• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان میں امریکا کا کردار اور موجودہ حالات

افغانستان میں بہت تیزی سے حالات بگڑ رہے ہیں کہ عالمی میڈیا خبردار کر رہا ہے کہ مختلف شدید بحران کسی بھی وقت ایک خوفناک طوفان کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ فکر انگیز بات یہ ہے کہ بیس سال کا عرصہ، تین لاکھ سے زائد فوج جو جدید ہتھیاروں سے مسلح تھی جس کو 35ملین ڈالر کی مدد حاصل تھی۔ اس نے سات سال جنگ لڑی اس کے 65 ہزار سے زائد سپاہی مارے گئے جبکہ امریکہ کے ڈھائی ہزار کے قریب سپاہی ہلاک ہوئے۔ آخرکار افغانستان کی جنگ کا نتیجہ کیا نکلا فوج نے ہتھیار ڈال دیئے۔ 

اشرف غنی کی حکومت ڈھے گئی،جبکہ دُوسری طرف امریکی فوجی پُراسرار طور پر افغانستان چھوڑ گئے اور پیچھے اپنا بھاری اسلحہ بھی چھوڑ گئے۔ 15؍ اگست کی صبح یہ خبر پوری دُنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر ملک حیران تھا کہ یہ کیا معجزہ ہوا، کابل پر طالبان کا قبضہ ہوگیا جبکہ کچھ دن قبل تک افغان حکومت کا مؤقف تھا کہ ہم مضبوط ہیں، ہمارے سپاہیوں کے حوصلے بلند ہیں۔ صدر اشرف غنی نے پچھلے دنوں جب امریکا کا دورہ کیا تھا تو صدر جوبائیڈن کو بھی یقین دلایا تھا کہ ہم لڑ رہے ہیں جلد اچھی خبریں دیں گے، مگر کچھ عرصہ بعد اشرف غنی کی حکومت اور ان کی فوج کچی دیوار کی طرح ختم ہوگئی۔ 

اس اہم ترین خبر کا عالمی برادری نے جو اَثر لیا وہ تو لیا ہوگا مگر امریکی عوام نے یہ خبر بہت حیرانی، پریشانی اور غم و غصّہ سے سُنی اور پھر عوام کا عمومی رویہ بھی ایسا ہی تھا۔ امریکی میڈیا جیسے پھٹ پڑا۔ بنیادی سوالات میں ایک اہم سوال سب کے ذہنوں میں مچل رہا تھا کہ آخر امریکی فوجیوں نے پُراسرار انداز میں افغانستان کیوں چھوڑا۔ اس سوال کے ہرچند بہت سے جوابات دیئے جا سکتے ہیں مگر حیرت انگیزبات یہ ہے کہ سوالات کا ایک سلسلہ ہے اور ہر سوال جواب طلب ہے۔ 

مثلاً بیس سال کا عرصہ، دو دہائیاں پھر بھی نتیجہ ہزیمت، شرمندگی اور لاحاصل۔ اس حوالےسے کہا جاتا ہے کہ گزرے بیس برسوں میں پانچ امریکی صدور آئے اور کسی نے کچھ کیا، کسی نے کچھ کرنے کی کوشش کی مگر کر کوئی نہ سکا، کسی نے بونگیاں ماریں اور غلط فیصلے کر ڈالے ،آخرکار مرد بیمار نے جیسے تیسےیہ طوق اپنے گلے سے اُتار پھینکا، دُوسرے عام لفظوں افغانستان کی گدڑی سے جان چھڑائی، مگر جان تو ایسے نہیں چھوٹتی۔ میڈیا جان کو آ گیا ہے۔ اس ضمن میں صدر کے میڈیا صلاح کار اور وائٹ ہائوس کے ترجمان میڈیا کا سامنا کرتے ہوئے نڈھال ہو رہے ہیں۔

ستّر کی دہائی میں امریکی صدر ،رچرڈ نکسن پر پچپن ہزار ڈالر اپنی انتخابی مہم کے لئے کسی سے لینے کا الزام تھا جو بعد میں دُرست نکلا اور رچرڈ نکسن اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ۔یہ واقعہ واٹر گیٹ اسکینڈل کے نام سے موسوم ہے، مگر صدر جوبائیڈن نے اپنی لگ بھگ نصف ٹرم پوری کر لی ہے وہ سارا ملبہ سابق صدر ٹرمپ پر ڈال رہے ہیں کہ یہ فیصلہ صدر ٹرمپ کا تھا، میں نے ان کے فیصلے پر عمل کیاہے۔ کچھ مبصرین صدر کے بیان سے متفق نہیں ہیں، ان کا کہنا ہے کہ لگ بھگ دو سال سے صدر جوبائیڈن اوول آفس میں براجمان ہیں تو اس عرصہ میں انہوں ہی نے کیا۔ 

سابق صدر ٹرمپ کا فیصلہ ماننے اور اس پر عمل کرنے کا مطلب کیا ہے۔صدر جوبائیڈن نے اس مسئلے کی سنگینی اور اس کے نتائج کا ادراک ہی نہیں کیا۔ گزرے بیس اکیس سالہ دور میں چار امریکی صدور کی کارکردگی پر نظریں دوڑائیں تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ سابق صدر ،جارج ڈبلیو بش جونیئر کی بہت بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے افغانستان کے مسئلے سے نظریں ہٹا کر عراق پر توجہ مبذول کر لی، سابق صدر بل کلنٹن نے جیسے تیسے اپنا وقت پورا کیا۔ افغانستان آہستہ آہستہ سُلگتا رہا۔ 

سابق صدر باراک اوباما نے ایک دُرست فیصلہ کرتے ہوئے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء پر زور دیا۔ باراک اوباما کے اس فیصلے کے بعد پینٹاگون کے جنرلز نے واویلا مچا دیا کہ فی الفور یہ ممکن نہیں ہے۔ افغانستان میں حالات بہت نازک ہیں اگر امریکی فوجوں کا انخلاء عمل میں آیا تو خانہ جنگی ہو جائے گی اور بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ پینٹاگون اس سے قبل بھی وائٹ ہائوس کے بعض سیاسی فیصلوں کو کسی نہ کسی طور رَدّ کرتا رہا۔ باراک اوباما اور وائٹ ہاؤس کے مثبت فیصلے کو رَدّ کر دیا گیا۔ 

بعدازاں سابق صدر ٹرمپ نے اپنی سیماب طبیعت کے حوالے سے بیانات کے سلسلے شروع کر دیئے اور ایک موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ تک کہہ دیا اگر میں دس لاکھ افراد ہلاک کر دوں تو افغانستان کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہو جائے گا،مگر دلچسپ بات یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو ممالک کو بھی نظرانداز کرکے طالبان رہنمائوں سے براہ راست مذاکرات کا سلسلہ شروع کر دیا جبکہ نیٹو کے فوجی بھی افغانستان میں امریکیوں کے ساتھ ہیں مگر ٹرمپ نے اس ضمن میں طالبان کے ساتھ جو مذاکرات کئے اور جو سجھوتہ طے کیا وہ بعد میں یک طرفہ ثابت ہوا، مگر پھر سوال یہ اُٹھتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ غیرسیاسی آدمی تھے جبکہ صدر جوبائیڈن سیاست و سفارت کاری اور مذاکرات کے پرانے کہنہ مشق کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے یہ ٹھوکر کیسے کھائی۔ اس طرح بیش تر تلخ سوالات ہیں جو واشنگٹن ڈی سی اور گرد و نواح میں گردش کر رہے ہیں۔ 

