• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

زندگیوں میں انقلاب

میرا تو ماننا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب سنڈے میگزین جیسے شہ پارے ہی لاتے ہیں۔ حالیہ شمارے میں ’’حالات و اقعات‘‘ پر گہری نظر رکھنے والے لکھاری، منور مرزا افغانستان کی صورتِ حال زیرِبحث لائے۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں منور قلم کے مالک، منور راجپوت پارلیمنٹ کی بےتوقیری کا نوحہ بیان کررہے تھے۔ ’’تذکرئہ صحابیاتؓ‘‘ میں اس بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن حضرت شیما بنتِ حارثؓ کا ذکر محمود میاں نے اس خُوب صُورت اندازسےکیاکہ لفظ لفظ سےخوشبو بکھرتی محسوس ہوئی۔ ’’کہاں گئے وہ زمانے، کہاں گئے وہ لوگ.....؟‘‘ شہرِ ادب، لاہور کے حوالے سے جمیل یوسف نے کیا کیا گوہرِ نایاب یاد کروادیئے۔ لاہور واقعی علم و ادب، رنگوں، کالجوں، باغوں، تہذیبوں، ثقافتوں اور زندہ دلوں کاشہر ہے۔ ’’انٹرویو‘‘ میں شفق رفیع کی ماہرِتعلیم، محقّق اور نقّاد، ڈاکٹر شادب احسانی سے بات چیت زبردست تھی۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں نیشنل ویمن بیڈ مینٹن چیمپئن، ماحور شہزاد سے ملاقات پسند آئی۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں بھی پڑھائی میں دل لگانے کے لیے ماحول کی ترتیب خُوب سمجھائی گئی۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں طارق بلوچ صحرائی کا فن پارہ ’’مرنے سے پہلے‘‘ بہت کچھ سمجھا گیا، تو ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ کے دونوں ہیروز بھی حد درجہ متاثر کن تھے۔ ’’نئی کتابیں‘‘ میں اختر سعیدی کے زورِ قلم کا تو کیا ہی کہنا اور اب ذکر، سنڈے میگزین کے ماتھے کے جھومر ’’آپ کا صفحہ‘‘ کا۔ کہکشاں میں پھر جگمگائے، محمّد سلیم راجا اپنے منفرد اسٹائل کے ساتھ، تو پروفیسر منصور علی خان کے خدشات پر کچھ حیرانی سی ہوئی۔ (ضیاء الحق قائم خانی، جھڈّو، میرپورخاص)

ج: پروفیسر صاحب کے خدشات تو خود ہمارے لیے بھی خاصے حیران کُن تھے۔ اللہ جانے انُہیں کیوں لگا کہ ہمارے ارد گرد سازشوں کا کوئی جال بُنا جارہا ہے۔ الحمدللہ، ہمارا ایمان بہت پختہ ہے۔ پھر چوں کہ قرآن کی تلاوت کے ساتھ آیت الکرسی، چاروں قُل اور آفات سے تحفّظ کی دعائیں پڑھنا معمولات کا حصّہ ہیں، تو اللہ رب العزّت نے ہمیں آج تک حاسدین اور سازشیوں کے شر سے محفوظ ہی رکھا ہوا ہے۔

منظوم تبصرہ

ہمارا شعر و شاعری سے دُور دُور کا بھی واسطہ نہیں، مگر سنڈے میگزین پر ایک منظوم سا تبصرہ لکھ کر بھیج رہےہیں۔ دراصل آج کل ٹی وی کے چند چینلزپرنیوزکاسٹرزخبرنامےکی ہیڈلائنز بھی شاعرانہ انداز میں پڑھ رہے ہیں، تو ہم نے سوچا،کیوں نہ ہم بھی اسی طرز پر میگزین کی شان میں ایک قصیدہ لکھ بھیجیں۔ معیار کے مطابق نہ ہوا تو بھی خیر ہے،ردّی کی ٹوکری ہی کی کچھ خاطر تواضع ہوجائے گی۔ نئی کتابوں کےحصول سے متعلق آپ نےایک قاری کو مایوس ہی کرڈالا، حالاں کہ اگر آپ تھوڑی ہمّت کرلیں، تومسئلہ بہت آسانی سے حل ہو سکتا ہے،وہ اس طرح کہ جہاں آپ کتاب کے نام کے ساتھ مصنّف اور پبلشر کا نام لکھواتی ہیں، وہاں ان دونوں میں سےکسی ایک کا فون نمبر بھی لکھوا دیا کریں۔ آخر میں ہماری آپ سے ایک درخواست ہے کہ ہمیں علّامہ اقبال کی ایک نظم کی تلاش ہے۔ ہوسکے، تو سنڈے میگزین میں شایع فرمادیں۔ پہلا شعر غالباً کچھ یوں ہے ’’کوئی پوچھے جو امامت کی حقیقت مجھ سے..... تو اسے میری طرح صاحبِ اسرار کرے۔‘‘ اب میگزین پر منظوم تبصرہ ملاحظہ فرمائیں۔؎ کیا شُکر سنڈے کا دن آگیا.....کہ ہم راہ جس کے میگزین آگیا.....بڑی چاہ سے ہم نے لیا اس کو تھام.....پڑھا شوق سے تو یہ آیا خیال.....کریں تبصرہ ہم بھی کچھ حسبِ حال..... تو کرتے ہیں آغاز لے کے اللہ کا نام..... ’’سرچشمۂ حیات‘‘ لکھیں محترم محمود میاں..... جو کرتے ہیں اسلام کا عُمدہ بیاں..... تحاریر محترم حافظ ثانی کی لاثانی پیغام..... ہیں دینی لکھاری محترمہ سمیحہ قاضی..... کہ تبلیغ کرکے کرتی ہیں رہنمائی..... تو چھائیں شفق جی اُفق پہ صبح و شام..... ہیں مرزا صاحب عالم کے مخبر سپوت..... تنوّع سے لکھیں محترم راجپوت..... منوّر ہیں دونوں شمارے کے روشن سے نام..... پیارے گھر میں جو ہوجائیں داخل..... گھریلو مسائل کے پائیں وہاں خُوب یہ حل..... کچن میں جو جھانکیں پائیں بپا منہگائی کا کہرام..... کتابیں نئی ہوں تو ہے اک صفحہ..... کہ تفصیل سے جن پہ ہوتا ہے تبصرہ..... مگر آہ حصول اِن کا جان جوکھوں کا کام..... ناقابلِ فراموش ہیں وہ واقعات..... کہ ماضی کے قصّے ہیں سرمایہ حیات..... جو یادوں کی چلمن سے ہوتے ہیں ہم کلام..... اخیری صفحے کا ذرا حال دیکھیں..... خطوں سے سجی ایک محفل تو دیکھیں.....کہ دل چسپ سوالوں، جوابوں کا ہے یاں پہ اہتمام.....شمارے کو پڑھ کے ہوتا ہے دل باغ باغ..... مندرجات کے ادراک سے رہتا ہے تازہ دماغ..... یہ کُوزے کے دریا میں ڈبکی لگانے کا انجام۔ (ایم۔ بی۔ تبسّم، طارق روڈ، کراچی)

ج: آپ نے درست ہی فرمایا تھا کہ شعر و شاعری سے آپ کا دُور دُور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ منظوم تبصرہ پڑھتے پتا نہیں کیوں ہمارے دماغ میں تو ایک پرانی بھارتی فلم کا گانا گونجتا رہا۔ ’’تجھ سے پہلے لوں گی ممّی، ڈیڈی کا نام.....مجھے معاف کرنا اوم سائی رام۔‘‘ اور پھر آپ نے اقبال کے شعر کا جو حال کیا، اللہ کی پناہ۔ بہرحال، آپ کی اس قدر ’’اَن تھک محنت‘‘ کا کچھ تو صلہ ہونا چاہیے۔ سو، حسبِ خواہش علّامہ اقبال کی نظم ’’امامت‘‘ شایع کیے دے رہے ہیں۔؎ تُونے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے..... حق تجھے میری طرح صاحبِ اسرار کرے..... ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق..... جو تجھے حاضر و موجود سے بے زار کرے..... موت کے آئینے میں تجھ کو دِکھا کر رُخِ دوست..... زندگی تیرے لیے اور بھی دشوار کرے..... دے کے احساسِ زیاں تیرا لہو گرمادے..... فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے..... فتنۂ ملتِ بیضا ہے امامت اُس کی..... جو مسلماں کو سلاطیں کا پرستار کرے!!

