• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منداکنی کو فلم ’رام تیری گنگا میلی‘ کے بولڈ مناظر نے اسٹار بنادیا

ممبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) سال 1985 میں آئی فلم ’رام تیری گنگا میلی‘ میں بولڈ مناظر سےمنداکنی راتوں رات اسٹار بن گئی تھیں۔ منداکنی نےاپنے 6 سال کے فلمی کیریئر میں کئی فلمیں کیں اور اس کے بعد وہ کہاں غائب ہوگئیں، کسی کو اس کی خبر تک نہیں ۔ 30 جولائی کو منداکنی کی سالگرہ تھی۔ ان کی پیدائش 30 جولائی 1969 کو ہوئی تھی۔ حالیہ دنوں میں منداکنی انڈسٹری میں اپنی واپسی کی خواہش کے حوالے سے خبروںمیں تھیں۔منداکنی کا اصلی نام یاسمین جوسیف تھا۔ ان کی والدہ مسلم تھیں اور والد عیسائی تھے۔منداکنی بچپن سے ہی اداکاری کی شوقین تھیں۔ ’رام تیری گنگا میلی‘ سے پہلے انہیں تین فلم سازوںنے مسترد کر دیا تھا۔رنجیت ورک نے تو منداکنی کا نام یاسمین سے بدل کر مادھوری رکھ دیا تھا اور انہیں ’مظلوم‘ کے لئے سائن کرلیا۔تاہم اس سے پہلے کہ رنجیت ورک کی فلم شروع ہوتی، راج کپور کی نظر منداکنی پر پڑ گئی۔ اس دوران منداکنی 22 سال کی تھیں۔راج کپور نے منداکنی کو ’رام تیری گنگا میلی‘ کے لئے سائن کرلیا اور فلم بلاک بسٹر ثابت ہوئی۔ فلم میں جھرنے کے نیچے بولڈ سین دے کر منداکنی دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف سرخیوں میں آگئیں۔فلم میں منداکنی نے کئی بولڈ سین دیئے، جو اس وقت کے لحاظ سے بے حد گلیمرس تھے۔ ’رام تیری گنگا میلی‘ کے علاوہ منداکنی اکثر تنازعات کے حوالے سے سرخیوں میں رہیں۔داود ابراہیم کے ساتھ افیئر کی افواہ نے بھی منداکنی کو خوب سرخیوں میں رکھا۔ اچھی فلمیں نہ ملنے کے سبب منداکنی نے سال 1996 میں فلموں کو الوداع کہہ دیا۔ ان کی آخری فلم ’زوردار‘ تھی۔منداکنی نے ’نو ویکنسی‘ اور ’شنبالا‘ نام سے دو میوزک البم نکالی۔ لیکن دونوں ہی فلاپ رہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اس طرح کا کوئی تجربہ نہیں کیا۔

دل لگی سے مزید