مزید دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ کہ اب پینٹاگون کا مؤقف ہے کہ افغانستان کے حوالے سے جو بھی فیصلے وائٹ ہائوس صادر کرتا رہا ہم اس پر عمل کرتے رہے ہیں۔ صدر جوبائیڈن نے کہا کہ فوجی واپس بلائیں ہم نے بلوا لئے مگر ہمیں افغانستان میں اور بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا رہا، ہم ان مسائل پر بھی نظر رکھتے رہے۔ جنرل سے پوچھا گیا کہ بتائیں مزید مسائل کیا تھے۔ انہوں نے جواب دیا میں کھلے عام ان مسائل کا ذکر نہیں کر سکتا۔ درحقیقت اب پینٹاگون سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے اس طرح کے الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔ 

اگر باراک اوباما کے دور میں امریکی فوجیوں کا انخلا ہو جاتا تو افغانستان میں مسائل اتنے اُلجھتے نہ خطّہ کے امن کو آج جیسے خطرات لاحق ہوتے۔مگر کرپشن، لالچ اور حرص نے تقریباً طاقت کے سرچشموں یا مراکز کو بھٹکا دیا ہے۔ اس طرح امریکی طاقت کا مرکز بھی اس دَلدل میں لتھڑا ہوا ہے۔ عراق امریکہ جنگ میں یہ تصاویر شائع ہو چکی ہیں کہ امریکی فوجیوں نے کس طرح لوٹ مار کی، ڈالروں سے بھرے کریٹ کون کون لے گیا۔ دراصل ملک، قوم، امن اور انسانیت سے ادارے بھی مفادات کی تکمیل کے لئے کرپشن کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن کا مؤقف ہے کہ دوحہ قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں سابق صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ یہ طے کیا تھا کہ، مئی 2021ء سے قبل امریکی فوجی افغانستان سے نکل جائیں گے، لہٰذا ہم کو معاہدہ کی رُو سے افغانستان سے نکلنا پڑا۔ اگر دیکھا جائے تو امریکی صدر کا مؤقف بھی دُرست ہے، کیونکہ عالمی سیاست میں اب خاصی تیزی سے تبدیلیاں رُونما ہو رہی ہیں۔ امریکی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی یہ نظر آتی ہے کہ ماضی میں یورپ اور مشرق وسطیٰ کو خطرہ کے مسئلے پر پالیسیاں وضع ہوتی رہی تھیں، مگر بدلتے حالات میں بحرالکاہل اور بحرہند کی آبی گزرگاہوں کو خطرے کے مسئلے پر پالیسیاں وضع کی جا رہی ہیں۔ 

عالمی سیاست میں ان اہم تبدیلیوں کی وجہ چین ہے ،جو اپنی تجارتی پالیسی ون بیلٹ ون روڈ کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ چین اس ضمن میں بحیرۂ جنوبی چین میں قدرتی جزیروں کے ساتھ مصنوعی جزیرہ تعمیر کر کے وہاں بہت بڑا بحری، برّی اور فضائی اَڈّہ تعمیر کر چکا ہے، اس لئے امریکہ کو بھی اپنی پوری توجہ اس جانب مبذول کرنا پڑی ہے اور افغانستان سے اس وجہ سےعجلت میں نکلنا پڑا ،تاکہ مزید جانی اور مالی نقصانات سے بچا جائے۔

مبصرین اس کے ساتھ دُوسری وجہ یہ بتاتے ہیں کہ افغانستان میں طالبان نے القاعدہ کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات استوار کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور القاعدہ گروپ بھی یہی چاہتا ہے کہ افغانستان جو اُن کے لئے محفوظ پناہ گاہ ہے اس کو اپنا مسکن بنائیں جبکہ دُوسری طرف داعش کے بیش تر جنگجو عراق اور شام سے خفیہ طور پر افغانستان میں داخل ہو چکے ہیں اورمزید جنگجو آ رہے ہیں۔ 

