• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گیس اور تیزابیت کا علاج کیسے ممکن ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ میڈیکل سائنس میں  غذاؤں کی ٹھنڈی یا گرم تاثیر کا کوئی تاثر نہیں پایا جاتا تاہم کونسی غذا کتنی مقدار میں لی جا رہی ہے یہ ضرور معنی رکھتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق مسالے دار غذاؤں کا استعمال انسانی صحت اور معدے کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے جبکہ مسالے کے علاوہ غذاؤں میں بکرے اور گائے کا گوشت، مرغن، مسالے دار غذائیں، بیج جیسے کہ السی، اجوائن، خشک میوہ جات بھی تیزابیت اور معدے میں گیس کا سبب بنتے ہیں اور ان کا ضرورت سے زیادہ استعمال کسی دائمی بیماری کا بھی سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غذائیں ہضم کرنے کے لیے انسانی جسم زیادہ سے زیادہ گرمائش پیدا کرتا ہے، مسالے دار اور مرغن غذائیں ہضم کرنے کے لیے معدے کو زیادہ وقت اور گرمائش میسر ہوتی ہے، اس عمل کے دوران معدے اور سینے کی جلن محسوس ہونا ہی تیزابیت کہلاتی ہے۔

تیزابیت اور گیس سے بچنے کا علاج کیا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے پانی ہر جلتی چیز کو بُجھاتا ہے، اسی طرح معدے کی تیزابیت اور گیس میں بھی پانی اہم اور مثبت کردار ادا کرتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق پانی کے علاوہ ایسی غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیے جس سے معدے کی تیزابیت کم کرنے میں مدد ملے جیسے کہ تربوز، کھیرا، کچی ہری سبزیاں، لسی، دودھ، دہی، ستو اور ناریل کا  پانی وغیرہ۔

ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ تیزابیت اور گیس کی شکایت پر شروعات ہی میں  قابو پا لینا چاہیے ورنہ یہ شکایت دائمی بھی ہو سکتی ہے۔

تیزابیت اور معدے میں گیس سے بچنے کے لیے کھانے کے بعد سونف، پودینے اور الائچی کا قہوہ بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق معدے میں گرمی کی شکایت دور کرنے کے لیے اپنی غذائی روٹین کو بہتر اور مثبت بنانا سب سے بہتر اور دیرپا علاج ہے۔

صحت سے مزید