پاناما کیس، وزیراعظم بچ گئے، سپریم کورٹ کے `13 سوال، تحقیقات کا حکم
| |
Home Page
پیر 29 شوال المکرم 1438ھ 24 جولائی 2017ء
April 21, 2017 | 12:00 am
پاناما کیس، وزیراعظم بچ گئے، سپریم کورٹ کے `13 سوال، تحقیقات کا حکم

Todays Print

اسلام آباد( نمائندگان جنگ)پاناما کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے 13 سوال اٹھائے ہیں اور تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سات دن میں نیب، ایف آئی اے، اسٹیٹ بنک، ایس ای سی پی، ایم آئی اور آئی ایس آئی کی جے آئی ٹی بنائیں جو 60 دن میں کام مکمل کرے، نواز شریف، حسن اور حسین پیش ہوں، نگرانی عدالت کرے گی، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے، الیکشن کمیشن ان کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرے، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اہلیت و نااہلیت کا فیصلہ ہوگا، جسٹس عظمت سعیدنے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں فوجداری کارروائی کے مناسب احکامات دیئے جا سکتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اپنے دو فاضل برادران جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس عظمت سعید کے اخذ کردہ نتائج سے اتفاق کرتا ہوں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے محفوظ فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں یہ سوالات کہ گلف اسٹیل ملز کس طرح وجود میں آئی ؟ کس طرح اس کو فروخت کیاگیاَ ؟ملزپر واجب الادا رقوم کی ادائیگی کیسے ہوئی؟گلف اسٹیل کی فروخت کی تفصیلات کیاہیں؟ خرید وفروخت کا عمل مکمل ہوااور پھر وہ کس طرح جدہ ، قطر اور برطانیہ پہنچے اور مدعا علیہان حسین نواز اور حسن نواز 90کے عشرے میں اتنی کم عمری میں کس طرح اتنی بڑی جائیداد وں کے مالک بن گئے؟  انہوں نے فلیٹس کس طرح خریدے؟کیا قطری شہزادہ حماد بن جاسم کی جانب سے اچانک سامنے آنے والا خط محض افسانہ ہے یا اس میں کوئی حقیقت بھی ہے؟کس طرح حصص کی بنیاد پر فلیٹس حاصل کئے گئے؟ نیلسن اور نیسکول کا اصل مالک کون ہے؟ کس طرح ہل میٹل قائم کی گئی؟ فلیگ شپ انویسٹ منٹ اور دیگر کمپنی کی رقوم کہاں استعمال میں لائی گئیں؟ ان کمپنیوں کیلئے بروئے کار لایا جانے والا سرمایہ کہاں سے آیا تھا؟ مالکان کے اثاثے لندن فلیٹس کاذریعہ کیسے بنے؟اور کس طرح ایک بیٹے نے اپنے والد کو لاکھوں روپے کی بھاری رقومات تحفہ کے طور پر دیں؟ ان کے جوابات جاننے کیلئے سارے معاملات کی تحقیقات کی ضرورت ہے جس کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم جاری کیا جاتا ہے،  2۔ عمومی حالات میں، اس طرح کی کارروائی نیب کو کرنا ہوتی ہے لیکن جب ادارے کا چیئرمین ہی لاتعلق حتیٰ کہ اپنا کام کرنے کو آمادہ نظر نہ آئے، تو ہم دوسری جانب دیکھنے پر مجبور ہیں اور لہٰذا ہم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم  (جے آئی ٹی) تشکیل دے رہے ہیں جو مندرجہ ذیل ارکان پر مشتمل ہوگی، ۱) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا ایک سینئر افسر جو ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے رینک سے کم نہ ہو، وہ اس ٹیم کی قیادت کرے گا اور وائٹ کالر کرائم اور متعلقہ امور کی تحقیقات کے تجربے کا حامل ہوگا۔ ۲) قومی احتساب بیورو (نیب) کا ایک نمائندہ ۳) سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (سی ای سی پی) کا نمائندہ جسے منی لانڈرنگ اور وائٹ کالر کرائم کے امور جانتا ہو۔ ۴) اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کا نمائندہ۔ ۵) انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا ایک تجربہ کار افسر جس کی نامزدگی ادارے کا ڈائریکٹر جنرل کرے گا، اور ۶) ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کا ایک تجربہ کار افسر جس کی نامزدگی ادارے کا ڈائریکٹر جنرل کرے گا۔ 3۔ مذکورہ بالا اداروں / محکموں کے سربراہان جے آئی ٹی کیلئے آج کے بعد سات روز کے اندر اپنے نمائندوں کے نام تجویز کریں گے، یہ نام ہمیں چیمبر میں نامزدگی اور منظوری کیلئے پیش کیے جائیں گے۔ جے آئی ٹی اس کیس کی تحقیقات کرے گی اور شواہد، اگر ہیں تو، جمع کرے گی کہ فریق نمبر اول یا اس کی زیر کفالت کوئی بھی شخص یا بے نامی کے پاس ایسی کوئی جائیدادیں ہیں یا انہوں نے حاصل کی ہیں یا ان کا کوئی مفاد وابستہ ہے جو ان کے آمدنی کے ذرائع سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ فریق نمبر اول، 7 اور 8 کو ہدایت دی جاتی ہے کہ جب بھی ضرورت ہوگی وہ جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوں اور اس کے عمل میں شامل ہوں گے۔ جے آئی ٹی پہلے سے ایف آئی اے اور نیب کے پاس دستیاب ان تمام شواہد اور مواد کا جائزہ لے گی جو مذکورہ بالا فلیٹوں، دیگر اثاثوں اور مالی ذرائع اور ان کی بنیاد اور ان کی ملکیت سے وابستہ ہیں یا ان سے کوئی تعلق ہے۔ جے آئی ٹی ہر دو ہفتوں بعد اس عدالت کے اس ضمن میں تشکیل دیئے جانے والے بینچ کے روبرو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ جے آئی ٹی اپنے قیام کے 60؍ روز کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرے گی اور مذکورہ بنچ کے روبرو اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کے بعد ریکارڈ پر لائے گئے دستیاب مواد کی روشنی میں اگر فریق نمبر اول اور کسی دوسرے شخص کا جرم سے تعلق ثابت ہوا تو بینچ آئین کے آرٹیکل  نمبر 183(3), 187(2), 190کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان کیخلاف ریفرنس دائر کرنے سمیت مناسب آرڈر جاری کر سکتا ہے۔ 4۔ مزید یہ قرار دیا جاتا ہے کہ ہفتہ وار یا حتمی رپورٹ موصول ہونے پر، جو بھی معاملہ ہو، فریق نمبر اول کی نا اہلی کے معاملے پر غور کیا جائے۔ اگر ضروری ہو تو اس ضمن میں مناسب آرڈر جاری کیا جائے، فریق نمبر اول یا کسی بھی شخص کو طلب کرکے اس سے تفتیش کی جا سکتی ہے۔ 5۔ ہم عزت مآب چیف جسٹس صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ایک خصوصی بینچ تشکیل دیں جو اس فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے تاکہ الزامات کے حوالے سے تحقیقات بند گلی میں نہ چلی جائیں۔ نمائندگان جنگ کے مطابق عدالت عظمیٰ نے پاناما پیپرز لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے درخواست گزاروں کی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف اور انکے خاندان کے دیگر افراد پر لگائے گئے الزامات کی جامع تحقیقات کیلئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی سربراہی میں 6رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی ) بنانے کا حکم جاری کیا ہے جو اپنے قیام کے 60 روز کے اندر ر عدالت میں حتمی پورٹ پیش کرے گی جس کی روشنی میں عدالت مزید احکامات صادر کرے گی،وزیراعظم فی الحال بچ گئے تاہم اگر قصور وار نکلے تو ان کی نااہلی پر غور ہو گا اور اسپیکر قومی اسمبلی کوان کے خلاف ریفرنس بھجوانے کا حکم جاری کیا جائے گا، اس مقصد کیلئے سپریم کورٹ میں خصوصی بنچ کی تشکیل کے لئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا جائے گا۔