ایسے میں امریکہ نہیں چاہے گا کہ ان حالات میں ان دہشت گرد تنظیموں سے اُلجھا جائے اس طرح خدشہ ہے افغانستان کہیں بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز نہ بن جائے، کیونکہ افغانستان جن گمبھیر مسائل کا شکار ہے اور حالات مزید مخدوش ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں انتہاپسند تنظیمیں باآسانی اپنے قدم جما سکتی ہیں اور اپنی تنظیم کی توسیع بھی کر سکتی ہیں۔ داعش اور طالبان کے مذہبی اور سیاسی نظریات میں جو اختلاف ہے،وہ یہ کہ طالبان ’’خلافت‘‘ افغانستان میں قائم کرنا چاہتے ہیں جبکہ داعش کا نظریہ ہے کہ عراق اور شام سمیت بحیرۂ روم کے مشرقی ساحل پر محیط خطّہ میں خلافت اور شرعی نظام قائم کیا جائے۔ داعش نے حال ہی میں کابل میں خودکش بم دھماکہ کیا تھا ،جس میں تیرہ امریکی اور ستّر کے قریب افغانی سپاہی ہلاک ہوئے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ۔ 

اس حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ داعش نے ایک طرح سے اس خطّے میں اپنی موجودگی اور قوت کا احساس دلایا ہے۔ طالبان کو بھی یقیناً ادراک ہوگا کہ داعش کیا کر سکتے ہیں ،اس لئے طالبان القاعدہ کو نرم گوشہ فراہم کر رہے ہیں۔ اگر داعش افغانستان میں قدم جمانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے پورا خطّہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک میں بھی انتہاپسند گروہ موجود ہیں۔ پرانے امریکی باشندوں کا جنگل کی آگ سے محفوظ رہنے کا طریقہ کار یہ تھا کہ جب انہیں معلوم ہوتا کہ ان کی بستی سے کچھ دُور آگ لگی ہے تو وہ فوری طور پر اپنی بستی کے اطراف کی جھاڑ جھنکار کو خود آگ لگا کر اصل آگ کے ان کی بستی تک پہنچنے سے قبل اطراف کی صفائی کر کے کچھ نہ چھوڑتے کہ آگ ان تک نہ پہنچ سکے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں بھی ٹی ٹی پی کے نام سے ایک منظم گروہ موجود ہے اور اس کا بھی لگ بھگ وہی ایجنڈا ہے جو افغان طالبان کا ہے۔ ٹی ٹی پی کے بعض رہنما جو جیل میں تھے، انہیں کابل میں رہا کر دیا گیا۔ اس حوالے سے پاکستان کو تشویش مگر وزیراعظم عمران خان نے عندیہ دیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے رہنماؤں سے مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ جذبہ مثبت ہے مگر اس کی ان کے پاس یا کسی اور کے پاس کیا ضمانت ہے کہ آپ کی شرائط تسلیم بھی کر لیں اور ان پر عمل بھی کریں، بلکہ ٹی ٹی پی کی طرف سے بیان بھی آیا کہ کیسے مذاکرات اور کیسی عام معافی، یہ ہمارے منشور میں نہیں ہے۔

تاریخ یہ بتلاتی ہے کہ جہاں جہاں مختلف ایجنڈے پر سرگرم انتہاپسند گروہ رہے وہ مذاکرات اور پُرامن سمجھوتوں سے گریزاں رہے۔ اگر کوئی گروہ اپنے ایجنڈے میں ترمیم کر کے سمجھوتے پر راضی بھی ہوا تو وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا، بعد میں سمجھوتے سے منحرف ہوگیا۔ یہاں طالبان اور امریکہ کے مابین دوحہ قطر میں جو طے پایا تھا اس کی فوری خلاف ورزی طالبان ہی نے کی اور ایک نکتہ پر عمل نہ کیا۔

نوّے کی دہائی میں افغان مجاہدین کی پانچ برس تک کابل میں حکومت قائم رہی اس دوران افغان مجاہدین نے اپنے ایجنڈے پر عمل کیا۔ مثلاً عورتوں کو برقعہ کا اور گھر سے اکیلے نہ نکلنے کا پابند بنایا، لڑکیوں کی تعلیم پرپابندی لگائی، اس طرح کے دیگر (بقول مجاہدین کے) شرعی قوانین پر عمل نہ کرنے والوں کو سخت سزائیں دیں۔ اسکول کالج بند رہے۔ اب طالبان نے ہرچند کہ اگست میں کابل میں اپنی حکومت بنانے کے بعد یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ طالبان حکومت کوئی بے جا پابندی عائد نہیں کر رہی ہے ،لڑکیاں تعلیم حاصل کر سکتی ہیں لیکن برقعہ لازمی ہوگا وغیرہ۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں طالبان میں شامل تمام گروہ شریعت کے نفاذ اور ایک ایجنڈے پر متحد ہوئے ہیں۔ اگر ایجنڈے میں ذرا بھی ترمیم یا نرمی کی گئی تو پھر یہ اتحاد بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ محض اپنا ایک سوفٹ اَمیج قائم کرنے اور دُنیا سے مدد اور تعاون حاصل کرنے کے لئے ہے۔ ہائی اسکول اور یونیورسٹی کی سطح تک لڑکیوں پر پابندیاں عائد ہیں اس وجہ سے ایک ماہ سے کابل یونیورسٹی اور تمام ہائی اسکول بند ہیں، تاہم حال ہی میں طالبان کے نمائندہ خصوصی نے کہا کہ عورتوں کو کام پر جانے کی اجازت ہے البتہ انہیں شرعی قوانین پر عمل کرناہوگا۔

افغان نژاد خاتون، محبوبہ راوی جو آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہیں، ان کے کابل میں پانچ یتیم خانے، چھ اسکول اور ایک فری میڈیکل سینٹر قائم ہیں۔ محبوبہ راوی کا کہنا ہے کہ کئی خاندان جو افغانستان سے باہر یتیم افغان بچوں کو گود لینا چاہتے ہیں مگر کہا جا رہا ہے کہ طالبان ایسا نہیں ہونے دیں گے اور چاہیں گے یہ یتیم بچّے ان کی فورس کا حصہ بنیں۔ مذکورہ افغان سماجی رہنما کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کی جاری صورت حال سے پوری طرح واقف ہیں۔ عوام کی اکثریت مرد و زَن سب ہی شدید اعصابی دبائو اور غیریقینی حالات کا شکار ہیں، بچّے خوف زدہ ہیں، پورا افغان معاشرہ ایک عجیب سی گھٹن کا شکار لگتا ہے۔ 

محبوبہ راوی کا مزید کہنا ہے کہ چند ہفتوں ہی میں نظر آ گیا ہے کہ طالبان جو کہہ رہے ہیں وہ کریں گے نہیں بلکہ وہ اپنے ایجنڈے پر ہی عمل کریں گے۔ آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان نے کابل میں اپنی مخلوط حکومت تشکیل دینے کے بعد جو کر رہے ہیں وہ بتا نہیں رہے اور جو بتلا رہے ہیں وہ کر نہیں رہے ہیں۔ طالبان کے ایک ترجمان نے میڈیا کو بتایا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے علاوہ کچھ اور دھڑے بھی ہتھیار بند اور آزاد ہیں۔ یہ دھڑے ہم سے نظریاتی طور پر متفق ہیں کوئی اختلاف نہیں مگر وہ ہمارے ڈسپلن میں نہیں آنا چاہتے بلکہ آزاد کام کر رہے ہیں۔ سال 2020ء میں جو امن معاہدہ طے پایا تھا، اس حوالے سے ان آزاد جنگجو دھڑوں کو اعتماد میں لینا ایک کارِدارد تھا۔ اگر اب بھی کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو ہمیں پھر وہی عمل دُہرانا ہوگا۔ 

