• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1987ء میں جب دنیا کی آبادی نے پانچ ارب سے تجاوز کیا تو آبادی کے مسائل کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کرنے کیلئے 1989ء میں اقوام متحدہ کے ڈیویلپمنٹ پروگرام کی گورننگ کونسل نے اپنی توجہ مرکوز کرنا شروع کی۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کی آبادی ایک ارب تک ہونے میں ہزاروں سال لگے مگر صرف 200 سال کے عرصے میں اس میں سات گنا اضافہ ہوا۔ اس وقت دنیا کی آبادی 7 ارب 87 کروڑ نفوس سے زائد ہے اور 2030ء میں یہ 8ارب 50کروڑ، 2050ء میں 9ارب 70کروڑ اور 2100ء میں 10ارب 9 کروڑ نفوس ہونے کی توقع ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے بالترتیب چین (ایک ارب 43کروڑ)، بھارت (ایک ارب38کروڑ )، امریکا (33کروڑ) اور انڈونیشیا (27 کروڑ) کے بعد 22 کروڑ افراد کے ساتھ دنیا میں پانچویں نمبر پرہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق یہ بات قابل غور ہے کہ ماضی قریب میں شرح پیدائش اور متوقع عمر میں کافی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ 1970ء کی دہائی کے اوائل میں ایک عورت اوسطاً 4.5بچوں کو جنم دیتی تھی جبکہ 2015ء میں یہ تعداد کم ہوکر 2.5 بچوں سے بھی کم رہ گئی تھی۔ دریں اثناء عالمی سطح پر اوسطاً متوقع عمر میں اضافہ ہوا ہے۔ 1990ء کی دہائی کے اوائل میں اوسط عمر 64.6سال تھی جو 2019ء میں بڑھ کر 72.6سال ہوچکی تھی۔ اس کے علاوہ ، دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر شہروں کی طرف نقل مکانی میں تیزی سے اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ 2007ء وہ پہلا سال تھا جس میں دیہی علاقوں کی نسبت شہری علاقوں میں زیادہ لوگ آباد تھے جبکہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ 2050ء تک دنیا کی تقریباً 66 فیصد آبادی شہروں میں مقیم ہوگی۔

ان تمام رجحانات کے دور رس مضمرات ہیں۔ یہ معاشی ترقی، روزگار، آمدنی کی تقسیم، غربت اور معاشرتی تحفظات کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ صحت کی سہولیات، تعلیم، رہائش، صفائی ستھرائی، پانی، خوراک اور توانائی تک عالمی رسائی کو یقینی بنانے کی کوششوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ افراد کی ضروریات کو مستقل طور پر حل کرنے کے لیے پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کرہ ارض پر کتنے لوگ رہ رہے ہیں، وہ کہاں ہیں، کتنے بوڑھے ہیں اور ان کے بعد کتنے لوگ آئیں گے۔ یہ قانونِ قدرت ہے، ہر زندہ شے نمو پاتی ہے اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے بے چین ومضطرب رہتی ہے۔ اسی لیے آبادی کے مسائل بھی اسی رفتار سے بڑھتے ہیں۔

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی آبادی اور کم ہوتے وسائل کی وجہ سے سامنے آنے والی مشکلات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے لوگوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام میں یہ شعور پیدا کرناہے کہ دستیاب وسائل کم یا نہ ہونے کے برابر ہیں اور اتنے کم وسائل میں دنیا کی آبادی اگر اسی تیز رفتاری سے بڑھتی رہی تو آنے والی نسلوں کی زندگی مسائل سے دوچار ہوسکتی ہے۔ اگر بنیادی سہولتیں جیسے پینے کا صاف پانی، تعلیم، ادویات، صحت، مناسب خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹیشن اور نکاسی آب کی موجودہ سہولیات 20کروڑ آبادی کیلئے ناکافی ہیں تو آبادی دگنی ہونے پر کیا ہوگا؟ اس صورتحال کا پوری دنیا کو ہی سامنا ہے، جہاں وسائل کا بے دریغ استعمال ہورہا ہے۔

آبادی اور وسائل میں توازن نہ رکھنے والے ممالک میں بیروزگاری کا عام ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ آبادی اور وسائل میں توازن نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کو تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات دستیاب نہیں جبکہ ایک بڑے حصے کو شدید قسم کی غربت، بے روزگاری، غذائی قلت، پینے کے صاٖف پانی کی عدم دستیابی، آلودگی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ملک کی ایک تہائی کے قریب آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے جبکہ نصف کے قریب آبادی غذائی قلت کا شکار ہے۔

آبادی میں اضافے کی شرح کو دیکھا جائے تو قیاس ہے کہ 2050ء تک پاکستان کی آبادی 35کروڑ سے تجاوز کرسکتی ہے اور اتنی بڑی آبادی کے لئے بنیادی سہولتوں، خاص طورپر صحت عامہ کی سہولیات اور ان تک رسائی کیلئے موجودہ اور مستقبل میں آنے والی حکومتوں کو لازمی سوچنا ہوگا۔ اس ضمن میں سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، ان نوجوانوں کو صحت مندسرگرمیوں اور تعلیم کے حصول کی طرف راغب کیا جائےتو ملک کی ترقی میں ان کا کردار بہت اہم اور فائدہ مند ہوسکتاہے۔ 

اس کے علاوہ ملکی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بہتر استعمال سے معیارِ زندگی بلند ہونے کی امیدیں پیدا ہوں گی اور پاکستان کے ہر طبقے کو بنیادی سہولتوں جیسے پینے کا صاف پانی، تعلیم، ادویات، صحت، مناسب خوراک، رہائش، ذرائع آمدورفت اور نکاسی آب وغیرہ کی دستیابی ممکن ہوگی۔ تاہم، اس کے لیے ابھی سے انقلابی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کرہ ارض کے حال اور مستقبل پر نگاہ رکھنے والے افرادانسانوں کو دیگر سیاروں پر آباد کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں، ہمیں اپنے ملک سمیت دنیا کو رہنے کے قابل بنانے پر توجہ دینی ہوگی۔