| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
پرو فیسر سید اسرار بخاری
October 21, 2016 | 12:00 am
سر رہ گزر

Sar E Guzar

میاں ساڈا آوے ای آوے
وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے:ڈگڈگی بجانے والوں سے کوئی ڈر نہیں، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کم، بجلی اور پٹرول سستے ہو گئے، ہم سڑکیں بناتے تم ناپتے رہو گے۔
ڈگڈگی بجانے والے تو کئی ہیں مگر سُر میں کسی کسی کی بجتی ہے، اور ڈگڈگی بے سُر بے تال بجے تو ماہر رقاص کو علم ہو جاتا ہے، کہ کہاں کتنے ماترے کم یا زیادہ بجے ہیں، سچ تو یہ ہے کہ ڈگڈگی کون نہیں بجا رہا، اصل ڈگڈگی بجانے والے کے پاس ایک بندر ہوتا ہے، یہاں ڈگڈگی ایک اور ’’باندر‘‘ ہزار ہوتے ہیں، قوم کس کس کا پیٹ بھرے، بہرحال نواز شریف آج کے باکمال سیاسی مقرر ہیں، ان کے جملوں لفظوں اور خطیبانہ ادائوں میں بلا کی کشش آ گئی ہے، ’’شریفانِ ملت‘‘ شرافت کی ڈگڈگی بجاتے رہیں، سب بے سُرے جو ایک ایک کر کے آتے ہیں اسی طرح رخصت ہو جائیں گے، میاں صاحب کو ن لیگ کا ایک بار پھر صدر منتخب ہونے پر مبارکباد! اور پاکستان شاد باد، لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی بلاشبہ اتنی کم ہو گئی ہے، کہ سخت سردی کے مہینوں میں جس گیس لوڈ شیڈنگ کا اعلان کر دیا گیا ہے اس کی چبھن تو محسوس ہی نہیں ہو گی، پٹرول اس قدر سستا کہ اب گیس کے چولہے پٹرول سے جلیں گے سڑکیں ناپنے والوں کی تو قسمت ہی خراب ہے، البتہ سڑکوں کی حد تک خوش قسمت ہیں، کہ وہ سڑکوں پر اور فٹ پاتھوں پر عوام آتے ہیں، میاں صاحب کبیر و صغیر دونوں کی شرافت کی نذر حافظ کا یہ شعر؎
مئے دو سالہ معشوق چہار دہ سالہ
بس ہمیں است مرا بصحبت صغیر و کبیر
پورا ترجمہ ہمارے کام کا نہیں لیکن حافظ نے بھی کہا ہے، کہ مجھے چھوٹے بڑے کی صحبت ہی کافی ہے، اور ہم کہہ چکے ہیں کہ ایک بڑے اور دوسرے چھوٹے میاں صاحب پر ہمارا سردست گزارہ ہے، باقی تو یہاں ہمارا ہرمہربان بیچارہ ہے، اس لئے ان کے کتھارسس کے لئے سڑکیں وافر بنا دی گئی ہیں۔
٭٭٭٭
قیاس کن ز گلستانِ من بہارِ مرا!
وزیر اعلیٰ سندھ:عمران آج کرکٹ کھیلتے تو ٹیم ہار جاتی، وزیراعظم سندھ کو ساتھ لے کر نہیں چلے تو گو نواز گو ہو گا، شاید وزیر اعلیٰ سندھ نے فارسی نہیں پڑھی ’’گو نواز گو‘‘ کا مطلب ہوتا ہے (بولو نواز بولو!) پتہ نہیں ہم ہر لفظ کو انگریزی کا کیوں سمجھ بیٹھتے ہیں، اور قبلہ وزیر اعلیٰ سندھ! آپ نے یہ کیا غضب ڈھا دیا کہ عمران کو کرکٹ ہارنے کا طعنہ دے دیا وہ کرکٹ ہی کھیلتے رہتے، تو اچھا ہوتا، کم از کم وہ وزیر اعظم کی پگڑی سے تو نہ کھیلتے، کہئے اس پگڑی اچھال کھیل سے عوام کو کیا فائدہ ہو گا۔ البتہ یہ جو وزیر اعلیٰ نے سندھ کو ساتھ لے کر چلنے کا مطالبہ کیا ہے تو اس میں ہم ان کے ساتھ ہیں، اگر سندھ کو واقعتاً مرکز، ساتھ لے کر چلتا تو عروس پاکستان کراچی کی مانگ یوں نہ اجڑتی، اور باقی ماندہ سندھ میں غربت، محرومی اور بیروزگاری کا راج نہ ہوتا، مرکز بڑا بھائی ہوتا، چھوٹے بھائیوں کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہئے، مگر ان کو اب اپنا چھوٹا نہ سمجھیں وہ کب کے بڑے ہو چکے ہیں۔ سندھ میں نہایت سریلی ڈھولک بجانے والے فنکار کو دیکھا کہ وہ سر ڈھانپتا تو پیر ننگے اور پیر ڈھانپتا تو سر ننگا میں اس صدمے کا کرب دیکھتا رہ گیا اس کے لئے کچھ نہ کر سکا، بس سندھ انٹیریئر کا احوال یہ ہے کہ اس ایک مثال سے اتنا کہوں گا؎
