• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذوالفقار علی بھٹو … ایک عظیم لیڈر

کھلا تضاد ٠ آصف محمود براہٹلوی
آزاد کشمیر میں الیکشن مہم آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے۔ پاکستان میں قائم سیاسی جماعتوں کے آزاد کشمیر میں ونگزکی مہم میں پاکستانی قیادت بھرپور کردار ادا کر رہی ہے، یہ آزاد کشمیر کے غالباً گیارہویں عام انتخابات ہیں ماضی کو دیکھا جائے تو آزاد کشمیر میں وہی حکومت قائم ہوتی آئی ہے جس کو اسلام آباد کی آشیر آباد حاصل رہی۔ اس وقت وفاق اور پنجاب، خیبرپختونخواہ، جی بی میں پی ٹی آئی کی حکومتیں قائم ہیں، بلوچستان میں بھی ان کے اتحادی راج کر رہے ہیں ایسے میں غالب امکان یہی ہے کہ پی ٹی آئی کشمیر میں تھوڑی بہت جدوجہد اور جوڑ توڑ کے بعد اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ لیکن سیانے کہتے ہیں جب انسان کے پاس دلائل ختم ہوجاتے ہیں تووہ تشدد اور گالی گلوچ اور الزام تراشی پر اتر آتا ہے، ہوسکتا ہے وفاقی حکومت نے جو کشمیریوں سے توقعات وابستہ کر رکھی تھی وہ پوری نہ ہوئی ہوں اس وجہ سے وفاقی وزراء سنگین الزامات پر اتر آئے ہیں ایک تو سرعام سڑک کی مرمت کیلئے پیسے دیتے ہوئے وفاقی وزیر پکڑے گئے، ویڈیو وائرل ہونے پر چیف الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا اور مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا پھرلینسٹآفیسرز درمیان میں آگئے اور مقدمے کا معاملہ لٹک گیا اس کے بعد چڑھوئی میں قائد حزب اختلاف آزاد کشمیر کے انتخابی حلقہ میں ایک ووٹ کی جیت پر ایک کروڑ دینے کا اعلان کیا بلکہ دبنگ انداز میں کہا کہ جتنے ووٹوں کی جیت ہوگی اتنے کروڑ روپے دیئے جائیں گے کیا یہ سرعام دھاندلی نہیں ہے پھر سے سنگین مسئلہ کہ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم قائد اعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو پر غداری کا الزام، دوسرے منتخب وزیراعظم میاں محمد نوازشریف پر ڈاکو چور اور پتہ نہیں کیسے کیسے بےہودہ الزامات لگائے گئے۔ دنیا جانتی ہے ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا انہوں نے 1971ء میں شکست خوردہ پاکستان کو کس طرح سنبھالا دیا ’’90‘‘ ہزار پاک فوج کے جوان بھارت سے آزاد کرائے بھارتی قبضہ سے زمین واگزار کرائی، اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو جاندار اور مضبوط موقف کے ساتھ پیش کیا، اقوام متحدہ میں عالمی امن کو مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو ایک عظیم لیڈ تھے، وہ جان چکے تھے کہ بھارت کا مقابلہ کرنے کیلئے ساؤتھ ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا پڑے گااس کیلئے ایٹم بم ناگزیرہے، اس وقت ناممکن حالات میں دنیا اسے دیوانے کا خواب سمجھ رہی تھی، عالمی سامراجی طاقتیں ایٹمی پلانٹ شروع کرنے پر بھٹو کو نشان عبرت بنانے کیلئے تیار تھے کیا ایسے عظیم لیڈر کو ہم غدار کہہ سکتے ہیں، ہماری زبانیں کیوں لرز نہیں گئیں؟ ہم نے کبھی سوچا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ذوالفقار علی بھٹو کے وہ الفاظ سونے کی تاروں سے لکھ کر محفوظ کرنے کے قابل ہیں کہ انسان غلطی کا پتلا ہے لیکن کشمیر کے مذاکرات پر میں نیند میں بھی غلطی نہیں کرسکتا اور کشمیر کی آزادی کیلئے ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے کا عزم کیا۔ سب جانتے ہیں کہ ایک ہزار سال انسان کی عمر نہیں لیکن مقصد ایک فلسفہ دینا تھا کہ کشمیر کی آزادی کیلئے ہماری قوم نسل درنسل جدوجہد کرے گییہی وجہ ہے کہ قائد عوام کی عظیم بیٹی نے میزائل ٹیکنالوجی دی، کشمیریوں کے ساتھاہل پاکستان کی اظہار یکجہتی کیلئے 5؍فروری کا دن چنا جو اب قومی دن بن چکا ہے، اسلامی سربراہی کانفرنس میں کشمیریوں کو مبصرین کا درجہ دلایا، آج اس خاندان کی تیسری نسل بلاول بھٹو زرداری کنٹرول لائن کے قریب کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ ہمارا نعرہ سب پے بھاری رائے شماری رائے شماری، آصفہ بھٹو بھی کشمیر ہے بے نظیرتیر ہے جیت کا نشان انتہائی شائشہ اور مہذب زبان میں کامیابی کے ساتھ انتخابی مہم چلائی۔میاں محمد نوازشریف اگر کرپشن کرنا چاہتے تو بل کلنٹن نے اربوں ڈالروں کی پیش کش کی تھی ۔وہ مرد مجاہد کہتا ہے کہ میری قوم نے ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا اور 28؍مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکےکردیئے، اب آتے ہیں موجودہ حکومت کی جانب گزشتہ تین سال میں کوئی ایک پراجیکٹ بتا دیں جو انہوں نے شروع کیا ہوسوائے الزام تراشیاں، ڈاکو، چور کہنے کے ۔کہتے تھے کہ مہنگاہی ہوتی ہے تو ملک کا وزیراعظم چور ہوتا ہے، تو اب اس مہنگائی میں کون چور ہ ؟۔ اب پاکستان کے عوام اور کشمیر کے عوام جان چکے ہیں کہ تین سال بہت عرصہ ہوتا ہے، بندہ اپنی سمت کا تعین کرلیتا ہے، موجودہ قیادت ایک ہجوم کی طرح سب ناکامیوں کا ملبہ ماضی کی حکومتوں پر ڈال کر آگے بڑھنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ اب لگتا ہے بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے آزاد کشمیر میں مریم نواز اوربلاول بھٹو کی بھرپور انتخابی مہم سے یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ وفاق جوڑ توڑ کرنے میں ناکام ہوچکا ہے، اب ہر حربہ استعمال کرکے وفاق اپنی حکومت ضرور بنائے گا لیکن وہ دیر پا چلتی نظر نہیں آتی۔ موجودہ الیکشن میں چھوٹی بڑی 32 جماعتیں اور آزاد امیدواروں سمیت تقریباً 708 امیدوار میدان میں ہیں اور تقریباً 32 لاکھ ووٹرز اپنا رائے حق دہی استعمال کریں گے، یہ الیکشن اس لحاظ سے بھی مختلف ہوں گے کہ کالعدم تحریک لبیک پاکستان پہلی بار آزاد کشمیر کے انتخابات میں عملی طور پر حصہ لے رہی ہے، اسی طرح تحریک انصاف جی وفاق کی آشیرباد سے پہلی بار میدان میں ہے، دیگر جماعتیں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ یہاں پر مضبوط وجود رکھتی ہیں۔ انتخابی نتائج معمول سے ہٹ کر آئیں گے، تحریک انصاف ہوسکتا ہے 20،18 سیٹس لے سکے پی پی 14،12 ن لیگ 12،10 مسلم کانفرنس4،3 سیٹ لے سکے ۔ہوسکتا ہے ایک آدھ ازاد امیدوار اور ایم کیو ایم وغیرہ بھی جیت جائے لیکن حتمی فیصلہ تو 25کی شام کو ہوجائے گا، غیور کشمیری فیصلہ کریں گے لیکن اعلیٰقیادت پر الزام تراشیوں اور غداری کے فتوؤں پر کشمیریوں کو دکھ ضرور ہوا ہے، ہوسکتا ہے اس کے اثرات 25جولائی کو ہونے والے انتخابات پر مرتب ہوں یہ وقت ہی بتائے گا تب تک کیلئے انتظار کرنا ہوگا۔
یورپ سے سے مزید