• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس خطے کی ستم ظریفی ہے کہ یہاںتاریخ ایک گول دائرے میں ہی گھوم رہی ہے۔ بیس سال پہلے امریکہ نے اس خطے میں آ کرطالبان کواقتدار سے محروم کیا لیکن پھر 20 سال کے بعد مظلوم افغان عوام کو طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ۔اس دوران امریکہ کے تقریباً دو ہزار چار سو فوجی مارے گئے ، ہزاروں فوجیوں نے واپس جا کر خود کشی کر لی۔ جنگ پر امریکہ کے 2.4 ٹریلین ڈالرزخرچ ہوئے اور یاد رہے کہ امریکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہے اور دوسری طرف چین اسی دوران اس سے بھی کم پیسہ استعمال کرکے ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ اس کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور جونیئر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بائیڈن نے20 بلین ڈالرز کے مہلک ہتھیار بھی طالبان کو تحفے میں دے دیے جس میں 166بلیک ہاک ہیلی کاپٹر ز بھی شامل ہیں۔بظاہر تو امریکہ یہ جنگ ہار گیا ہے لیکن اگر عمیق مطالعہ کیا جائے تو امریکہ کی اسلحہ بنانے والی فیکٹریاںاور ڈیفنس کنٹریکٹرز یہ جنگ جیت گئے ہیں۔ معروف دانشور روبرٹ ریچ نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ امریکہ کی کانگریس کے 51ممبران اور انکی بیویوں کے پاس 5.8ملین ڈالرز کے ڈیفنس کنٹریکٹ کے شیئرز ہیں اورجب امریکہ کسی جنگ میں حصہ لیتا ہے تو ان شیئرز پر دن دگنااور رات چوگنا منافع ملتا ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ افغانستان اپنے 80فیصد بجٹ کیلئے بیرونی امداد کا مرہوم منت رہتاہے۔ تجارت کی بحالی کیلئے اسے امن کی ضرورت ہوگی۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ امریکہ ، یورپ ، روس ، چین ، بھارت اور پاکستان اپنے ذاتی مفاداور افغان عوام کے مستقبل کی خاطر طالبان کی حکومت کو اس وقت تک تسلیم نہ کریں جب تک عورتوں کے حقوق، انسانی حقوق اور اپنی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال کے مطالبے کو من و عن نہیں مانا جاتا۔لیکن ایسا کرنے کیلئے امریکہ اور پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ امریکہ کو اپنے اسلحے کی فراوانی اور جنگ کے ذریعے عالمی بالا دستی کے تصور کو خیر باد کہنا ہوگا۔بلوم برگ کے تجزیے کے مطابق پینٹا گون نے 2020میں 445بلین ڈالرز کے ہتھیاروں کے کنٹریکٹ دیے جو کہ 2016 کے مقابلے میں 45فیصد زیادہ تھے۔ یاد رہے کہ یہ پیسہ انہی کارپوریشنز کو ملتا ہے جو الیکشنز میںڈیموکریٹکس اور ری پبلیکنز کو زیادہ سے زیادہ فنڈ زدیتی ہیں جس سے امریکی ریاست پر ان کارپوریشنز کا تسلط مضبوط سے مضبوط ہوتا جا رہا ہے اور آج امریکہ میں 85ارب پتی امریکہ کی 50فیصد دولت کے مالک ہیں۔یہاں امریکہ کے صدر آئیزن ہاور کایہ جملہ برمحل ہے کہ جوپیسہ گنوں ، جہازوں اور راکٹ بنانے پر خرچ کیا جا رہا ہے ، وہ دراصل ان لوگوں کا حق ہے جن کے پاس کھانے پینے اور پہننے کیلئے کچھ بھی نہیں اور جو سخت سردیوں میں اپنے کپڑوں سے محروم ہیں۔افغانستان میں خرچ ہونے والے 2.4ٹریلین ڈالرز سے صرف 68بلین ڈالرز استعمال کرنے سے نہ صرف یونیورسٹیوں میں مفت تعلیم دی جا سکتی ہے بلکہ طالب علموں کے وہ قرضے بھی معاف کیے جا سکتے ہیں جو انہوں نے ان یونیورسٹوں میں پڑھنے کیلئے حکومت سے لیے تھے۔ سونے پہ سہاگہ کہ سابق صدر ٹرمپ نے 2017 میں ان کارپوریشنزز پر ٹیکس 35فیصد سے کم کرکے 21فیصد کردیاجبکہ مزدوروں کی فی گھنٹہ آمدنی اب بھی 7.95ڈالر ہے جس کی وجہ سے امریکی ارب پتی مسلسل دوسرے سیاروں کی سیر کے لیے نکل کھڑے ہوئےہیں جبکہ امریکہ کے اکثرعوام دوائوں اور انشورنس کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیںجس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کویہی کارپوریشنزچلا رہی ہیں اور جنگ کے فروغ کے بغیر انکی موت واقع ہونے کا ڈر ہے۔

طالبان کے ترجمان بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ عورتوں کو اسلامی قانون کے مطابق کا م کرنے کی آزادی دیں گے جس پر ہمارا میڈیا بہت خوش ہے حالانکہ یہ طالبان کی پبلک ریلیشنز کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے تا کہ اپنے آپ کو دنیا کے سامنے لبرل فورس ظاہر کر کے افغانی سماج میں اپنی جڑیں مضبوط کر سکیں۔ لیکن یاد رہے کہ طالبان کے پیچھے ایک ایسا نظریہ کار فرما ہے جس میں دنیا کے متعلق انکے خیالات کسی قسم کی مفاہمت سے مطابقت نہیں رکھ سکتے ۔

پاکستان کے اندر موجود قدامت پسند قوتیں طالبان حکومت کی وجہ سے تقویت حاصل کرکے اشتعال انگیزی کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس وقت مغربی اور ہندوستانی میڈیا میں بہتان تراشی کی جا رہی ہے کہ طالبان کو لانے میں پاکستان کا ہاتھ ہے جس کا عملی صورت میں ازالہ کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے اس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں پچھلے 20 برس میں ایک نئی نوجوان نسل ارتقا پذیر ہوئی ہے جو اپنی داخلی پسماندگی ، قدامت پسندی اور حکمرانوں کی بنیادی رجعت پسندی کے باوجود اپنی قومی آزادی کو برقرار رکھنے کی سنجیدہ کوششو ں میںقربانیاں دینے کیلئے تیار ہے ۔ اسلئے پاکستان اور دوسرے پڑوسی ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ طالبان پر جمہوری اور انسانی حقوق کی پاسداری کیلئے مسلسل دبائو ڈالتے رہیں۔ آج پاکستان کیلئے اشد ضروری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو ہندوستان سینٹرک نہ بنائے، افغانستان کو اپنا پانچواں صوبہ سمجھتے ہوئے Strategic Depth کے تصور سے اجتناب کرے۔ سارک کے ادارے کے تحت ایسے دور رس معاہدے کرے جس سے جنگ کے خطرے کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہا جا سکے۔افغانستان سے ٹی ٹی پی کے دو ہزار تین سو قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ سختی سے جاری رکھے اور انہیں کسی طور پر کشمیر کے راستے ہندوستان میں داخل نہ ہونے دے۔ اگر پاکستان، چین اور روس نے طالبان کی حکومت کو یکطرفہ طور پر تسلیم کر لیا تو افغانستان میں سول جنگ کا خدشہ ہمیشہ رہے گااور پاکستان بھی اس آگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

تازہ ترین