وائٹ ہائوس کے ذرائع اور میڈیا کے مطابق بیس سال کے عرصے میں امریکہ نے افغانستان اور پر 2.3ٹریلین ڈالرز پھونک دیئے۔ اس معاملہ پر بھی امریکی رائے عامہ صدر جو بائیڈن اور ان کی انتظامیہ سے بہت سے سوال پوچھ رہی ہے۔ صدر جوبائیڈن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صدر کے سامنے سب سے بڑا اور اہم سوال یہ تھا کہ ایک لاکھ بیس ہزارسے زائد امریکی اور نیٹو کے فوجی ،افغانستان سے کیسے نکالے جائیں ، انہیں خدشہ تھا کہ طالبان، ان کا کوئی دھڑا یا آزاد جنگجو دھڑوں میں سے کوئی اگر امریکی فوجیوں پر حملہ کر دے تو معاملہ بہت سنگین ہو جاتا۔ ایسے میں صدر نے جو دُرست سمجھا وہ کیا،تاہم یہ بات اہم ہے کہ پرامن انخلاء عمل میں آیا کوئی ناگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

کہا جاتا ہے کہ امریکہ ایک سپر پاور ہے۔ وہ بیس سال افغانستان میں رہا توہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا تھا۔ اگست میں امریکی اور نیٹو فوجیوں کے انخلاء کے بعد بھی آج افغانستان میں ایک ہزار کے قریب امریکی موجود ہیں جو جیولوجیکل سروے سمیت دیگر اُمور پر کام کر رہے ہیں۔ اگر افغانستان کی جدید تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو گزرے بتیس برسوں میں دو اہم بڑے واقعات نے افغانستان کو آج اس حال میں لا کھڑا کیا ہے۔ 

ایک 1979ء کا ’’ثور انقلاب‘‘ جس کے رُوح رواں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے نور محمد ترہ کئی تھے دُوسرا سال 2001ء کا واقعہ، جب امریکہ نے اُسامہ بن لادن اور القاعدہ کے کچھ جنگجوؤں افغان رہنمائوں سے مطالبہ کیا کہ انہیں امریکہ کے حوالے کریں، جس پر افغان رہنمائوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ، وہ ہماری پناہ میں ہیں ہم ان کو حوالے نہیں کر سکتے جبکہ اسامہ بن لادن نیویارک میں ٹریڈ ٹاور پر حملے کے بعد آ کر افغانستان میں پناہ لئے ہوئے تھا۔ ایسے میں صدر جارج بش نے افغانستان پر حملہ کر دیا، حالانکہ امریکی حکومت افغان رہنمائوں کو سمجھانے کی کوشش کرتی رہی کہ ہماری مجاہدین افغان حکومت سے کوئی دُشمنی نہیں ہے۔ ہمیں اسامہ اور القاعدہ کے جنگجو چاہئیں مگر افغان رہنما اپنی ضد پر ڈٹے رہے، تب امریکی صدر بش نے افغانستان پر حملے کا حکم دیا۔ اس طرح ان دو واقعات نے افغانستان کو آج یہاں لا کھڑا کیا ہے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے واقعہ’’ ثور انقلاب ‘‘میں بائیں بازو کے رہنما شریک تھے جبکہ نائن الیون کے بعد کے واقعہ میں دائیں بازو کے مذہبی رہنما شریک تھے، گویا دائیں اور بائیں بازو کے افغان رہنماؤں نے تاریخی دھاروں اور زمینی حقائق کو نظرانداز کر کے فیصلے کئے، جس سے بے گناہ افغان عوام پر دُکھوں اور مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ البتہ 1979ء کے ثور انقلاب کے حوالے سے، نور محمد ترہ کئی کی حکومت نے جو اصلاحات شروع کیں، کہا جاتا ہے کہ اس کے ثمرات آنے شروع ہو رہے تھے، ایسے میں سی آئی اے نے افغانستان میں خاص طور پر افغانستان کے اطراف ملکوں میں اپنی سرگرمیاں تیز کر دی تھیں۔ 

