• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برمنگھم:پاک ۔انگلینڈ میچ دیکھنے کیلئے لیجنڈ پاکستانی کرکٹرزمدعوتھے

بر منگھم (عمران منور/صائمہ ہارون ) واروک شائر کائونٹی کرکٹ کلب نے ایجبسٹن پر پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے ایک روزہ انٹرنیشنل میچ دیکھنے کے لئے لیجنڈ پاکستانی کرکٹرز کو مدعو کیا تھا۔ برطانیہ میں رہنے والے سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹرز نے واروک شائر کائونٹی کرکٹ کلب کی جانب سے تیسرا ون ڈے انٹرنیشنل میچ دیکھنے کے لئے دعوت دینے کے اقدام کی تعریف کی۔یہ دعوت کلب کے سی ای او سٹوارٹ کین کی جانب سے قبل ازیں کئے گئے ایک اعلان کا حصہ تھی جس میں انہوں نے اس دن کو پاکستانی ثقافت کے دن کی حیثیت سے منانے کا عزم کیا تھا۔ تمام شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی معزز پاکستانی شخصیات میں سیاست دان اور بزنس مین بھی شامل تھے۔ جن کرکٹ لیجنڈریز کو مدعو کیا گیا تھا ان میں وزیرمحمد ، ظہیر عباس ، مشتاق محمد ، نسیم الغنی اور یاسر عرفات شامل ہیں۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ واروکشائر کلب کی جانب سے انہیں دعوت دینے کے نتیجے میں طویل عرصہ بعد ایک دوسرے سے ملنے اور پرانی یادیں تازہ کرنے کا سنہری موقع ملا ۔سابق ٹیسٹکرکٹر مشتاق محمد جو کہ پاکستان کے پہلے کرکٹ سکواڈ کا حصہ تھے اور سب سے پرانے حیات ٹیسٹ کرکٹر ہیں، جیو سے کہا کہ ایک دوسرے سے ملنے کے لئے آج کا دن بہترین موقع ہے۔وزیر ، جو کہ کرکٹ کی انتہائی مشہور فیملی لیجنڈری محمد برادران کا حصہ ہیں ، انہوں نے 1952 سے 1959 کے دوران 20 ٹیسٹ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی اور وہ ابتدائی برسوں میں پاکستان انتہائی مشہور فتوحات کا حصہ تھے، جن میں 1954 میں اوول اور 1958 میں پورٹ آف سپین کی فتوحات شامل ہیں۔ نسیم الغنی جنہوں نے 1958 میں 16 سال کی عمر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلا ٹیسٹ کھیل کر سب سے نو عمر ٹیسٹ کرکٹر ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا، کہا کہ وہ ایک طویل عرصہ بعد اس شاندار گیٹ ٹوگیدر کا انتظام کرنے پر واروک شائر کائونٹی کرکٹ کلب کے شکر گزار ہیں۔وہ 1962 میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والے پاکستانی سکواڈ کا حصہ تھے جس نے ایجبسٹن پر بھی اپنا میچ کھیلا۔ گو کہ ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے بہٹ اچھی کارکردگی نہیں دکھائی مگر انہیں انگلینڈ میں کسی پاکستانی کرکٹر کی جانب سے پہلی سنچری اسکور کرنے کے حوالے سے یاد رکھا جاتا ہے۔ آئی سی سی کے سابق صدر اور ایک وقت کے عظیم ترین کرکٹرز میں سے ایک، ظہیر عباس جنکی اس گرائونڈ سے ناقابل فراموش یادیں وابستہ ہیں ، کہا کہ وہ سنیئر پلیئرز کو ایک جگہ دیکھ کر بہت خوش ہیں۔ظہیر عباس جنہوں نے 1971 میں اپنے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ایجبسٹن پر 274 رنز کی ڈبل سنچری سکور کرکے انتہائی مشہور اننگ کھیلی تھی ، کہا کہ تمام تر کریڈٹ واروک شائر سی سی سی کو جاتا ہے جس نے نہ صرف میچ دیکھنے کے لئے دعوت دی بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع فراہم کیا۔ سابق کپتان اور کوچ مشتاق محمد جوکہ گزشتہ 40 سال سے ایجبسٹن سے صرف ایک میل کی مسافت پر رہتے ہیں ، گرائونڈ کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا۔ جیو سے گفتگو کرتے ہوئے مشتاق محمد نے کہا کہ اس گرائونڈ سے ان کی بہت سی سنہری یادیں وابستہ ہیں۔ واضح رہے کہ مشتاق جوکہ وزیر محمد اور حنیف محمد کے چھوٹے بھائی ہیں، انہوں نے 1962 میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ ایجبسٹن پر انگلینڈ کے خلاف کھیلا تھا۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر یاسر عرفات نے واروک شائر سی سی سی کی جانب سے ماضی میں پاکستان کی جانب سے کھیلنے والے بعض سپر سٹارز اور لیجنڈریز کو میچ دیکھنے کے لئے مدعو کرنے کو ایک شاندار آئیڈیا اور خیرسگالی کا اظہار قرار دیا۔آل رائونڈر یاسر عرفات جنہوں نے پاکستان کی جانب سے 3 ٹیسٹ میچز اور 11 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے ہیں، فی الوقت انگلینڈ میں بالنگ کوچ کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ واروک شائر کائونٹی کرکٹ کلب کے سی ای او سٹوارٹ کین نے کہا کہ پاکستانی ورثہ کی بہت سی اعلیٰ شخصیات بشمول ان کھلاڑیوں کو ان کی اعلیٰ کارکردگی کا جشن منانے کے لئے ہی مدعو نہیں کیا گیا بلکہ انہیں اس کھیل سے لطف اندوز ہونے کا موقع بھی فراہم کیا گیا ہے۔
یورپ سے سے مزید