• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذہنی امراض کے سدباب کیلئے سائیکو تھراپی کا کردار

’’سائیکوتھراپی‘‘ ایک طبی اصطلاح ہے، جس میں مختلف ذہنی بیماریوں کا علاج زبانی اور نفسیاتی ٹیکنالوجیز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران ایک تجربہ کار اور تربیت یافتہ ماہر نفسیات (سائیکوتھراپسٹ )کسی خاص ذہنی بیماری یا پھر مریض کی زندگی میں موجود تناؤ اور ڈپریشن کو دور کرنے میں مریض کی مدد کرتا ہے۔ تھراپی کے دوران استعمال کی جانے والی ٹیکنالوجیز اورطریقہ کا ر کا انتخاب معالج کے تجربے اور نقطہ نظر پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم، سائیکو تھراپی کی تمام تر اقسام میں معالج اور مریض کےآپس میں تعاون اوربات چیت کے ذریعے ہی دل و دماغ میں پیدا ہونے والے خیالات اور کیفیات سے نمٹا جاتا ہے ۔

سائیکو تھراپی کیوں اہم ہے؟

طبی ماہرین کے مطابق سائیکو تھراپی، کوئی عام گفتگو نہیں ہےبلکہ ایک ایسا سائنسی عمل ہے جس میں سائیکو تھراپسٹ مریض کے لیے ایک محفوظ، مددگار اور راز دارانہ ماحول قائم کرتا ہے، تاکہ مریض اس دوستانہ فضا میں اپنی زندگی کی حقیقتوں کے بارے میں کھل کر بات کرسکے۔ ذہنی بیماریوں کے دوران اکثر افراد اپنے احساسات کسی سے بھی شیئر کرنے میں خوف محسوس کرتے ہیں، ان کے لیے اپنے احساسات و جذبات رشتہ داروں یا دوستوں کے ساتھ بانٹنا مشکل ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں سائیکو تھراپسٹ سے تبادلۂ خیال مثبت نتائج کا باعث بنتا ہے۔

سائیکو تھراپی پر کی جانے والی ایک تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ ذہنی امراض کے خاتمے کے لیےسائیکو تھراپی کا کردار ادویات کی طرح ہی مؤثر ہے اور اس کے ذریعے مریض کی نفسیاتی کیفیات میں دیرپا اورمثبت تبدیلی کو یقینی بنایا جاتاہے۔ اس تحقیق میں سائیکو تھراپی کی اہمیت جاننے کے لیے مریضوں کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کے مریضوں کو سائیکو تھراپی کروائی گئی جبکہ دوسرے کو نہیں، اور جب کچھ عرصہ بعد دونوں گروپوں کا مقابلہ کیا گیا تو ثابت ہوا کہ سائیکو تھراپی کروانے والا گروپ نہ صرف نفسیاتی بلکہ جسمانی طور پر بھی صحت مند تھا بہ نسبت اُس گروپ کے جس کی ٹریٹمنٹ میں سائیکو تھراپی شامل نہیں تھی۔

سائیکوتھراپی کون لوگ کرتے ہیں ؟

سائیکو تھراپی ویسے توایک منفردپیشہ ہے لیکن مختلف ماہر نفسیات مریض کےعلاج کے دوران باقاعدگی سے اس کا استعمال کرتے ہیں ۔ ان تربیت یافتہ ماہرین میں کلینکل سائیکولوجسٹ، سائیکاٹرسٹ، کاؤنسلر، میرج اینڈ فیملی تھیراپسٹ ، سوشل ورکر، مینٹل ہیلتھ کونسلر اور سائیکاٹرسٹ نرسز شامل ہیں ۔

ذہنی امراض کے علاج میں مددگار

٭ سائیکو تھراپی کے ذریعے مریض کا ذہنی عارضہ جاننے میں مدد ملتی ہے۔

٭ اس تھراپی کے دوران معالج مریض کے ان جذبات، روّیوں اور خیالات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، جو ذہنی بیماری کی وجہ بنتے ہیں۔ ان سے آگاہی کے بعد ان کے سدباب کے لیے طریقہ کار تلاش کیا جاتا ہے ۔

٭ اس دوران زندگی میں شامل ان پریشانیوں اور واقعات کی شناخت کی جاتی ہے جو مریض کے لیے ذہنی بیماری کا باعث بنے مثلاً خاندان میں کسی کی موت کا واقعہ، ملازمت سے فارغ کیا جانا، طلاق وغیرہ۔ تشخیص کے بعد ماہر نفسیات اپنی اہلیت، مہارت و تجربہ کی بنیاد پر مریض کے لیے ایسا طریقہ علاج تجویز کرتا ہے جو مسائل کو حل اور مریض کی زندگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو۔