قیاس کن ز گلستانِ من بہار مرا
(میرے چمن کی حالت دیکھ کر میر بہار کا اندازہ کر لو)
کراچی کی طنابیں ہر طرف سے کسی جا رہی ہیں، مگر بدامنی ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتی، حکومت سندھ، مرکز اور عسکری ادارے مل کر کوئی حتمی نسخہ تجویز کریں، کوئی ایسی کیمو تھیراپی کریں کہ بدامنی کا سرطان جڑوں سمیت اکھاڑا جا سکے، وزیر اعلیٰ سندھ، اپنے صوبے کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، مرکز پورے سے زیادہ تعاون کرے تو بات بنے۔
٭٭٭٭
مزا تو جب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی
میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی کے زیر اہتمام سیمینار میں ڈاکٹرز اور سول سوسائٹی کے معزز افراد نے مجموعی طور پر قرار دیا کہ بڑھتی آبادی، بیروزگاری، مذہب سے دوری نفسیاتی امراض کا باعث ہیں، ہمارا خیال ہے کہ ہر مرض پہلے نفسیاتی ہوتا ہے، بعد میں وہ جسمانی خرابی کی صورت اختیار کرتا ہے، اس کائنات میں مثبت کا وجود ہے، منفی کا وجود ہی نہیں، بلکہ یوں کہئے کہ مثبت کی نفی ہی منفی ذہنیت کو جنم دیتی ہے، اور یہ لاشئی کئی اشیاء کے وجود کو بھانت بھانت کے روگ لگا دیتی ہے، مثلاً موت کا ڈر ایک بہت بڑا عامل ہے جو انسانی زندگی کو قدم قدم روکتا ہے، اگر اہل فکر و نظر یہ بتا دیں کہ اللہ نے انسان کو باقی رکھنے کے لئے پیدا کیا ہے، تو یہ موت بھی شاید موت نہ لگے، بلکہ ایک جہاں سے زیادہ بہتر جہاں کی طرف منتقلی ہو، سب نے ایک دن مر جانا ہے کا مطلب اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے، آپ دیکھتے نہیں کہ اہل جنت ہوں یا دوزخ دونوں کو قرآن حکیم نے ’’خالدون‘‘ کہا ہے یعنی ہمیشہ زندہ رہنے والے اب یہ تو بندے کے اعمال ہیں کہ وہ جنت کا خالد بنے یا دوزخ کا، بہرحال دونوں جگہ موت نہیں، کہ موت سے تو سارا کھیل ہی ختم ہو جاتا ہے، سید المرسلین ﷺکا یہ فرمان اپنے اندر سارے حل سارے جواب رکھتا ہے۔ ’’کاد الفقران یکون کفرا‘‘ (خدشہ ہے کہ محرومی کہیں اقلیم کفر میں داخل نہ ہو جائے) ہمیں محرومیوں کو دور کرنا ہو گا، خود کچھ پانے سے بہتر ہے کہ کسی کی محرومی کا مداوا کیا جائے، ایسے شخص کو کبھی غمناک نہ دیکھا جس نے گرتوں کو تھام لیا۔
٭٭٭٭
کس عروج پہ ستارہِ جائے فروش ہے
....Oسوشل میڈیا پر ان دنوں پاکستانی چائے فروش کی دھوم بھارت میں بھی مقبول،
ہائے یہ کس کا نام لے لیا تو نے، جس کے بارے ابوالکلام نے کہا؎
اے چائے! تجھے کیسے کہوں کہ تو کیا ہے
اقبال بھی چائے پر خاموش نہ رہ سکے اور کہا؎
نہ ہر کہ سر بتراشد قلندری داند
نہ ہر کہ چائے بنوشد ابوالکلام شود
(ہر ’’ٹنڈ‘‘ کرانے والا قلندری نہیں جانتا اور ہر چائے پینے والا ابوالکلام نہیں ہو جاتا۔ خدا کرے کہ اس پاکستانی چائے فروش کی ساقی گری کی لاج قائم دائم رہے، اور اس سے کبھی ہم بھی کہہ سکیں؎
گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی چائے کا ’’ٹھوٹا‘‘ مرے آگے
....Oٹرمپ کی اہلیہ میلانیا نے اپنے شوہر کے بارے میں کہا ہے میرا شوہر معصوم اور شریف انسان ہے،
خدا کرے کہ ہر بیوی میلانیا ہو اور کوئی شوہر ٹرمپ نہ ہو!
....Oوزیر اعلیٰ سندھ نے عمران خان کو ملازمت کی پیشکش کی ہے،
قبول کر لیں یہ نہ ہو کہ کل یہ کہنے والا بھی کوئی نہ ہو،
....Oحافظ سعید:نواز شریف کشمیر آزاد کرائیں میں غلام بن جائوں گا،
یہ غلام نہ بننے کا بہترین طریقہ ہے۔


.