اس حوالے سے فرانسیسی زبان کے معروف اخبار لی فگارو نے اپنی تین جولائی 1979ء کی اشاعت میں لکھا کہ ’’ایک انتہائی قدامت پسند معاشرے میں جو اسلامی روایات کا پابند بھی ہے، وہاں ایک ترقّی پسند انقلاب کی لائی ہوئی تبدیلیوں کے خلاف بغاوت سمجھ میں آتی ہے۔ جب انقلاب ثور کے اوّلین نشانات ظاہر ہونے لگے تھے، اس وقت ہی سی آئی اے اور امریکی ماہرین سمجھ گئے تھے کہ امریکہ اس سے کیا فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔ امریکہ نے اسی وقت اس پر عمل شروع کر دیا تھا۔ امریکہ افغانستان میں بغاوت کو بڑھاوا دینے میں ہر طرح سےکامیاب رہا۔‘‘

واضح رہے کہ ایران میں پچاس کی دہائی میں بائیں بازو کے رہنما وزیر اعظم مصدق نے ایران کے شاہ کا تختہ اُلٹ دیا تھا اور ایرانی تیل کو قومی ملکیت میں لے لیا تھا۔ وزیراعظم مصدق کی حکومت کو سی آئی اے اور یورپی ممالک نے بُری طرح کچل دیا، انقلاب کو سبوتاژ کیا اور مصدق کی لاش کو تہران کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا تھا۔ اس حوالے سے سرد جنگ کے دور میں خاص طور پر ساٹھ، ستّر اور اَسّی کی دہائیوں میں سی آئی اے نے ترقّی پذیر ملکوں میں جہاں جہاں بائیں بازو کے عناصر نے سر اُٹھایا اورا س دور کے فوجی آمروں اور مطلق العنان حکمرانوں کے ظلم و ستم کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، وہاں وہاں سی آئی اے اور اس کے معاون دائیں بازو کے عناصر نے مشترکہ طور پر بائیں بازو کی روشن خیال تحریکوں کو بُری طرح کچل دیا۔ 

کہا جاتا ہے کہ نازی جرمنی کے دور میں وہ ستم نہیں ڈھائے گئے جو سی آئی اےنے ان ملکوں میں ڈھائے، بالخصوص جنوبی امریکی ممالک مثلاً برازیل، ارجنٹینا، وینزویلا، یوروگوئے اور چلی وغیرہ اور دیگر ممالک میں فوجی حکومتوں اور غیرجمہوری عناصر کے تسلط کو مستحکم کرنے میں بہت بھیانک کردار ادا کیا۔ جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار کا پرچار کرتے نہ تھکنے والے ملک امریکہ اور اس کے رُسوائے زمانہ خفیہ ادارے ،سی آئی اے نے بہت ظلم ڈھائے اور اپنے ہی نعروں کو بے دریغ کچل ڈالا۔ 

اس طرح سرد جنگ کے واقعات اور سی آئی اے کے کردار پر بہت کچھ لکھا گیا ، بیش تر ترقّی پذیر معاشرے اس دور کے زخم اب تک چاٹ رہے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کے عوام نے بھی بہت سے مصائب جھیلے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انقلاب سب سے پہلے اپنے بچّوں کو کھا جاتا ہے، مگر سی آئی اے نے کئی انقلابات کو ہی ہضم کر لیا اور جمہوری تحریکوں کو سبوتاژ کیا ہے۔ 

سابق سوویت یونین کے منتشر ہونے کے بعد امریکی پالیسی میں قدرے تبدیلی نمودار ہوئی ہے اور امریکی رہنما جمہوری قدروں، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کا پرچار کرتے نہیں تھکتے ہیں۔ اگر افغانستان میں امریکہ عوام کو ورغلا کر، ثور انقلاب کو بُری طرح سبوتاژ نہ کرتا تو آج افغانستان ایک خوشحال، روشن خیال اور ترقّی یافتہ ملک ہوتا، مگر آج خود امریکہ کو اپنی ہی لگائی ہوئی آگ جھلسا رہی ہے۔