کابل ، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) افغان طالبان کے شریک بانی اور نائب سربراہ ملّا عبدالغنی برادرکابل پہنچ گئے ، وہ افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل کیلئےمذاکرات کریں گے۔
کابل صوبے میں طالبان انچارج عبدالرحمان منصور نے سابق افغان صدر حامد کرزئی اور افغانستان کی اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی ہے، عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے طالبان حکام سے کہا ہے کہ ’کابل کے لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ سب لوگوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق طالبان نے بھی اس موقع پر کہا کہ وہ کابل کے لوگوں کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، افغان مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے سابق صدر کرزئی کے ہمراہ افغان پارلیمنٹ کے کچھ ارکان اور خواتین کارکنوں سے اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔
دوسری جانب افغانستان میں سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ طالبان نے انہیں کام کرنے سے روک دیا ہے، سرکاری ملازمین نے بتایا کہ طالبان کمانڈرز نے انہیں بتایا کہ انہیں سرکاری دفاتر بحال کرنے کے احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں۔
اس سے قبل طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا تھا کہ سرکاری ملازمین و دوبارہ سے اپنی ڈیوٹیاں سنبھال لیں،افغانستان کے صوبہ بغلان کے کچھ مقامی ذرائع کے مطابق افغان حکومت کے وفادار گروہ نے تین اضلاع کا کنٹرول طالبان سے دوبارہ چھین لیا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جن تین اضلاع کا کنٹرول طالبان سے واپس چھینا گیا ہے ان میں پلی حصار، دی صلاح اور بانو شامل ہیں، بغلان صوبہ پنجشیر کے پڑوس میں واقع ہے،ادھر کابل ائیر پورٹ پر افرا تفری بدستورجاری ہے ،ہزاروں افراد اب بھی ائیر پورٹ اور اس کے اطراف میں موجود ہیں۔
طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ایئرپورٹ پر ہونے والی اس افراتفری کے ذمہ دار نہیں ہیں، طالبان کے ایک ترجمان نے کہا کہ مغربی قوتوں کے پاس لوگوں کو نکالنے کے لیے بہتر منصوبہ ہونا چاہیے تھا،امریکا اور چین نےافغانستان میں اپنے شہریو ں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکی سفارتخانے نے امریکی شہریوں کے لیے ٹریول ایڈوائزری جاری کردی جس میں کہا گیا ہےکہ امریکی شہری کابل ایئرپورٹ سے دور رہیں، صرف امریکی حکومتی نمائندے کی ہدایات پر کابل ایئرپورٹ کا رخ کریں، چین نے افغانستان میں اپنے شہریوں کو اسلامی روایات کی پابندی کی ہدایات دیتے ہوئے کابل ائیر پورٹ اور افراتفری والے مقامات سے دور رہنے کا کہا ہے۔
چین کے سرکاری میڈیا گلوبل ٹائمز کے مطابق چینی حکومت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ افغانستان میں اسلامی روایات کے مطابق لباس زیب تن کریں اور عوامی مقامات پر اسی کے مطابق اپنی غذا کا بندوبست کریں ، دریں اثناء طالبان نے کہا ہے کہ احتساب کا آغاز اپنے لوگوں سے ہوگا ، طالبان رہنما اور قندھار کی سکیورٹی کے انچارج ملا جمعہ نے کہاہے کہ شہریوں کی داڑھی ہو یا نہ ہو، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