• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب صحافی کو تلوار سے زخمی کرنے پر شاہ رخ کو جیل جانا پڑا

بالی ووڈ کے نامور اداکار شاہ رخ خان کو فلمی کیریئر کے ابتدائی دنوں میں صحافی کو تلوار دکھاکر دھمکانے اور زخمی کرنے پر جیل کی بھی ہوا کھانی پڑ گئی تھی۔ 

ان تمام واقعات کو شاہ رخ خان نے 9 برس قبل اپنے ایک انٹرویو کے دوران بیان کیا تھا۔ 

شاہ رخ کا کہنا تھا کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب وہ 1993 میں فلم "کبھی ہاں کبھی ناں" کی شوٹنگ میں مصروف تھے اور گوری خان سے شادی ہوئے دو برس کا عرصہ گزر چکا تھا۔ 

بالی ووڈ کے بادشاہ نے ان واقعات کا ذکر کیا جو انہیں جیل پہنچانے کی وجہ بنے۔ 

شاہ رخ خان کا کہنا تھا کہ ایک صحافی نے مجھ سے متعلق یہ خبر لگائی تھی کہ میرا اپنی ساتھی اداکارہ کے ساتھ افیئر ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ اس وقت میری بیوی یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگئی تھی کہ کیا میں نے کسی غلط آدمی سے تو شادی نہیں کرلی۔ 

لیجنڈری اداکار کا کہنا تھا کہ میں نے اس صحافی کے ساتھ برا سلوک کیا، میں شادی پر اپنے سسر کی جانب سے دی گئی تلوار لےکر اس صحافی کے گھر پہنچ گیا، جہاں ایک نوجوان شخص کو میں نے زخمی کردیا تھا۔  

شاہ رخ کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے کے بعد دوبارہ فلم "کبھی ہاں کبھی ناں" کے سیٹ پر پہنچ گئے، تاہم اگلے روز پولیس بھی سیٹ پر آگئی اور انہیں پکڑ کر لے گئی۔ 

 انہوں نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن میں انہیں فون کرنے کی اجازت ملی تو انہوں نے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی سے مدد طلب نہیں کی بلکہ اسی شخص کو دوبارہ فون کرکے دھمکی دے ڈالی۔ 

شاہ رخ خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے فون کرکے اس شخص سے کہا کہ "اب تو میں جیل بھی چلا گیا ہوں، اب نکل کر آؤں گا اور تجھے کاٹ کر جاؤں گا۔"

بالی ووڈ کے بادشاہ کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر ساتھی اداکار نانا پاٹیکر نے ان کی ضمانت کروائی تھی۔ 

انٹرٹینمنٹ سے مزید