| |
Home Page
منگل یکم ذیقعدہ 1438ھ 25 جولائی 2017ء
نجم سیٹھی
March 20, 2017 | 12:00 am
مردم شماری پر تحفظات

Mardum Shumari Par Tahafuzaat

پاکستانی آئین کہتا ہے کہ ہر دس سال بعد قومی مردم شماری ضروری ہے۔ زیادہ تر ممالک میںیہ ایک معمول کی سرگرمی ہوتی ہے کیونکہ ریاست، معیشت اور معاشرے میں آ بادی کی تعدادکا دستیاب موادسماجی، معاشی اور سیاسی طور پر درست اور متوازن پالیسی سازی کے لئے ضروری ہے۔ تاہم پاکستان کے نئے دور کے سیاسی رہنما اہم معاملات میں پالیسی سازی میں تبدیلی سے اس قدر گریزاں ہیں کہ آخری مردم شماری سترہ سال کی تاخیر سے 1998 ء میں ہوئی تھی، جبکہ موجودہ مردم شماری انیس سال بعد ہورہی ہے۔ اورہوسکتا ہے کہ یہ بھی نہ ہوتی، یا کم از کم موجودہ سال نہ ہوپاتی اگر سابق چیف جسٹس آف پاکستان، انور جمالی صاحب گزشتہ سال سوموٹو نوٹس لیتے ہوئے اس کا حکم نہ دیتے۔
مردم شماری سے کون خائف ہے ؟دراصل وفاقی حکومتیں مردم شماری سے خائف رہتی ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے صوبائی حکومتیں نہ ختم ہونے والا تکلیف دہ شور مچانے،اور وفاقی حکومت سے آبادی کے لحاظ سے آمدن اور ٹیکسز میں اپنا حصہ لینے کے لئے دبائو ڈالنے لگتی ہیں۔ چونکہ تمام صوبوں میں شرح آبادی میں اضافہ یکساں رفتار سے نہیں ہوتا، چنانچہ ہر مردم شماری کا کسی کو فائدہ ہوتا ہے تو کسی کو نقصان۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈپر تنائو اور کھینچا تانی دکھائی دیتی ہے۔ چونکہ مردم شماری کا مواد دیہاتی اور شہری آبادی کو واضح کرتاہے، اس لئے دریائوں کے بالائی اور زیریں بہائو پر موجودآبادیوں میں آبی وسائل کی تقسیم بھی مردم شمار ی کے اعدادوشمار سے متاثر ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک متنازع مسئلہ ہے جو سیاسی حکومتوں کے دور میں مزید نمایاں ہوجاتا ہے، اور پھر وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں۔ وفاقی حکومتیں آبادی میں اضافے سے پارٹی پالیٹکس پر پڑنے والے نتائج کے بارے میں بہت محتاط ہوتی ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے انتخابی حلقوں کی حدبندیاں تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔
صوبائی حکومتیں بھی مردم شماری کے نتائج سے پریشان رہتی ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے شہری اور دیہاتی علاقوں میں نئی حلقہ بندیاں کرنی پڑتی ہیںاور اس طرح اسے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا پڑتے ہیں۔ اور کوئی صوبائی حکومت ایسا نہیں کرنا چاہتی۔ دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف آبادی کا بہائو بھی پارٹی پالیٹکس کے لئے بہت سے مضمرات لئے ہوئے ہوتا ہے، اس کی وجہ سے ووٹ پیٹرن اور انتخابی ترجیحات تبدیل ہوجاتی ہیں۔ صوبائی حکومتوں کی طرف سے مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے میں پس و پیش سے کام لینے کے لئے پیچھے بھی یہی وجوہ تھیں، لیکن مردم شماری کی طرح مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے کے لئے بھی سپریم کورٹ کو حکم دینا پڑا تھا، ورنہ جمہوری حکومتیں اس کے لئے کسی طور تیار نہ تھیں۔
کچھ مخصوص صوبائی معاملات بھی ہیں۔ اگر موجودہ مردم شماری میں افغان مہاجرین، جنہوں نے پاکستان کے شناختی کارڈ بنوارکھے ہیں، کوبھی شمار کیا گیا تو اس سے بلوچستان میں نسلی بنیادوں پر موجود تنائو مزید شدت اختیار کرجائے گا۔ بلوچستان میں افغانوں کی تعداد دس سے بیس لاکھ کے درمیان ہے۔ اس کی وجہ سے افغانوں کی تعداد بلوچوں سے بڑھ سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ صوبائی پارلیمنٹ میں زیادہ نمائندگی حاصل کرتے ہوئے بلوچ عوام کی بالا دستی کو خطرے میں ڈال دیں گے۔ سندھ کے شہروں میں رہنے والی مہاجر آبادی کو بھی ملازمتوں کے کوٹے اور انتخابی امکانات کے لحاظ سے نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ ان کی آبادی میں اضافہ دیہی سندھ سے کم ہے۔
فاٹا اور خیبر پختونخوا سے پختونوں(جن کی شرح پیدائش بہت زیادہ ہے )کی کراچی میں آمد نے بھی مہاجر وں کے سیاسی معروضات پر منفی اثرات ڈالے ہیں۔ موجودہ صوبائی حکمران جماعت، پی پی پی کی سیاسی قوت کاسرچشمہ سندھ کے دیہی علاقے ہیں، لیکن وہ کراچی کی سیاست میں بھی جگہ بنانا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ جے یو آئی، جماعت اِسلامی، پی ٹی آئی اور اے این پی بھی سندھ کے شہری علاقوں میں پائوں رکھنے کی جگہ تلاش کررہی ہیں۔
چنانچہ شہروں میں ہونے والی نئی حلقہ بندیوں پر ان جماعتوں کے درمیان شدید رسہ کشی دیکھنے میں آئے گی۔ سندھ کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اس مردم شماری کا اسے نقصان ہوجائے گا کیونکہ دیہات میں رہنے والی پچیس فیصد آبادی کے پاس قومی شناختی کارڈز نہیں ہیں۔
وہ واحد صوبہ جو مردم شماری سے مطمئن ہے، وہ خیبر پختونخواہے۔ اسے قومی آمدنی کے ذرائع میں سے زیادہ حصہ ملنے کی امید ہے۔ اس کی وجہ افغان مہاجرین، جنہوںنے پاکستان کے شناختی کارڈ حاصل کررکھے ہیں، اور پختونوں کی شرح پیدائش میں اضافہ ہے۔ اس طرح خیبر پختونخواکو فاٹا کے انضمام، جس کا اعلان کیا جاچکا ہے، سے بھی فائدہ ہوگا۔ نئی مردم شماری ریاست کے پسماندہ اور محروم علاقوں کو فائدہ پہنچائے گی۔ ان علاقوں میں سماجی اور معاشی ناہمواریاں بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ مردم شماری کے نتیجے میں ان افراد کو صحت، تعلیم اور روزگار کے حصول کے لئے اپنی آواز بلند کرنے کا موقع مل جائے گا۔ مختصر یہ کہ مردم شماری بہت سے علاقوں کی جامد سیاسی صورت ِحال کو ہلا کررکھ دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ حکمران اسٹیبلشمنٹ کبھی بھی مردم شماری کرانے کا شوق نہیں رکھتی۔

.