• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بدیسی زبان میں ابتدائی تعلیم، ظلم کے مترادف

مومنہ حنیف

مادری زبان کسی بھی قوم کی تہذیب و ثقافت کی پہچان اور فن و ادب کے اظہار کا ذریعہ ہے، جسے سیکھنے کے لیے ارادتاً کوئی کوشش یا محنت نہیں کی جاتی، کیوں کہ جب کوئی بچّہ ذرا شعور کی دُنیا میں قدم رکھتا ہے، توخصوصاً ماں سے جو جو سُنتا ہے، وہی بولنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ لغوی اعتبار سے بھی مادری زبان کا مطلب ’’ماں کی زبان‘‘ ہے۔فروغِ تعلیم اور تخلیقی صلاحیتوں پر کام کرنے والے تمام ادارے اس بات پر متفّق ہیں کہ تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھانے میں کوئی زبان، مادری زبان کا نعم البدل نہیں ہوسکتی۔ 

ہمارے سامنےمتعدّد ترقّی یافتہ مُمالک جیسے روس، چین، جرمنی، فرانس، جاپان، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکا وغیرہ کی مثالیں موجود ہیں،جہاں مادری زبان میں تعلیم دی جاتی ہے اور آج دُنیا بَھر میں ان کے علم و فن ، صنعت و حرفت اور معیشت کا طوطی بولتا ہے۔ مختلف تحقیقات کے مطابق جو بچّے ابتدائی تعلیم مادری زبان میں حاصل کرتے ہیں، اُن کی کارکردگی، اُن بچّوں کی نسبت، جو کسی نئی زبان میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، زیادہ بہتر ہوتی ہے، بلکہ وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ 

اس کے باوجود کئی مُمالک مادری زبان کو ذریعۂ تعلیم بنانے کے بجائے معصوم بچّوں پر اجنبی زبان تھوپنے پر اصرار کرتے ہیں۔افسوس کہ ہمارے مُلک کا شمار بھی ایسے مُمالک ہی کی فہرست میں کیاجاتا ہے۔ حالاں کہ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق بچّوں کی ابتدائی تعلیم کے لیے سب سے مؤثّر زبان، مادری زبان ہی ہے۔

مادری زبان میں تعلیم دینے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ چوں کہ بچّے کے پاس اپنی زبان کے علم کا ذخیرہ پہلے سے موجود ہوتا ہے، تو اس کے ذہن پر کم سے کم بوجھ پڑتا ہے۔ یونیسکو نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ’’ترقّی پذیر مُمالک میں تخلیقی صلاحیتوں کے فقدان کی بہت بڑی اور بنیادی وجہ مادری زبان میں تعلیم نہ دینا ہے۔‘‘عالمی ماہرین بھی اس بات پر متفّق ہیں کہ ’’چھوٹے بچّوں کو کم از کم 6سے8سال تک صرف مادری زبان ہی میں تعلیم دی جائے کہ اس عرصے میں سیکھنے کی صلاحیتیں عروج پر ہوتی ہیں‘‘ اور ہم یہ سُنہرا وقت بچّوں کو ایک اجنبی زبان سکھانے میں برباد کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں پڑھائے جانے والے تمام مضامین پر ان کی گرفت کم زور پڑنے لگتی ہے۔

کیا یہ ظلم نہیں کہ جو زبان بچّے کی گُھٹّی میں پڑی ہو، جس زبان میں ماں بچّے کو لوریاں سُناتی ہے، پالنے سے جس زبان کو سُن کر وہ ہوش سنبھالتا ہے،اُن الفاط کو بولنے کی کوشش بھی کرتا ہے اور جس زبان میں سوچتا ہے، اُس کے جذبات وخیالات کی تعمیر ہوتی ہے، اُسے ترک کرکے اسکول جاتے ہی غیروں کی زبان کا طوق اُس کے گلے ڈال دیا جائے۔ایک ایسا بوجھ ، جسے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اُٹھانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

بچّوں کو مادری زبان آسان لگتی ہے، وہ اپنی ماں کی زبان کی مشکل باتوں کو بھی نہ صرف آسانی سے سمجھ لیتے ہیں، بلکہ ذرا بڑے ہو کر کسی اور زبان پر بھی عبورحاصل کرسکتے ہیں۔ مگر جب کسی دوسری زبان میں تعلیم دی جاتی ہے،تو ان کی شخصیت پر اس کے منفی اثرات لازماً مرتّب ہوتے ہیں، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مُلک بَھر کے تمام سرکاری و نجی اسکولز میں صوبوں کی مناسبت سےنصاب مادری زبان میں نافذ العمل کیا جائے۔ 

یاد رکھیں، بچّے سوچتے ہمیشہ اپنی مادری زبان ہی میں ہیں، بعد ازاں ضرورت کے مطابق اُنہیں اپنے خیالات دوسری زبان میں منتقل کرنے پڑتے ہیں، تو اگر انہیں مادری زبان ہی میں اظہار کا موقع مل جا ئے تو وہ اپنی ذہنی و فکری صلاحیتیں زیادہ بہتر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید