• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

5 ممالک کا کووڈ کے ساتھ رہنے، پابندیوں سے جان چھڑانے کا فیصلہ

کراچی(رفیق مانگٹ)دنیا کے پانچ ممالک ڈنمارک،سنگاپور، تھائی لینڈ،جنوبی افریقا اور چلی نے کووڈ19کے ساتھ رہنے، پابندیوں سے جان چھڑانے اورمعمولات زندگی کی طرف لوٹ آنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اٹھارہ ماہ سے زائد عرصہ سے دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے، اب متعدد ممالک نے فیصلہ کیا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ وہ کووڈ کے ساتھ رہنے کے ماڈل اپناتے ہوئے پابندیوں سے جان چھڑائیں اورمعمولات زندگی کی طرف لوٹ آئیں ۔کچھ ممالک کے پاس قابل رشک ویکسی نیشن کی شرح ہے ،دوسروں نے فیصلہ کیا ہے کہ مسلسل معاشی اور سماجی پابندیوں کے اخراجات فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔ ان پانچ ممالک کی حکمت عملی کو قریب سے دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ڈنمارک نے احتیاطی تدابیر کے خاتمے اور 10 ستمبر کو باقی تمام پابندیاں ہٹاتے ہوئے کہا کہ کووڈ 19 اب ایک بیماری نہیں رہی جو معاشرے کے لیے اہم خطرہ ہو۔ ڈنمارک شہری اب کووڈ پاسپورٹ دکھائے بغیر نائٹ کلبوں اور ریستورانوں میں داخل ہوسکتے ہیں، ماسک کے بغیر پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرسکتے ہیں اور بغیر کسی پابندی کے بڑی تعداد میں مل سکتے ہیں۔بنیادی طور پر وہ وبا سے قبل ان کی زندگی میں لوٹ آئیں ہیں۔ ڈنمارک کی کامیابی کا کلیدی جز اس کی ویکسی نیشن ہے،13 ستمبر تک، ڈنمارک کی 74 فیصد سے زیادہ آبادی مکمل طور پر ویکسین لے چکی تھی ۔ٹرانسمیشن کی شرح عشاریہ سات فی صد ہے یعنی وبا میں کمی جاری ہے۔ اگر یہ ایک فیصد سے زائد ہوتو، مستقبل قریب میں کووڈ 19 کے کیسز میں اضافہ ہوگا۔ اگر اس سے کم ہو تو مستقبل قریب میں کیسز کم ہو جائیں گے۔18دسمبر 2020 کو سب سے زیادہ کیسز 45سو سے زائد تھے پندرہ ستمبر کو 370کیسز سامنے آئے۔ سنگاپور کووڈ کے ساتھ رہنے کی کوشش میں ہے، لیکن ڈیلٹا رکاوٹ ہے ۔سنگاپور نے جون میں اعلان کیا تھا کہ وہ کووڈ حکمت عملی کے ساتھ زندگی گزارنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے یہ حکمت عملی شہریوں کی زندگیوں کو محدود کرنے کے بجائے ویکسین کے ذریعے وباء پر قابو پانے اور اسپتال میں داخل ہونے کی نگرانی ہے۔سنگاپور کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ بری خبر کہ کووڈ 19 کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ اچھی خبر کہ اس کے ساتھ معمول کے مطابق زندگی گزارنا ممکن ہے۔حکام نے اگست میں کچھ پابندیوں کو کم کرنا شروع کیا، جس سے مکمل ویکسی نیشن والے افراد کو ریستورانوں میں کھانا کھانے اور پانچ کے گروپوں میں جمع ہونے کی اجازت دی گئی۔لیکن انتہائی متعدی ڈیلٹا سے کیسز میں اضافے سے حکمت عملی دباؤ میں آگئی اور مزید کاروبار زندگی کو نہیں کھولا گیا ۔ عہدیداروں نے خبردار کیا کہ اگر کووڈ 19 کی نئی وبا پر قابو نہ پایا گیا تو پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ سنگاپور کی کووڈ 19 ٹاسک فورس نے کہا کہ وہ زیادہ مستعدی سے اس کا پتہ لگانے اور زیادہ خطرے کے کارکنوں کے لیے بار بار لازمی جانچ کے ذریعے وبا کو محدود کرنے کی کوشش کرے گی۔ حکام نے بتایا کہ اب تک، شدید بیمار ہونے والے افراد کی تعداد ویکسی نیشن کی بدولت کم ہے۔سنگاپور 81فی صد کے ساتھ دنیا میں سب سے زیادہ ویکسی نیشن والے ممالک میں ہے ۔ تھائی لینڈ میں ویکسین کا عمل سست ہے لیکن وہ نارمل زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ آئندہ ماہ بینکاک اور دیگر مشہور مقامات کو غیر ملکی سیاحوں کے لیے دوبارہ کھولنے کا ارادہ ہے، حکام نے کا کہ انفیکشن کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود اپنی اہم سیاحت کی صنعت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ توسیع شدہ پروگرام کے تحت، جو سیاح مکمل طور پر ویکسین کرا چکے اور ٹیسٹ نظام کے پابند ہوئے تو انہیں ہوا ہن، پٹایا اور چیانگ مائی شہروں میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ کنٹرول اقدامات کی بدولت، تھائی لینڈ نے کرونا کیسز پر کڑی نظر رکھی۔ ویکسی نیشن کی شرح کچھ ہمسایہ سے پیچھے ہے۔ صرف18فی صد تھائی آبادی نے ویکسی نیشن کرائی ۔جنوبی افریقہ نے پابندیوں میں نرمی کردی، لیکن ڈیلٹا اب بھی خطرہ ہے۔ انفیکشن کی شرح میں کمی کے ساتھ کئی کووڈ 19 پابندیوں کو کم کرنا شروع کر دیا ہے۔دیگر اقدامات کے علاوہ، ملک گیر کرفیو کو رات 11 بجے سے صبح 4 بجے تک محدودکردیا گیا۔ ان ڈورڈھائی سو اور آؤٹ ڈور پانچ سوافراد تک اجتماع کی اجازت دی گئی ۔ شراب کی فروخت پر پابندیاں مزید کم کر دی گئی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید