• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روزانہ رائی دانہ کھانے سے جسم میں کیا تبدیلی آتی ہے؟

سرسوں سے حاصل ہونے والے بیج رائی کہلاتے ہیں، ان بیجوں سے جہاں سرسوں کا تیل حاصل کیا جاتا ہے وہیں اِن کے براہ راست استعمال سے صحت پر بے شمار فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں، رائی کے دانے صحت کے لیے نہایت مفید ہیں۔

غذائی ماہرین کے مطابق رائی دانے میں جُز ’ گلوکوسینولیٹ‘ (glucosinolate) پایا جاتا ہے جو کہ رائی کو منفرد ذائقہ دیتا ہے، رائی دانے میں موجود مرکبات انسانی جسم بالخصوص بڑی آنت میں سرطانی خلیوں سے بچاؤ ممکن بناتے ہیں، رائی کے بیجوں میں فائبر کم اور کاربوہائیڈریٹس زیادہ پائے جاتے ہیں۔

غذائی ماہرین کے مطابق رائی دانے میں صحت کے لیے بنیادی جز سمجھے جانے والے فیٹی ایسڈز بھی پائے جاتے ہیں، اس میں اومیگا3، سیلینیم، مینگنیز، میگنیشیم، وٹامن B1، کیلشیم، پروٹین اور زِنک بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔

ماہرین کی جانب سے رائی دانے کو روزانہ کی بنیاد پر خوراک میں شامل کرنا اور اس سے مستفید ہونا تجویز کیا جاتا ہے۔

رائی دانے کے روزانہ کی بنیاد پر حاصل ہونے والے بے شمار طبی فوائد اور رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیاں مندرجہ ذیل ہیں۔

بہتر نظام ہاضمہ

ہاضمے کی بہتر کارکردگی کے لیے رائی دانہ بہترین سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ انسانی جسم میں میٹابولزم کے عمل کو مضبوط بناتے ہیں اور ہاضمے کے مسائل کو کم کرتے ہیں، اس کے نتیجے میں انسان کا جسمانی وزن  کم ہوتا ہےخصوصاً باہر نکلا پیٹ اندر جانے لگتا ہے۔

جوڑوں کے درد کا علاج

کیلشیم اور میگنیشیم سے بھرپور ہونے کے سبب یہ عمر بڑھنے کے ساتھ خواتین کو ہڈیوں سے متعلق مسائل سے محفوظ رکھتے ہیں، چہرے سے جھریوں کا خاتمہ کرتے ہیں۔

کمر کے درد یا پٹھوں کی اکڑن کے مسئلے سے دوچار فراد رائی کے دانے چبا لیں، اس سے درد میں کمی آئے گی اور پٹھوں کی سختی اور سوجن کم ہوگی۔

کینسر سے نجات

رائی دانوں کے اندر ایسے انزائمز enzymes پائے جاتے ہیں جو بڑی آنت کے سرطان کا خاتمہ کرتے ہیں، یہ سرطانی خلیوں کو بڑھنے اور پیدا ہونے سے روکنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سوزش اور انفیکشن کا علاج رائی دانوں میں سیلینیم ہوتا ہے، جو دمے کے حملوں اور جوڑوں کے گٹھیا کے درد کی شدت کو کم کر دیتا ہے۔

رائی دانے سوزشوں بالخصوص چنبل کے نتیجے میں ہونے والے زخموں اور انفیکشنز کا مقابلہ کرنے کی بھرپورصلاحیت رکھتے ہیں۔

بلڈ پریشر کے مسائل میں معاون

رائی دانے میں موجود میگنیشیم فشار خون کو کم کرتا ہے اور یہ آدھے سر کے درد کی شدت میں بھی کمی لاتا ہے۔

وائرل انفیکشن، الرجی میں افاقہ 

رائی دانوں کی یہ خاصیت ہے کہ یہ نزلے کی شدت کو کم کرتے ہیں اور سانس کی نالی میں تنگی سے نجات حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

اگر کسی کو مٹی سے الرجی کے سبب سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے تو وہ رائی کے بیج چبالے، افاقہ ہوگا۔

صحت سے مزید