٭ مریض کو خوشی اور سکون کے حصول کے لیے اس طریقہ علاج پر آمادہ کیا جاتا ہے ۔

٭ مریض کو بیماری سے نمٹنےاور مسائل کا مقابلہ کرنے سے متعلق تکنیکس سکھائی جاتی ہیں ۔

سائیکو تھراپی کی اقسام

مریض کو یہ تھراپی مختلف شکلوں میں فراہم کی جاسکتی ہے مثلاً

انفرادی: سائیکو تھراپی کی اس قسم میں صرف مریض اور معالج ہی شامل ہوتا ہے ۔

گروپ: اس قسم میں بیک وقت دو یا دو سے زائد مریض شامل کیے جاتے ہیں اور اس دوران تمام مریض ایک دوسرے سے اپنے تجربات شیئر کرتے اور یہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ایک ہی طرح کے مسائل میں کوئی دوسرا شخص کس طرح مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اور کیا محسوس کرتا ہے ۔

ازدواجی /کپل: تھراپی کی اس قسم میں مریض کی اولاد یا شریک حیات کو وہ عوامل جاننے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے جو مریض کی ذہنی خرابی کا باعث بنے ۔ گفتگو میں بتایا جاتا ہے کہ کن روّیوں اور جذبات کے ذریعے ذہنی حالت بہتر بنائی جاسکتی ہے اور تمام صورتحال سے نمٹنے کے دوران ازدواجی رشتے کا کردار کیا ہوگا۔ اس دوران ایک جوڑے کو اپنے رشتے میں موجود مسائل کو جڑ سے ختم کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے ۔

خاندان : چونکہ کسی بھی فرد کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں خاندان یا فیملی کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، لہٰذا سائیکو تھراپی کی ایک قسم میں خاندانی افراد بھی شامل کیے جاتے ہیں جنہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کا پیارا کن مشکلات کا سامنا کررہا ہے اور وہ کون سے طریقہ کار ہیں جن پر عمل کرکے اسے ان مشکلات سے باہر نکالاجاسکتا ہے۔

اگرچہ سائیکو تھراپی کی مختلف قسمیں ہیں مثلاً انفرادی ، خاندانی ، ازدواجی وغیرہ لیکن کچھ ان طریقہ کار کا بھی بتاتے چلیں جو سائیکو تھراپسٹ یا ماہر نفسیات دوران تھراپی استعمال کرتا ہے۔ مریض کی بیماری سے متعلق جاننے کے بعد ایک تھراپسٹ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مریض کے لیے کون سا طریقہ کار بہتر رہے گا ۔ ان طریقہ کا ر میں سائیکوڈینیمک تھراپی، انٹرپرسنل تھراپی ،کوگنیٹو بیہیوریل تھراپی، ڈائیلیکٹیکل بیہوریل تھراپی وغیرہ شامل ہیں۔

سائیکو تھراپسٹ کی خدمات کب حاصل کی جائیں؟

ہم عام طور پر کہیں نہ کہیں آج بھی ذہنی بیماری کو پاگل پن قرار دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ لوگ عام طور پراپنے پیاروں کا علاج کروانے میں خوف محسوس کرتے ہیں۔ دوسری جانب مریض بھی بے جا خیالات اور خرافات کی وجہ سے تھراپی کے لیے رضامند نہیں ہوتے، لیکن بہتر یہی ہے کہ ابتدا ہی میں ان مسائل پر قابو پالیا جائے تو اچھا ہے۔

سائیکو تھراپی کئی وجوہات کی بنا پر کروائی جا سکتی ہےمثلاً مسلسل اداسی، پریشانی اور گھبراہٹ وغیرہ محسوس ہونے پر جبکہ دیگر افراد ایسی جسمانی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بھی سائیکو تھراپی کرواسکتے ہیں جو کہ ان کی ذہنی اور نفسیاتی صحت پر بُرے اثرات مرتب کررہی ہوں۔ 

مثال کے طور پر اگر آپ نئے ماحول سے مطابقت حاصل نہ کرپارہے ہوں، کسی واقعہ یا ناکامی کو بھول نہ پارہے ہوں تو ایسی صورت میں بھی سائیکو تھراپسٹ کی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔ ان تمام باتوں کا ادراک آپ نے خود کرنا ہے کیونکہ صرف آپ خود کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں کہ کون سی چیز آپ کی ذہنی صحت اور مزاج و معاملات میں بگاڑ پیدا کررہی ہے اور کب آپ کو اس سے نمٹنے کے لیے تھراپسٹ کی مدد لینی چاہیے۔

صحت سے مزید