• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منگل کے روز جاری کی گئی عالمی معیشت کے جائزے پر مبنی رپورٹ پاکستان کے لئے اِس لحاظ سے حوصلہ افزا ہے کہ اس میں مہنگائی و بیروزگاری میں کمی کی پیش گوئی کی گئی ہے تاہم کرنٹ اکائونٹ میں خسارہ بڑھنے کے امکانات اس ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس باب میں موثر تدابیر بروئے کار لائی جائیں اور دیگر تدابیر کے علاوہ وطن عزیز کو زرعی اجناس پر انحصار کرنے والے ملک کی بجائے زراعتی شعبے کی ترقی کے ذریعے برآمدات کا حامل ملک بنایا جائے۔ موجودہ حکومت ملک میں سیاحت بڑھانے اور اندرون ملک صنعتوں کی حوصلہ افزائی کے جو اعلانات کرتی رہی ہے، انہیں بروئے کار لانے سمیت متعدد شعبوں میں تیزی سے کام جاری رکھا جائے تو اس مشکل صورتحال سے نکلا جا سکتا ہے جس سے بعض پاکستانی ماہرین کے مطابق ملکی معیشت تاحال دوچار ہے۔ قرضے دینے والے مالیاتی ادارے کی نئی جائزہ رپورٹ (ورلڈ اکنامک آئوٹ لک اکتوبر 2021) میں دنیا بھر کی معیشتوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جولائی میں کئے گئے تخمینے میں کئی تبدیلیاں ہوئی ہیں جن کی رو سے رواں سال 2021میں دنیا بھر میں اقتصادی شرح نمو 5.9فیصد رہنے کی توقع ہے جو جولائی کی پیش گوئی سے 0.1فیصد کم ہے تاہم 2022میں یہ شرح نمو 4.9فیصد تک سست ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ کےمطابق رواں برس شرح نمو کے اعتبار سے بھارت 9.5،چین 8، برطانیہ 6.8امریکا 6، یورپ 5فیصد پر رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان کے حوالے سے رپورٹ میں شرح نمو 4فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ جبکہ حکومت پاکستان نے رواں مالی سال میں شرح نمو کا ہدف 4.8فیصد رکھا ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں گزشتہ برس پاکستان کی شرح نمو 3.9فیصد ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ رپورٹ کے بموجب مہنگائی کی شرح رواں برس 8.9فیصد اور آئندہ سال 8.5رہنے کی توقع ہے۔ بیروزگاری کی شرح 5فیصد سے کم ہوکر آئندہ برس 4.8.ہو جائے گی ۔کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ جی ڈی پی کے 3.1فیصد پر چلاجائے گا۔ آئی ایم ایف نے دنیا کو تجویز دی ہے کہ 2021کے آخر تک ہر ملک اپنی40فیصد آبادی اور 2022تک 70فیصد آبادی کے لئے کورونا ویکسی نیشن مکمل کرلے۔ اس منظر نامے میں پاکستان کے لحاظ سے یہ بات قابلِ اطمینان ہے کہ کئی مشکلات کے باوجود ویکسین کی فراہمی اور لوگوں کو انجکشن لگانے کا کام آگے بڑھتا نظر آ رہا ہے اور اب 12سال کی عمر تک کے افراد کو ویکسین دی جارہی ہے جبکہ چوتھی لہر کے باعث دنیا بھر میں جو واقعات سامنے آئے انہیں پیش نظر رکھتے ہوئے 60سال سے زائد عمر کے لوگوں کو متعلقہ ادارے نے مشورہ دیا ہے کہ وہ کورونا ویکسین کی تیسری خوراک بھی لے لیں۔ ترقی یافتہ معیشتوں کے حوالے سے توقع ظاہر کی گئی ہے کہ رواں برس معاشی شرح نمو جولائی کے تخمینے سے 0.4فیصد کمی کے ساتھ 5.2فیصد اور 2022میں سابقہ تخمینے سے 0.1فیصداضافے کے ساتھ 4.5فیصد رہے گی تاہم چین کو چھوڑ کر ابھرتی ہوئی مارکیٹ اور ترقی پذیر معیشتوں میں پیداوار 2024میں وبائی امراض سے پہلے کی پیش گوئی سے کم 5.5رہنے کی توقع ہے پاکستان کے بعض ماہرین معیشت کے تجزیوں کے مطابق وطن عزیز کے مالی حالات تاحال خرابی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کو 6ارب ڈالر کا پیکیج مکمل کرنے کیلئے انتہائی سخت شرائط پیش کی ہیں اور وزیر خزانہ شوکت ترین کے دورہ امریکا کا مقصد اسی صورتحال پر بات چیت کرنا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مسائل کتنے بھی گمبھیر ہوں، ان کا حل خود پاکستانی قوم اور اس کے ماہرین کو تلاش کرنا ہو گا۔ اس باب میں یہ بات اہم ہے کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جائے اورملکی وسائل پر قابض اشرافیہ کو ٹیکس دینے پر آمادہ کیا جائے۔

تازہ ترین