| |
Home Page
جمعہ 26 ربیع الاوّل 1439ھ 15 دسمبر2017ء
شکیل انجم
September 05, 2015 | 12:00 am
شکریہ!جسٹس جواد ایس خواجہ

Todays Print News

لگ بھگ 42برسوںبعد عدالت عظمیٰ نے 1973کے آئین کے تحت اردو کو عملی طور پر قومی زبان کے طور پر رائج کرنے کا حکم دیا ہے۔یہ حکم اس ملک کو فرنگی زبان کے اثر سے نکالنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔جس پر 80کی دہائی میں ہی عمل درآمد ہو جانا چاہیے تھالیکن آئین کے باغی آمروں نے اس پر عمل نہیں ہونے دیا۔اسلام کے نام پر گیارہ سال تک غیر آئینی طور پر اقتدار پر قابض رہنے والے جنرل ضیاء الحق نے آئین کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ۔تاریخ اسے ہمیشہ یاد رکھے گی۔اس آمر نے اردو کو رائج کرنے کا آئینی تقاضہ پورا کرنے کے بجائے انگریزی زبان کا تسلط اس قدرمضبوط کر دیا کہ آنے والی جمہوری حکومتیں بھی اس ضمن میں کچھ نہیں کر سکیں۔اس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ آمروں کا آئین پر یقین نہیں ہوتا اور آئین کو پامال کر کے اقتدار پر قابض ہوتے ہیں۔یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ غیر آئینی طور پر اقتدار میںآنے والے ضیاء الحق کے طویل دور آمریت کے بعد قائم ہونے والی غیر مستحکم جمہوری حکومتوں کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ اپنی بقا کے علاوہ کسی اور نکتہ پر توجہ دیتیں۔افراتفری اور غیر یقینی کیفیت میں ادھورے وقت کے لیے قائم رہنے والی جمہوری حکومتوںکے پاس ایسا کوئی موقع نہیں تھا کہ یہ قومی ترقی کے اصل اہداف حاصل کرتیں۔ ان حالات میں جب طالع آزمائوں نے اس قوم کو آزمائشوں میں الجھائے رکھا اور جمہوری حکومتوں کو آئین پر عمل درآمد کرنے سے روکے رکھا۔عدلیہ کی تاریخ میں مختصر ترین مدت کے لئے عدالت عظمیٰ کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز رہنے والے جسٹس جواد ایس خواجہ کا قوم پر یہ احسان ہے کہ انھوں نے اردو کو دفتری زبان بنانے کے آئینی تقاضے کو پورا کرنے کے لئے اسے اپنے ایجنڈے میں کلیدی حیثیت دی۔
لیکن اب جبکہ ماحول میں خوشگوار تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں اور تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ اختیار اور حدود میں رہتے ہوئے قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔بہتری کے راستے آسان ہوتے نظر آرہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا آمریت کی پروردہ اور تربیت یافتہ نوکر شاہی اردو کو دفتری زبان بنانے کے لئے کوئی مثبت کردار ادا کرے گی یا ماضی کی طرح اردو کو مذاق بنا کر پیش کرےگی۔اب تک ملنے والے شواہد سے تو ثابت ہو تا ہے کہ نوکر شاہی اردو کا تمسخر اڑا رہی ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے جب اردو کو دفتری زبان بنانے کا فیصلہ کیا تو اس کی خوبصورتی برقرار رکھنے کے لئے جدید اردو کی ترویج کے لئے مقتدرہ قومی زبان جیسے بڑے ادارے قائم کیے۔لیکن موجودہ نوکر شاہی جدید کے بجائے متروک اردو کو رائج کر کے اردو کا مذاق اڑانے کے درپے ہے اورمتروک اردو، فارسی اور سنسکرت کا ملغوبہ بنا کر اردو کے بجائے ایک زبان پیش کی جارہی ہے جو عام حالات میں بھی سمجھی یا پڑھی نہیں جا سکتی ۔سول ویں اور سترویں صدی کی متروک اردو کا اجراء یقیناً جدید نسل کو تین چار سو سال پیچھے دھکیل کر اور انہیں اس خوبصورت زبان سے نفرت کرنے پر مجبور کرنے کی سازش ہوگی۔یہ جدید نسل جو انگریزی زبان کے زیر اثر ہے ،کیسے ایسی زبان کو قبول کر سکتی ہے جو ماضی میں ہی ناپسندیدہ قرار دے کر متروک ہو چکی ہے۔
اس تمام عمل کے دوران مقتدرہ قومی زبان جیسے مستند اداروں میں رائج کردی جس سے استفادہ کرنے کے بجائے مخصوص دفتری انگریزی زبان کے زیر اثر کسی ہیڈ کلرک سے اردو میں دفتری زبان "Design"کرائی اور یہ ثابت ہوگیا بند ذہن ایسی ہی متروک اردو متعارف کراسکتے ہیں جسے کچہری کی زبان کہا جاتا ہے۔ Office Circularکا ترجمہ "گشتی مراسلہ "کرنے والے اردو کے حسن نفاست اور خوبصورتی سے نابلد ہیں۔انہیں بخوبی علم ہے کہ "گشتی "کا لفظ ہماری ماحول اور معاشرے میں کن معنوں میں لیا جاتا ہے۔لیکن شائد اردو کو بے آبرو کرنا اور اس کا تمسخر اڑانا ان کا مطمع نظر ہو۔
آئین کے آرٹیکل 251کے تحت اردو کو بطور سرکاری اور دفتری زبان نافذ کرنے کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے حکم کے بعد کیبنٹ ڈویژن کے علاوہ مختلف وزارتوں کی جانب سے جاری کئے جانے والے "گشتی مراسلوں"میں اس بات کا عندیہ دیا گیا ہے کہ اردو ایک نامکمل زبان ہے اور اسے انگریزی الفاظ کے سہارے کی ضرورت ہے۔ان حوالوں سے جاری ہونے والے مراسلوں میں کوئی ایک ایسا نہیں جس میں انگریزی کے الفاظ استعمال نہ کئے گئے ہوں۔یہاں تک کہ ان کے پاس سیکرٹری ، جوائنٹ سیکریٹری ، انٹرنیشنل سیکریٹری انچارج ، فنانس ڈویژن، کوآرڈینشن ، ونگ اور سیکشن آفیسر سمیت بے شمار عام فہم الفاظ کے اردو میں متبادل الفاظ موجود نہیں ہیں۔اہم اور اعلیٰ عہدوں پر فائض افراد کو یہ علم نہیں کہ یہ مصدقہ اور مسلمہ حقیقت ہے کہ جدید اردو کا شمار دنیا کی شیریں اور مکمل ترین زبانوں میں ہوتا ہے۔اس کے لفظوں کی تازگی خیالوں میں نکھار اورمٹھاس پیدا کرتی ہے اور اردو پڑھنے ، بولنے اور سمجھنے والا اس کے سحر میں کھو جاتا ہے۔اس زبان میں متروک الفاظ اور بے محل انگریزی الفاظ کی ملاوٹ کڑواہٹ پیدا کردیتی ہے۔جو موجودہ دفتری زبان میں موجود ہے۔
عدالت عظمیٰ کو اپنے حکم میں اس سطر کا اضافہ کرنا چاہیے کہ "اردو کورائج کریں ، اس کا مذاق نہ اڑائیں"تاکہ اردو کو انگریزی زدہ نوکر شاہی کے ہاتھوں بے توقیری سے بچایا جاسکے۔