• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وائرل ’اوٹزیمپک‘ ڈرنک کیا ہے اور یہ وزن کم کرنے میں کیسے کام کرتی ہے؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو

وزن کم کرنے کے لیے کسی آسان اور فوری حل کی تلاش ہم میں سے اکثر افراد کی مستقل جدوجہد بن چکی ہے، سوشل میڈیا پر اسکرول کرتے ہوئے نت نئے اشتہارات اور دعوے سامنے آتے ہیں، جو چند ہی دنوں میں وزن کم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

انہی دنوں ایک نئی ڈرنک ’اوٹزیمپک‘ (Oatzempic) سوشل میڈیا پر خاصی وائرل ہو رہی ہے، جسے وزن کم کرنے کا قدرتی نسخہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اوٹزیمپک کا نام مشہور دوا اوزیمپک (Ozempic) سے متاثر ہو کر رکھا گیا ہے، جو عام طور پر ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں استعمال ہوتی ہے، سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اوٹزیمپک ڈرنک وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے، زیادہ دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس پیدا کرتی ہے اور اوزیمپک جیسی ادویات کا قدرتی متبادل ہے، بعض افراد نے تو یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے صرف دو ماہ میں 40 پاؤنڈ (تقریباً 18 کلوگرام) وزن کم کر لیا۔

اوٹزیمپک ایک نہایت سادہ مشروب ہے، جو اوٹس، پانی اور تازہ لیموں کے رس کو بلینڈ کر کے تیار کی جاتی ہے، ذائقے کے لیے بعض افراد اس میں دارچینی یا تھوڑا سا شہد بھی شامل کرتے ہیں۔

اوٹس پہلے ہی اپنی غذائی افادیت کے لیے مشہور ہیں، ایک تحقیق کے مطابق اوٹس میں بیٹا گلوکن نامی حل پذیر فائبر پایا جاتا ہے، جو ہاضمہ سست کرتا ہے اور زیادہ دیر تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس پیدا کرتا ہے۔

یورپین جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وہ افراد جو ناشتہ میں اوٹس استعمال کرتے ہیں، ان میں بھوک کی سطح ان لوگوں کے مقابلے میں کم پائی گئی جو ریفائنڈ سیریلز کھاتے ہیں۔

لیموں کا رس وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق وزن کم کرنے میں اس کا کردار محدود ہوتا ہے۔

اوٹزیمپک ٹرینڈ کے مطابق اس مشروب کو روزانہ صبح ناشتے کے متبادل کے طور پر پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ زیادہ دیر تک بھوک نہ لگے، تاہم ماہرِ غذائیت خبردار کرتے ہیں کہ صرف اس ڈرنک پر انحصار کرنے سے جسم کو ضروری غذائی اجزاء کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

صحت سے مزید