• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مستقبل کے انٹرپرینیورز کیلئے مفید مشورے

دنیا کی ایک بڑی آبادی کی آمدنی کے مقابلے میں اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت کے ساتھ دنیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنی قوتِ خرید کھو رہا ہے۔ دوسری جانب، ہر آئے دن نت نئی مصنوعات مارکیٹ میں متعارف ہورہی ہیں، جن کے خریدار بہرحال محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کاروباری لیڈرز، انٹرپرینیورز اور بزنس مالکان اپنی مصنوعات، خدمات اور برانڈز کو فروغ دینے کے نئے اور منفرد طریقے ڈھونڈنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ 

زندگی، کیریئر اور کاروبار میں ترقی کے لیے جدوجہد ناگزیر ہے، تاہم اس سلسلے میں ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ہم ان کامیاب کاروباری افراد کی زندگیوں سے سیکھنے کی کوشش کریں، جنھیں ایک دنیا مانتی ہے۔ ایپل کارپوریشن کے بانی اور سابق سی ای او آنجہانی اسٹیو جابز کا شمار حالیہ دور کے ذہین ترین اور اختراعی دماغ رکھنے والے انٹرپرینیورز میں ہوتا ہے۔ اسٹیو جابز کی شاندار کامیابی پر نظر رکھنے والے ماہرین نے، ان کی بے مثال کامیابیوں کو سات سنہرے اصولوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر آپ بھی اپنی مصنوعات، خدمات یا برانڈ کو نئی بلندیوں پر لے جاسکتے ہیں۔

مقصد پرنظر رکھیں، پیسہ خود آئے گا

1983ء میں اسٹیو جابز جان اسکلی کو اپنے ساتھ کام کرنے پر رضامند کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ جان اسکلی اس وقت سوڈا مشروب بنانے والی ایک معروف کمپنی کے سی ای او تھے اور جابز کی پیشکش قبول کرنے سے گھبرا رہے تھے۔ جابز ایک دن آخری کوشش کے طور پر جان اسکلی کے پاس گئے اور اسے کہا، ’تم اپنی باقی پوری زندگی ’’شکر کا پانی‘‘بیچتے رہنا چاہتے ہو یا میرے ساتھ آکر دُنیا بدلنے کے لیے کام کرنا چاہوگے‘؟ اس کے بعد جان اسکلی کے پاس کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ اسٹیو جابز کی پیشکش قبول نہ کرتے۔ اسٹیو جابز کے لیے کمپیوٹرز کو عام آدمی کی دسترس میں لانا صرف کاروبار نہیں تھا، بلکہ یہ اس کے اندر کی آواز تھی۔ ’صرف کاروبار کا نہ سوچیں، اس میں مقصدیت بھی تلاش کریں‘۔

وہ کریں جو آپ کو پسند ہے

امریکا کی معروف اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں طلبا سے خطاب کرتے ہوئے اسٹیو جابز نے کہا تھا، ’زندگی میں ہمیشہ وہ کریں جو آپ کرنا پسند کرتے ہیں‘۔ بِل گیٹس کے ساتھ ایک کاروباری تقریب میں اسٹیو جابز نے اس بات پر روشنی ڈالی تھی کہ کچھ کردِکھانے کے جذبے اور صرف اپنی پسند کا کام کرنے کے اصول نے ان کی کامیابی میں کیا کردار ادا کیا۔ ’زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے آپ کو بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ اگر آپ کو ایک ایسے کام میں محنت کرنے کا کہا جائے جو آپ کو پسند نہیں ہے تو آپ تھوڑی دیر بعد تھک جائیں گے اور ہار مان لیں گے۔ لیکن اگر وہ کوئی ایسا کام ہے، جو آپ کو بہت پسند ہے تو پھر تھکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگالیکن شرط یہ ہے کہ مُسرتوں کی تقسیم منصفانہ ہو‘۔

پراڈکٹ کو پیچیدہ مت بنائیں 

اسٹیو جابز نے ایک بار کہا تھا، ’سادگی میں نفاست ہے‘۔ ان کی یہ بات ہر بزنس لیڈر کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسٹیو جابز اپنی پراڈکٹس کے ڈیزائن سے لے کر بزنس اسٹریٹجی تک، ہر عمل کو سادہ، پروقار اور نفیس رکھنا پسند کرتے تھے۔ ان کی سوچ تھی کہ، ’انسان جو چیز سادگی، وضاحت اور نفاست کے ذریعے سمجھ سکتا ہے، اس کا نعم البدل کوئی اور چیز نہیں ہوسکتی‘۔ 

