• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

33 ادارے خسارے میں، 479 ارب کا نقصان ہوا، شوکت ترین

اسلام آ باد ( نمائندہ جنگ) قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیر کی شام وقفہ سوالات کے دوران وزیر خزانہ شوکت ترین نے تحریری جواب میں بتایا کہ سال19/2018کے دوران33سرکاری ادارے خسارے میں رہے،ان اداروں کے نقصان کا خسارہ 479 ارب روپے ہے ، وزیر مملکت علی محمد خان نے بتا یا کہ آڈیٹر جنرل نے کور ونا کی ویکسین کے اخراجات کی آڈٹ رپورٹ صدر کو پیش کی تھی جس کی منظوری دیدی گئی ہے ،آڈیٹر جنرل کی ایک سالا نہ رپورٹ کو آج ایوان میں پیش کیا جا ئے گا،فیٹف کے 27نکات میں سے موجودہ حکومت نے 26نکا ت پورے کردیئے ہیں صرف ایک باقی جسے جلد پورا کردیا جا ئے گا،ہم ڈکٹیشن نہیں لے سکتے، قانون کے مطابق کاروائی کریں گے،ہم گرے لسٹ سے جلد نکل جائیں گے،و زیراعظم نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا کی ابسلو ٹنی ناٹ ، جب ایسا جواب ہوتا ہے تو اس کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے، راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ہمیں یہ بتائیں کہ وہ کون سا ایسا نقطہ رہ گیا ہے جس سے گرے لسٹ سے نہیں نکالا گیا، علی محمد خان نے کہا کہ ہم کسی کی خواہش پر لوگوں کے خلاف کاروائی نہیں کر سکتے،وہ زمانے چلے گئے کہ ریمنڈ ڈیوس اور دیگر کو چھوڑ دیں،ہمارا لیڈر بھاگا بھاگا امریکہ نہیں جاتا ،گندم اور چاول کی فصل اچھی ہوئی ہے ، صرف کاٹن کی فصل کم ہوئی ہے ،پشاور اور اسلام آ باد کے نجی تعلیمی ا داروں نے 332ملین روپے انکم ٹیکس جمع کرایا ہے ، وزیر اعظم کے تین معاونین خصوصی سید ذو الفقار عباس بخاری ‘ سردار یار محمد رند اور ڈاکٹر محمد شہباز شبیر نے 2020کے ٹیک ٹیکس گو شوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع مانگی ہے ،سید فخر امام نے کہا کہ گندم کا سٹریٹجک ذ خیرہ بہتر بنا نے کیلئے گندم درآ مد کی جارہی ہے،پار لیمانی سیکرٹری عالیہ حمزہ ملک نے بتایا کہ پاکستان کی برآمدات 25.7ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر 24.41 بلین ڈالر ہیں، ترسیلات زر ریکارڈ سطح پر ہیں ،اپوزیشن کو سیاست کے بجائے پاکستانی کے طور پر بہتر معاشی اعشاریوں پر خوش ہونا چاہیے ۔ وزیر انچارج برائے وزیر اعظم آفس نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 1ارب 84 کروڑ ڈالر سے زائد رہی ،کورونا کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری میں 28 عشاریہ 9 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔

ملک بھر سے سے مزید