انداز اچھا لگا؟

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دو ہی شماروں پر تبصرہ کروں گا۔ دونوں ہی میں متبّرک صفحات ِ ’’سرچشمہ ہدایت‘‘ موجود تھے۔ بعداز کورونا عالمی تجارتی منظر نامے میں امریکا، چین ہی چھائے نظر آتے ہیں کہ ایک سُپر پاور ہے اور دوسرا مستقبل کا سُپر پاور۔ ’’ویران ہوتے گھر آنگن، آباد ہوتے اولڈ ایج ہومز‘‘ دل دہلا دینے والا فیچر تھا۔ پڑھ کے دُکھ سے آنکھیں برستی رہیں۔ اس بار ’’یادداشتیں‘‘ میں شاہدحمیدتھے، جو واقعی نسلوں کے محسن ہیں اور یہ اُن کا کتابوں سے عشق ہی ہےکہ سنڈے میگزین کےسلسلے’’نئی کتابیں‘‘ میں ہربار بُک کارنر، جہلم کی شایع شدہ کتب کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ فادرز ڈےکےحوالے سے سنڈے اسپیشل، سینٹر اسپریڈ اور ایک پیغام، پیاروں کے نام بہترین انداز سے مرتّب کیے گئے۔ کہی اَن کہی میں سوشل میڈیا بلاگر، علی سجاد شاہ عرف ابو علیحہ اور تابش ہاشمی کے انٹرویوز لاجواب تھے۔ آپ کے حُکم کی تعمیل کرتے ہوئے آج میں نے درست طریقے سے خط لکھا ہے۔ آپ کو اچھا لگا؟ (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول نگر)

ج: جی، بےحد اچھا لگا۔ بلکہ دو تین بار آنکھیں کھول کھول کردیکھا کہ یہ آپ ہی کا خط ہے ناں!! شاباش، اب آئندہ اِسی طرح حاشیہ، سطر چھوڑ کے ہی لکھا کریں۔

خوش خطی کی تعریف

خوش رہو اور خوش کرتی رہو!پچھلے شمارے میں محمّد سلیم راجا کے خط کے جواب میں میری ہینڈ رائٹنگ کی خوش خطی کی تعریف کا بےحد شکریہ۔ دراصل یہ میرے خدا کی دین اور میرے والد صاحب کی طرف سے ودیعت کردہ ہدایت کا شاخسانہ ہے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کے لیے ایک انتخاب بھیج رہا ہوں۔ مناسب لگے تو شایع کردینا۔ (ڈاکٹر اطہر رانا، فیصل آباد)

ج: اے کاش! ابّا جی آپ کو یہ ہدایت بھی کرتے کہ ’’بیٹا!نسخہ لکھنے والے پھرّے پر خط و کتابت نہیں کی جاتی‘‘ سینئر ڈینٹل سرجن صاحب!آپ کو اللہ کا واسطہ، خط لکھنے کے لیے ایک پروپر لیٹر پیڈ خرید لیں یا کسی بچّے کے رجسٹر کےصفحات استعمال کرلیا کریں، ان ننّھے مُنّے پھرّوں کا کھیڑا چھوڑ دیں۔