اپنی ہی کمپنی سے نکالے جانے کے 12سال بعد جب اسٹیو جابز کی دوبارہ واپسی ہوئی تو ان کا پہلا فیصلہ کمپنی کی 70فیصد پراڈکٹس بند کرنا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ایپل کے انجینئرز باقی 30فیصد پراڈکٹس پر جم کر کام کریں۔ وہ کہتے تھے، ’انسان کے پاس وقت اور توانائی، دونوں محدود ہوتی ہیں، لہٰذا انھیں ان چیزوں پر خرچ کریں، جو واقعی اہم ہیں‘، اور ’ہیروں کی دکان میں ہیروں کے ساتھ لوہا بیچنا کہاں کی عقل مندی ہے‘؟

اختراعی سوچ پروان چڑھائیں

اسٹیو جابز نے ایک بار کہا تھا کہ، ’تخلیقی بننے کا راز اس بات میں پوشیدہ ہے کہ خود کو ان بہترین چیزوں سے متعارف کرائیں جو انسانوں نے تخلیق کی ہیں اور پھر انھیں اس کام میں شامل کرلیں جو آپ کررہے ہیں‘۔ اختراعی دماغ رکھنے والے دنیا کے بڑے انٹرپرینیورز، نئے تصورات کے لیے اپنے شعبہ سے باہر دیکھتے ہیں۔ 

ایپل IIکمپیوٹر، جو استعمال کے لحاظ سے دنیا کا پہلا صارف دوست کمپیوٹر تھا، اس کا تصور اسٹیو جابز نے کچن اپلائنسز سے لیا تھا۔ اسٹیو جابز ایپل IIڈیزائن کرنے سے پہلے اس تحقیق میں لگے ہوئے تھے کہ لوگ اپنے گھروں میں کس طرح کا کمپیوٹر رکھنا چاہیں گے۔

مزید برآں، پہلا ایپل اسٹور کھولنے سے پہلے اسٹیوجابز نےایک بین الاقوامی ہوٹل کا بغور مشاہدہ کیا۔ اسی لیے ایپل اسٹور میں کسٹمر سروس کے ملازم کوConcierge (دربان ) کہتے ہیں۔ ایپل اسٹورز میں ’جینئس بار‘کا تصور بھی ہوٹل بار سے لیا گیا ہے۔

نئے تصورات کے لیے صرف اسٹیو جابز ہی اپنے شعبہ سے باہر نہیں دیکھتے تھے، ٹیسلا کے بانی ایلن مسک بھی ایسا ہی کچھ کرتے ہیں۔ کیلی فورنیا میں ٹیسلا شوروم کے افتتاح کے موقع پر کسی نے ٹیسلا کے اس وقت کے ہیڈ آف سیلز جارج بلیکن شپ سے پوچھا، ’جارج، یہ شو روم ایپل کی یاد تازہ کردیتا ہے ‘۔ جارج نے اسے جواب دیا، ’یہ درحقیقت ایپل ہی کا اسٹور ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کمپیوٹرز کی جگہ ہم کاریں بیچتے ہیں‘۔

اسٹوری ٹیلنگ پر توجہ دیں

اسٹیو جابز اس زمانے میں دلچسپ اور محو کردینے والی پریزنٹیشنز کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے تھے، جس وقت ابھی ’پاور پوائنٹ‘ اور ’کی نوٹ‘ ایجاد بھی نہیں ہوئے تھے۔ 1984ء میں پہلا میکنٹوش متعارف کروانے کے موقع پر اسٹیو جابز کو کہانی سُنانے کے لیے سلائیڈز کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ 

اپنی کہانی سُنانے کے زبردست ہنر کا استعمال کرتے ہوئے انھوں نے ایک وِلن، ایک جدوجہد اور ایک ہیرو کی کردار نگاری کی، اور کسی جادوگر کی طرح اندھیرے میں ڈوبے مرکزی اسٹیج ٹیبل پر رکھے تھیلے سے کمپیوٹر کو برآمد کیا۔ جابز ایک حقیقی ’شومین‘ تھے، جو پراڈکٹ لانچز کو پرفارمنسز میں بدل دیتے تھے۔ وہ کہتے تھے، ’پراڈکٹس مت متعارف کرائیں، کہانی سُنائیں‘۔

خواب بیچیں، پراڈکٹس نہیں

میکنٹوش کی 1997ء میں لانچ کی جانے والی اشتہاری مہم کا نعرہ تھا، ’’تھِنک ڈِفرنٹ‘‘۔ اس وقت اسٹیو جابز نے کہا تھا، ’کچھ لوگ جنھیں (میکنٹوش کے خریدار) پاگل سمجھتے ہیں، ہم انھیں جینیئس(انتہائی ذہین) کہتے ہیں‘۔ صارف کو آپ کی کمپنی یا پراڈکٹ کی فکر نہیں ہوتی، وہ اپنے فیصلوں میں اپنے آپ، اپنی امیدوں اور اپنے خوابوں کا خیال رکھتے ہیں۔ اپنے صارف کے اندر کے جینیئس کو باہر لائیں اور وہ آپ کی پراڈکٹ کی محبت میں گرفتار ہوجائے گا۔