• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم، آرمی چیف کی نئے ڈی جی ISI کی تقرری پر مشاورت مکمل ہوچکی، فواد چوہدری




وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر مشاورت کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور نئی تقرری کا پراسس شروع ہو چکا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ایک بار پھر سول اور فوجی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملک کے استحکام، سالمیت اور ترقی کیلئے تمام ادارے متحد اور یکساں ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت کے درمیان بہت آئیڈیل تعلقات ہیں اور نئے ڈی جی آئی ایس آئی کا تقرر وزیراعظم کا اختیار ہے جس کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ہوئے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفکیشن کا معاملہ بھی زیربحث آیا، وزیر اعظم عمران خان نے اس معاملے پراراکین کو اعتماد میں لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ اس معاملے کو غلط رنگ نہ دیاجائے ، اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے حوالے سے کوئی اختلاف نہیں، ہم ایک پیج پر ہیں اور معاملہ خوش اسلوبی سے جلد حل ہوجائے گا۔

آئی ایس آئی چیف کی تقرری کے نوٹیفکیشن سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دی جائے ۔

فواد چوہدری نے میڈیا کو بتایا تھا کہ وزیراعظم نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے حوالے سے کابینہ کو اعتماد میں لیا جبکہ وزیراعظم اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے درمیان طویل ملاقات بھی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ آرمی چیف اور وزیراعظم کے آپس میں بہت قریبی اور خوشگوار تعلقات ہیں، بہت لوگوں کی خواہش ہوگی مگر وزیر اعظم آفس کبھی بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے پاکستان کی فوج یا پاکستان کے سپہ سالار کی عزت میں کمی ہو اور پاکستان کی فوج یا سپہ سالار بھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے وزیر اعظم یا سول سیٹ اپ کی عزت میں کمی ہو۔

فواد چوہدری نے کہا کہ دونوں کا ایک دوسرے سے قریبی تعاون، رابطہ اور تعلق ہے، نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے لیے قانونی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا اور اس پر بھی دونوں کا اتفاق رائے ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقرر ہمیشہ وسیع البنیاد مشاورت کی بنیاد پر ہوتا ہے اور ڈی جی آئی ایس آئی کا تقرر قانونی طور پر تمام چیزیں مکمل کرنے کے بعد ہو گا۔

اس موقع پر صحافیوں نے دو تین ضمنی سوالات کئے اور پوچھا کہ اگر ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری قانونی طریقہ کار کے مطابق کی جا ئے تو کیا مو جودہ تقرری قانون کے مطابق نہیں ہے ؟ فواد چوہدری نے کسی سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ میں اس سوال کا جواب دے چکا ہوں ، انہوں نے با ضابطہ میڈیا کی تعریف کی اور کہا کہ اس نے اس معاملے میں سنسنی نہیں پھیلائی جس طرح سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی ۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ان دنوں وزیر اعظم آ فس کی جانب سے نئے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کے تقرر کےنوٹی فکیشن کے اجراء کے حوالے سے مستقل قیاس آرائیوں کی لپیٹ میں ہے۔

قومی خبریں سے مزید