فیشن ڈیزائننگ میں بی اے

سرِورق، مایہ ناز بیڈ منٹن چیمپئن، ماحور کے انداز سے جگمگا رہا تھا۔ اندرونی صفحات پر منور مرزا افغانستان کے حالات پہ بحث کرتے نظر آئے۔ منور راجپوت نے سیاسی گِدھوں کی کارکردگی پر لکھا، یہ سارے ہی سلیکٹڈ ہیں۔ محمود میاں نے حضرت شیما رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بہترین لکھا۔ جمیل یوسف نے اہلِ دانش و ادب اور لاہور کا تذکرہ احسن انداز میں کیا۔ شفق رفیع نے ڈاکٹر شادب کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ انہوں نے ٹھیک کہا، شاعر یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ پیارا گھر، ڈائجسٹ خُوب تھے۔ اگلا شمارہ بھی خُوب رُو ماڈل کی زندگی سے بھرپور حقیقی مسکراہٹ لیے تھا، تو کچھ افاقہ ہوا، انگوٹھیاں، بالیاں اچھی لگیں، مگر نیل پینٹ بالکل اچھا نہ تھا۔ مُراد خان کی کوئٹہ چائے ہوٹلز پر رپورٹ پڑھ کے لُطف آگیا۔ ڈاکٹر زبیدہ نے خواتین کے نفسیاتی امراض پر معلومات افزا تحریر قارئین کی نذر کی۔ ناقابلِ فراموش میں واقعہ ’’بدلے کی آگ‘‘ بہت پسندآیا۔ اورہاں، ہماراخواتین کے ملبوسات پر غور کرنا بنتا ہے، کیوں کہ ہم نے فیشن ڈیزائننگ میں بی اے جو کر رکھا ہے۔ (پیر جنید علی چشتی، ملتان)

ج:فیشن ڈیزائننگ میں بی اے.....پھر تو واقعی، آپ کا تبصرہ کرنا بنتا ہے۔

ایک خاندانی نواب ہیں

منور مرزا حالات و واقعات بیان فرما رہے تھے، ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں حضرت لیلیٰ بنت حشمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کےمتعلق بیان کیا گیا، اشاعتِ خصوصی میں شفق رفیع نے ایسے باپوں کا ذکر کیا، جو صاحبِ اولادہوتےہوئےبھی بے اولاد ہیں۔ ہیلتھ اینڈ فٹنس میں ڈاکٹر یاسمین شیخ نے برص کے متعلق معلومات فراہم کیں۔ رائو محمّد شاہد نے منتخب باپوں سےملاقات کروائی۔ سینٹر اسپریڈ میں آپ کی بات چیت لاجواب تھی۔ ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور ناریل اور پانی کے فوائد بیان کررہے تھے۔ اِک رشتہ، اِک کہانی میں دو کہانیاں شامل تھیں۔ نواب زادہ خادم ملک واقعی ایک خاندانی نواب ہیں۔ آپ کو ان کی قدر کرنی چاہیے۔ اگلے جریدے کے ’’سرچشمۂ ہدایت ‘‘ میں محمود میاں حضرت خولہ بنت ِقیس رضی اللہ عنہا کےحالاتِ زیست بیان کر رہے تھے۔ سنڈے اسپیشل میں فاروق اقدس نے پارلیمان کے متعلق سوال کیا کہ ’’یہ پارلیمان ہے یا سرکس کا میدان؟‘‘ ہیلتھ اینڈ فٹنس میں سوال و جواب پر مبنی مضمون معلوماتی تھا۔ ڈاکٹر بخت رواں کامضمون کچھ خشک سا لگا۔ تابش ہاشمی کی ’’کہی اَن کہی‘‘ بس ٹھیک ہی تھی۔ (سیّد زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)

ج:ہمارے بیش تر سلسلوں اور تحریروں سے متعلق آپ ہمیں ہی مطلع فرمارہے ہوتے ہیں کہ اِس سلسلے میں یہ تھا، تو اُس تحریر میں وہ تھا۔ بھیّا! آپ تبصرہ فرمایا کریں، نہ کہ ہمیں، خود ہمارے ہی شایع کردہ مضامین سے آگاہ کریں کہ اپنے شایع کردہ ہر ایک مضمون کی اِک اِک سطر ہم نے دسیوں بار پڑھ رکھی ہوتی ہے۔ اور یہ خادم ملک کےاصل نواب زادے ہونےکا الہام آپ کوکیسے ہوا؟ خواب میں اُن کا شجرۂ نسب ملاحظہ فرما لیا ہے کیا۔

