• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پینڈامک بحران سے نمٹنے کیلئے اقدامات تیز کرنے کا مطالبہ

لندن (پی اے) بزنس لیڈرز نے اکنامک ریکوری کے خطرے میں پڑنے کی وارننگ دیتے ہوئے پینڈامک بحران سے نمٹنے کیلئے اقدامات تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دی سی بی آئی نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران پرائیویٹ فرمز کی سرگرمیاں مستحکم انداز میں بڑھی ہیں اور چھ برسوں میں یہ تیز ترین رفتار ہے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ اگلے تین ماہ میں بھی گروتھ کی رفتار مستحکم رہنے کی توقعات ہیں۔ یہ صورت حال 500 سے زائد فرمز کے سروے میں سامنے آئی ہے۔ سی بی آئی کے سرکردہ ماہر اقتصادیات الپش پلیجا نے کہا کہ جب چند ماہ قبل کورونا وائرس رولز کی پابندیاں ختم ہونا شروع ہوئیں تب سے معیشت آگے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر یہ ایک خوش آئند ریلیف ہے کہ کنزیومر سروسز کو آخری انڈسٹریز بھی مناسب اور مستحکم انداز میں کھولنے کا موقع مل رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کچھ سیکٹرز کیلئے حالیہ مہینوں میں ابتدائی اضافے کے بعد گروتھ نارمل شرحوں کی جانب بڑھنا شروع ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکنامک ریکوری کو کچھ سپلائی سائیڈ معاملات، خاص طور پر پینڈامک سے خطرات ہیں۔ ملک بھر کے تمام حصوں میں تمام سیکٹرز میں بزنسز سٹاف کی قلت کی رپورٹ دے رہے ہیں کیونکہ ورکرز کی سیلف آئسولیشن ان کے روز مرہ آپریشنز کو نمایاں طور پر متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی استثنائی فہرست اس میں معاون ہو سکتی ہے لیکن تیزی سے آگے بڑھنے کا بہترین حل یہ ہے کہ کورونا ویکسین کی دونوں خوراک لگوانے والے افراد کو سیلف آئسولیشن سے استثنیٰ دیا جائے، اگر وہ انفیکشن کا شکار نہیں ہیں۔ بزنس گروپس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 16 اگست کی تاریخ مقرر کرے کہ جب انگلینڈ میں مکمل طور پر ویکسین لگوانے والے افراد سیلف آئسولیشن سے بچ سکتے ہیں۔

یورپ سے سے مزید