• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئل ٹینکر حملہ: برطانیہ اور ایران میں ایک دوسرے کے سفارتکاروں کی طلبی

لندن ( پی اے ) برطانیہ اور ایران نے عمان کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر پر حملے کے تنازع میں ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو طلب کیا۔ برطانیہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو مورد الزام ٹھہرایا ہے جس میں آئل ٹینکر کے دو کریو ارکان مارے گئے جن میں سےایک برطانیہ اور دوسرا رومانیہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے ایران اور اسرائیل میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور دونوں ریجن میں جہازوں کو ٹارگٹ کرنے کے الزامات ایک دوسرے پر عائد کرتے رہتے ہیں۔ ایران نے اسرائیل اور دیگر ملکوں کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ تازہ ترین حملے کے پیچھے ہے ۔ اس نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔ پیر کو برطانیہ نے اس حملے کے سلسلے میں ایرانی سفیر کو طلب کیا جس کو برطانوی حکومت نے غیر قانونی حملہ قرار دیا ہے ۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانس نےکمرشل شپنگ پر حملے کو ناقابل قبول اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے جو کیا ہے ، اسے اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا کہ وہ برطانیہ‘ اسرائیل اور رومانیہ کے ساتھ مشاورت کر رہے ہیں اور ہمارا کوئی بھی اجتماعی ردعمل ہو گا۔ ایران نے تہران میں برطانوی ناظم الامور اور رومانیہ کے ٹاپ مندوب کو طلب کیا اور ایران کے خلاف عائد کردہ الزام پر ان سے احتجاج کیا۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے کہا کہ لندن کا خیال ہے کہ ایران نے جان بوجھ کر اس حملے میں ایک یا اس سے زیادہ ڈرون استعمال کئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹینکر کو ہدف بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران کو ایسے حملے روکنے ہوں گے اور بحری جہازوں کو آزادی سے سفر کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے خبردار کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے دفاع میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کرے گا اور کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دے گا۔ انہوں نے کہاکہ آئل ٹینکر پر حملے کے حوالے سے ایران پر الزامات غیر ذمہ دارنہ جھوٹے اور اشتعال انگیز ہیں ۔ برطانیہ اور امریکہ دونوں کا کہناہے کہ آئل ٹینکر ایم ٹی مرکر سٹریٹ پر حملے میں ایک ڈرون استعمال کیا گیا تھا ۔ اس آئل ٹینکر کا انتظام لندن میں قائم کمپنی زوڈیاک میری ٹائم کرتی ہے۔ حملے کے وقت آئل ٹینکر شمالی بحر ہند میں سفر کر رہا تھا اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے دارالسلام تنزانیہ میں داخل ہورہا تھا ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں حریفوں میں شیڈو وار جاری ہے اور وہ اس حملے کو اسی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ سال رواں کے اوائل میں ایران نے اسرائیل پر الزام لگایاتھاکہ اس نے اس کی اہم نیو کلیئر سائٹ پر حملہ کیا ہے۔ برطانوی پولیس نے ہلاک ہونے والے برطانوی کی انکوائری شروع کر دی ہے اس کی ابھی شناخت نہیں ہو سکی لیکن وہ آن بورڈ سیکورٹی گارڈ کے طور پر کام کر رہا تھا۔

یورپ سے سے مزید