• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکشن کمیشن کے تیور بدلے اور رجحان واضح نظر آرہا تھا، عامر ڈوگر


کراچی (ٹی وی رپورٹ) پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر کی الیکشن کمیشن پر تنقید،عامر ڈوگر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تیور بدلے اور رجحان واضح نظر آرہا تھا، پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے عامر ڈوگر کے موقف کو ”سنگین جملہ“ قرار دیدیا، ن لیگ کے رہنما عطاء اللہ تارڑ نے انکشاف کیا کہ راجہ سکندر سلطان کا بطور چیف الیکشن کمشنر نام خود تحریک انصاف کے رہنما پرویز خٹک نے پیش کیا تھا۔ تینوں رہنماؤں نے ان خیالات کا اظہار جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔شازیہ مری نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر حکومت کے الزامات افسوسناک ہیں،چیف الیکشن کمشنر آئینی طریقے سے منتخب ہوئے ہیں،ن لیگ کے رہنما عطاء اللہ تارڑنے کہا کہ ن لیگ کا الیکشن کمیشن سے کوئی ذاتی تعلق رابطہ نہیں ہے، عمران خان نیازی مافیاز کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے ہیں،تحریک انصاف کے رہنما عامر ڈوگر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تیور بدلے ہوئے نظر آرہے ہیں، کنٹونمنٹ الیکشن میں الیکشن کمیشن کا رجحان واضح تھا، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ای وی ایم کا معاملہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے پھنسا دیا ہے، اپوزیشن 2023ء کے الیکشن شفاف بنانے کیلئے تجاویز لائے، الیکشن کمیشن ایک آزاد اور خودمختار آئینی ادارہ ہے، الیکشن کمیشن آئندہ انتخابات شفاف بنانے کیلئے کردار ادا کرے۔ عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات پر الیکشن کمیشن کو کئی ماہ سے اعتماد میں لیا ہوا تھا، انتخابی اصلاحات کا معاملہ میچور ہوگیا تو اچانک الیکشن کمیشن نے رخ بدل لیا، الیکشن کمیشن سے متعلق کچھ موجود ہے تب ہی وزراء ایسی باتیں کررہے ہیں، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس کی بات میرے علم میں نہیں ہے۔عامر ڈوگر نے کہا کہ حکومت کیلئے اصل چیلنج اپوزیشن نہیں مہنگائی ہے، کنٹونمنٹ انتخابات میں شہری علاقوں میں پی ٹی آئی کی شکست کی بڑی وجہ مہنگائی ہے، مہنگائی سے دیہی علاقوں سے زیادہ لوگ شہری علاقوں میں متاثر ہورہے ہیں، تاریخ میں پہلی دفعہ پی ٹی آئی حکومت میں دیہی علاقوں میں خوشحالی آئی ہے، کسانوں کو 1200ارب روپے براہ راست دیئے ہیں، اس سال بمپر فصلیں ہوئی ہیں اگلے سالوں میں بھی ایسا ہی ہوگا، پی ٹی آئی حکومت میں پھل اور سبزی سستے ہیں۔پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر حکومت کے الزامات افسوسناک ہیں، فوادچوہدری کے بیان سے پتا چلتا ہے کہ حکومت اداروں کو کس نظر سے دیکھتی ہے، عمران خان کا الیکشن کمیشن سے متعلق حالیہ موقف پچھلے بیانات سے بالکل الگ نظر آرہا ہے، الیکشن کمیشن آزاد ادارہ ہے اسے اس کا کام کرنے دیں، الیکشن کمیشن جائز اعتراضات کرتا ہے تو اسے جلانے کی دھمکیاں نہیں دی جائیں، چیف الیکشن کمشنر آئینی طریقے سے منتخب ہوئے ہیں، پی ٹی آئی کا المیہ ہے انہوں نے آئین نہیں پڑھا ہے،الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر ہمیں خدشات ہیں۔ شازیہ مری کا کہنا تھا کہ عامر ڈوگر کا الیکشن کمیشن کے تیور بدلنے کا جملہ بہت سنگین ہے، یہ جملہ پی ٹی آئی کی ای سی پی پر تنقید کرنے کی پالیسی کے زمرے میں آتا ہے، عامر ڈوگر واقعی سیاسی کارکن ہیں تو پارٹی کی اس لائن کو آگے نہ بڑھائیں، حکومت اس ملک میں صاف و شفاف انتخابات چاہتی ہے یا نہیں چاہتی، دنیا کے 177ممالک میں سے صرف 8ممالک میں ای وی ایم استعمال ہوتی ہے، کئی مغربی ممالک ای وی ایم استعمال کرنے کے بعد بند کرچکے ہیں، ای وی ایم پر الیکشن کمیشن کو زبردستی راضی کرنا کہاں کا انصاف ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں غربت میں 40فیصد اضافہ ہوا ہے، پاکستان جیسا زرعی ملک گندم اور چینی باہر سے منگوارہا ہے، سستے داموں چینی بیچ کر مہنگے داموں باہر سے لاکر حکومت کسے بیوقوف بنارہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید