• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بسوں میں کوئی بزرگ چڑھ جائے تو لوگ اپنی سیٹ دینے کے لئے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

راستے میں گاڑی یا بائیک خراب ہوجائے تو مدد کرنےوالے اتنے آجاتے ہیں کہ اچھا بھلا بندہ شرمندہ ہوجاتا ہے۔

رمضان میں افطار کے وقت سڑک سے گزر جائیں تو روزہ کھلوانے والوں سے جان چھڑانی مشکل ہوجاتی ہے۔

کراچی والوں کی یہ ادا مجھے بہت پسند ہے۔

اس کا کوئی والی وارث نہیں، مگر یہ سب کا وارث ہے

یہاں کے لوگ سخی ہیں۔ ملک کی تمام چھوٹی بڑی سینکڑوں سماجی تنظیموں کا یہی کراچی ہے۔

یہاں بھیک اتنی ملتی ہے کہ سڑکوں پر بھانت بھانت کے بھکاریوں کا راج ہے۔

ریستورانوں کے باہر مفت کھانے والوں کی لمبی لمبی قطاریں جابجا نظر آتی ہیں۔

آج کل خیراتی دستر خوان کا رواج چل پڑا ہے ،جہاں صدقے کا مٹن غیر مستحق لوگوں کا دل بھی لبھاتا ہے، کراچی میں خیراتی دسترخوانوں پر روزانہ کم سے کم چار سے پانچ لاکھ لوگ کھانا کھاتے ہیں۔

ہر دوگام بدلتی ہوئی زبان، کلچر اس شہر کا حسن ہے۔

دلی کی نہاری، سٹی کورٹ کے مرغ چھولے، کھارادر کی بریانی، جمشید روڈ کی مچھلی اور حلیم میں میری جان ہے۔

اس شہر کی اپنی مدد آپ کے تحت جینے کی خو مجھے بہت پسند ہے، اس کا کوئی والی وارث نہیں، مگر یہ سب کا وارث ہے۔۔

ایسا ہے میرا کراچی۔ (صدیق احمد)