دستر خوان بھی موجود تھا

’’اشاعتِ خصوصی‘‘میں ’’بڑی قربانی، بڑا انعام‘‘ منصور اصغر راجہ نے بہت اچھا مضمون لکھا۔ شفق رفیع نے بھی عید پر بڑے مسائل کا کیا خُوب تجزیہ کیا۔ اور رائو محمّد شاہداور منور راجپوت بھی اچھی تحریروں کے ساتھ آئے۔ سرِورق، سینٹر اسپریڈ شان دار تھے۔ محمّد ہمایوں ظفر نے اچھا سروے کیا۔ پیارا گھر میں دستر خوان بھی موجود تھا، بہت شکریہ۔ حالات و واقعات میں منور مرزا موجود تھے، اور سلیم راجہ کا بغیر نقطے کا خط تو بہت ہی پسند آیا۔ اگلے جریدے کےاشاعتِ خصوصی میں فاروق اعظم نے آزاد کشمیر کے انتخابات پر بھرپورمضمون لکھا۔ ماشاءاللہ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمود میاں موجود تھے۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں منصور اصغر راجہ، افغانستان میں امریکی ناکامی پر روشنی ڈال رہے تھے۔ عارف الحق عارف کی یادداشتیں پڑھ کر دل خوش ہوگیا۔ ڈائجسٹ کے دونوں افسانے اور غزل بہت پسند آئی۔ اور ایک پیغام، پیاروں کے نام میں ڈاکٹر اطہر رانا کے خُوب صُورت جذبات و احساسات بھی دل میں اُتر گئے۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی ،کراچی)

اس ہفتے کی چٹھی

تازہ شمارہ موصول ہوا، سرِورق پر ماڈل رنگ و بُو کےپردےمیں تشریف فرما تھیں۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں منور راجپوت ’’عالمی یومِ آبادی ‘‘ پر فکر انگیز مضمون لائے۔ دیگرممالک کی بات تو اپنی جگہ، مگر پاکستان کی بڑھتی آبادی اور گھٹتے وسائل بے پروا حکمرانوں کی خاص توجّہ چاہتے ہیں۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ ہی میں رائو محمّد شاہد نےمویشی منڈی میں ٹھگوں کے طریقۂ واردات سے آگاہ کیا۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمودمیاں نے نواسئ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت زینبؓ کے واقعاتِ زندگی، جن میں داستانِ کر بلا کے رنج و الم زیادہ ہیں، عمدگی سے بیان کیے۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں مُراد خان اسلام آباد میں کوئٹہ چائے ہوٹلوں کی یلغار کی رُوداد سُناتے نظر آئے۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ڈاکٹر زبیدہ مسعود آگاہ کر رہی تھیں کہ خواتین میں ذہنی و نفسیاتی مسائل مَردوں سےدُگنےہیں۔’’سینٹراسپریڈ‘‘میں عالیہ کاشف نے ماڈل کے ذریعے نئے ملبوسات سے متعارف کروایا۔ ’’انٹرویو‘‘ میں نسرین جبیں نے خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار، عرب شاہ کی کتھا بیان کی۔ ثاقب صغیرکا افسانہ ’’خواب‘‘ بہت ہی خُوب صُورت تھا۔ اخترسعیدی نے نئی کتابوں پر بےلاگ تبصرہ کیا۔ ناقابلِ فراموش کے دونوں واقعات بھی فکر انگیز تھے۔ اور ہمارے صفحے پر ہماری چِٹھی عید کی خوشیاں دوبالا کرگئی۔ اگلا شمارہ ’’عید ایڈیشن‘‘ تھا۔ سرِورق پر احباب رنگِ مسّرت سے سرشار لگے۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں منصور اصغر راجہ نے’’بےخطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق‘‘ کے عنوان سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش اور قربانیوں سے آگاہ کیا ۔ شفق رفیع نے بڑی عید اور بڑے مسائل کا تجزیہ کیا، تو رائو محمّد شاہد بھی ہماری ذمّےداریاں یاد کروا رہے تھے۔ ’’بکرا مشن‘‘ کے عنوان سے منور راجپوت فکاہیہ مضمون لائے۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کا رائٹ اپ پڑھنا شروع ہی کیا، تو یقین ہوگیا کہ ایڈیٹر صاحبہ کا تحریر کردہ ہے، کیوں کہ الفاظ پُکار پُکار کر کہہ رہے تھے کہ یہ آپ ہی کے قلم سے نکلے ہیں۔ ’’سروے‘‘ میں محمّد ہمایوں ظفر نےمختلف شعبہ ہائےزندگی کے سرکردہ افراد سے بات چیت کی، تو پیارا گھر میں روبینہ فرید نے قربانی کا حقیقی فلسفہ بیان کیا۔ ڈائجسٹ میں ثمرین مسعود نے بےمثال افسانہ لکھا، ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ اچھے انداز سے مرتّب کیا گیا اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں محمّد سلیم راجہ کی بے نقطہ تحریر کے تو کیا ہی کہنے۔ (شہزادہ بشیر محمد نقش بندی، میرپور خاص)

