ووگ فیشن میگزین کے نئے ایڈیشن کی پہلی باحجاب فیشن ایڈیٹر بننے کا اعزاز حاصل کرکے راؤدہ محمد نے سب کو متاثر کیا ہے۔
ناروے میں پناہ گزین کی حیثیت سے ایک مہاجر کیمپ میں پروان چڑھنے والی راؤدہ محمد نے حجاب پہننا اس وقت شروع کیا جب انہیں صومالی نژاد ہونے پرنسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا۔
عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے راؤدہ محمد نے اپنے بارے میں بتایا کہ ’وہ ایک مہاجر کی حیثیت سے ناروے گئی تھیں جہاں وہ دو سال تک ایک مہاجر کیمپ میں رہیں، جو کہ ایک بہت چھوٹے شہر میں تھا۔‘
راؤدہ محمد نے کہا کہ ’وہ وقت بہت مشکل تھا کیونکہ وہاں کے لوگ انتہائی نسل پرست تھے، وہ وہاں کسی مہاجر کو نہیں دیکھنا چاہتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مہاجرین خطرناک ہیں اور وہ ان کے پاس نوکریاں حاصل کرنے کے لیے وہاں موجود ہیں۔‘
فیشن میں اپنی دلچسپی بڑھنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’وہ مہاجر کیمپ میں اپنے تجربات سے متاثر ہوئیں جہاں خواتین اپنے حجاب کے بارے میں کُھل کر اظہارِ خیال کرتی تھیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’کینیا کے مہاجر کیمپ میں صرف نوعمر لڑکیاں حجاب پہنتی تھیں، جو بھی انہوں نے پہنا ہوتا تھا اور جیسے وہ بولتی اور چلتی تھیں، مجھے وہ کاپی کرنا پسند تھا ۔ وہ اپنے حجاب پر لوازمات کا استعمال کرتی تھیں اور یہ بہت اسٹائلش ہوتا تھا اور میں ان کی طرح نظر آنا چاہتی تھی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ ماڈلنگ میں کیریئر نہیں بناناچاہتی تھیں اور نہ ہی انہوں نے ایسا کوئی ارادہ کیا تھا ۔
راؤدہ محمد نے بتایا کہ ’وہ 2018 کے آخر میں اوسلو میں ایک فیشن شو میں گئی تھیں جہاں وہ اپنے مینجر سے ملیں۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ’انہوں نے اپنے مینجر سے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ وہ ماڈل بننا چاہتی ہیں لیکن وہ فیشن انڈسٹری میں کام کرنا چاہتی ہیں۔‘
راؤدہ محمد کا کیریئر فیشن انڈسٹری کا حیرت انگیز حصّہ تھا کیونکہ انڈسٹری اس سے پہلے حجاب کے ساتھ ماڈلنگ کا کام کرنے کے طریقے سے واقف نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ ’شروع میں وہ لوگوں کے روّیوں پر بہت حیران تھیں کیونکہ وہ لوگ مختلف ہیں اور ان چیزوں کے عادی نہیں۔‘
راؤدہ محمد نے مزید کہا کہ ’حجابی ماڈلز کی پہلی نسل ہونے کے ناطے یہ ہمارا کام ہے، اگر ہم اسے صحیح طریقے سے نہیں کرتے ہیں تو فیشن انڈسٹری کو اپنی مرضی کے مطابق ہم پر کنٹرول حاصل ہوگا تاکہ وہ بس نام کی حجابی ماڈلز دکھائیں لیکن پھر ان ماڈلز کے حجاب اس طرح کے نہیں ہوں گے جیسے وہ یا مسلم کمیونٹی حجاب کو دیکھتی ہے۔‘
آخر میں راؤدہ محمد نے کہا کہ ’ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم فیشن انڈسٹری کو تعلیم دیں کہ ہماری کمیونٹیز کیسے کام کرتی ہیں، ہم خود کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں اور ہم حجاب کی تشریح کیسے کرتے ہیں۔‘