صاحب نے کہا کہ کچھ ہمارے حکمران ہیں جو کہہ رہے ہیں افغان طالبان بدل گئے ہیں لیکن ان کے عملی رویے سے یہ تبدیلی نظر نہیں آتی،دوسری بات میں خاص طور پر کرنا چاہوں گی خواتین اور بچوں کی۔ یہ پہلے بھی بہت ایشو رہا تھا اور اب بھی افغانستان میں خواتین کے حقوق کی تنظیمیں اس پر بہت سوال اٹھارہی ہیں کہ جس طرح کا بھی سسٹم ہوگا اس میں خواتین، بچیوں کا کیا حصہ ہوگا، ان کے کیا حقوق ہوں گے، جو حکام طالب ہے وہ پہلے بھی جس طرح ان کیbrutality تھی، وہ کہتے تھے یہ اسلامک ہے، ابھی وہ کہہ رہے ہیں جو بھی نظام ہوگا اسلام کے مطابق ہوگا لیکن مسئلہ تشریح کا ہے کہ وہ تشریح کون کرے گا، کون وضاحت کرے گا کہ ان کی نظر میں اسلام کیا کہتا ہے کیونکہ افغان طالبان نے اسلام کے نام پر بہت بہت injustice ہے خواتین کے خلاف خاص طور پر، بچیوں کے خلاف خا ص طور پر کیے ہیں، ان دونوں چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے میرا نہیں خیال کہ طالبان کی حکمرانی میں افغانستان میں جمہوریت آسکتی ہے۔