گوشہ برقی خُطوط
  • سنڈے میگزین لاجواب ہے۔ بیش تر مضامین پڑھنے کے لائق ہوتے ہیں۔ پروفیسر متین الرحمٰن مرتضیٰ سے متعلق آپ کی تحریر بہت شان دار تھی، پڑھ کے اندازہ ہوا کہ وہ کتنے بڑے انسان تھے۔ آپ نے میگزین کی کمیوں، غلطیوں کی نشان دہی کی اجازت دی ہے، تو سب سے پہلے تو آپ قارئین کو جواب ذرا محبّت سے دیا کریں۔ باقی خامیوں کی بھی آہستہ آہستہ نشان دہی کروں گا۔ (احمد علی خان، کراچی)

ج: جی.....آپ کا حُکم سر آنکھوں پہ۔ آج تک بس آپ ہی کی اِس ہدایت کا انتظار تھا۔

  • جنگ میڈیا گروپ کا سنڈے میگزین، اس گئے گزرے دَور میں بھی اردو گرامر کا پوراخیال رکھتے ہوئے کمال انداز میں صفحہ اول تا آخر مرتّب کیا جاتا ہے۔ ’’بڑی قربانی، بڑا انعام‘‘ منصور اصغر راجہ کی خُؤب صُورت تحریر تھی۔ ’’ایّامِ عید اور ہماری ذمّے داریاں…‘‘ رائومحمّد شاہد نےبہت اچھےانداز میں موضوع کا احاطہ کیا۔ شفق رفیع نے بھی ایک درد بھری حقیقت پر لکھا کہ ’’ناک بند کرکے بھی گزرنا دشوار لگتا ہے‘‘۔ منور راجپوت بکرامشن پرنکلے، تو ڈاکٹر شہنیلا کاشف نےحفظان صحت کے اصولوں پر عُمدہ بات کی، نیز، عیدپیغامات کا بھی جواب نہ تھا۔ بلاشبہ اس گئے گزرے دَور میں اتنے اہتمام، منفرد انداز اور صاف ستھری اردو گرامر کے ساتھ میگزین کا اجرا آپ کی علمی، صحافتی اور ادبی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے ؎ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ (نام نہیں لکھا)
  • یہ ایک تلخ حقیقت ہےکہ محمّد بن قاسم سے متعلق ہمارا سیکولر،دیسی لبرل طبقہ کچھ زیادہ اچھےجذبات نہیں رکھتااور ان کے مقابلے میں راجہ داہر کو ہیرو کےطور پرپیش کیاجاتا ہے۔ منور راجپوت کا آرٹیکل نظروں سے گزرا اور انہوں نے بھی وہی موقف اپنانے کی کوشش کی، جو نام نہاد سیکولر لبرلز کا ہے، حالاں کہ حقیقت اس کےبالکل برعکس ہے۔ (سیّد کامران احمدفاطمی، کراچی)

ج: اورحقیقت اِس کے بھی بالکل برعکس ہے، جو آپ بلاوجہ کی دانش وَری کی صُورت فرمارہے ہیں، ہم نے منوّرصاحب کامضمون لفظ لفظ پڑھا ہے، اُس میں ایسی کوئی بات قطعاً نہیں کی گئی۔

 قارئینِ کرام!

ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk

سنڈے میگزین سے مزید