فاضل عدالت نے 540 صفحات پر مشتمل فیصلہ تین، دو کی اکثریت سے جاری کیا ہے، جسے جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا ہے، فیصلے میں سپریم کورٹ نے 13سوال کئے ہیں،بنچ میں شامل تین ججزجسٹس اعجاز افضل خان ، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن نے محض معاملہ کی مزید تحقیقات پر اتفاق کیا ہے ، دیگر دو ججزجسٹس آصف سعید خان کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں تحقیقات کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نواز شریف کو عوام کے ساتھ غلط بیانی کی پاداش میں صادق اور امین نہ ہونے کی بنا پر عوامی عہدہ کے لئے نااہل قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے ڈی نوٹیفائی کرانے کی رائے بھی دی ہے ،جبکہ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ عدالتیں حقائق پر فیصلے کرتی ہیں، مفروضوں پرنہیں، تحقیقات مکمل ہونے کے بعداہلیت ،نااہلیت کافیصلہ ہوگا،جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ نے جمعرات کے روز کھلی عدالت میں کیس کا محفوظ فیصلہ جاری کیا، بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بتایا کہ یہ فیصلہ 540 صفحات پر مشتمل ہے، جسے جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا ہے ،جس میں تمام ایشوز کو زیر غور لایا گیا ہے ، انہوںنے فیصلے کے چند ضروری حصے پڑھ کرسناتے ہوئے کہاکہ پاناما کیس کافیصلہ تین دوکے تناسب سے لکھا گیاہے،مرکزی فیصلہ اتفاق رائے سے جاری کیا جا رہا ہے تاہم بنچ کے دو اراکین جسٹس گلزار اورخود انہوں (جسٹس آصف سعید خان کھوسہ )نے دوسرے ججزکے فیصلے سے آگے بڑھ کر اختلافی نوٹ تحریرکرتے ہوئے ایک الگ ڈیکلریشن اور ہدایات بھی دی ہیں، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید کہا کہ اگرچہ اس طرح کے معاملے کی تحقیقات کرنا چیئرمین نیب کا کام تھا لیکن انہوں نے کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں حاضری کے وقت تحقیقات کرنے سے لاتعلقی اور عدم دلچسپی کا اظہار کیا تھا جس کی وجہ سے ہم جے آئی ٹی بنانے پر مجبور ہوگئے ہیں ، انہوںنے کہا کہ عدالت نے اتفاق رائے سے قرار دیا ہے کہ درخواست گزاروں کی جانب سے عائد کئے گئے الزامات کی جامع تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی سطح کے افسر کی سربراہی میں قائم کی جائے جو وائٹ کالر جرائم کی تحقیقات کا ماہر ہو ،کمیٹی میں نیب ، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن ، اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا ایک ایک نمائندہ ، ڈی جی آئی ایس آئی کا نامزدہ کردہ نمائندہ اور ملٹری انٹیلی جنس کے ڈی جی کا نامزد ایک نمائندہ شامل ہو گا،ان اداروں کے سربراہان سات روز کے اندرجے آئی ٹی کیلئے نامزد کردہ نام حتمی منظوری کیلئے ججز کے چیمبر میں پیش کریں گے ، وزیر اعظم نواز شریف ، حسن نواز اور حسین نواز کو ضرورت پڑنے پر جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونے کا حکم بھی جاری کیا گیاہے ، جے آئی ٹی نیب اور ایف آئی اے کے پاس وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے حوالے سے موجود شواہد کا بھی جائزہ لے گی اور ہر دو ہفتوں کے بعد اپنی پیشرفت رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی جبکہ اپنے قیام کے 60 روز کے اندر حتمی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گی ، اگر وزیر اعظم قصور وار نکلے تو آئین کے آرٹیکل ,184(3) ا190ور 187(2) کے تحت انہیں عوامی عہدہ کیلئے نااہل قرار دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی کوان کیخلاف ریفرنس بھجوانے کا حکم جاری کیا جائے گا، اگر کسی دوسرے فرد کے حوالے سے بھی کسی قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں سے وابستگی ثابت ہوتی ہے تو اسے بھی ریکارڈ پر لایا جائے گا، عدالت نے واضح کیا کہ جے آئی ٹی کی طرف سے حتمی رپورٹ کی موصولی کے بعد ہی وزیراعظم کی نااہلی پر غور کیا جائے گا اوراس کے بعد اگر ضرورت محسوس کی تو ان کو عدالت میں طلب بھی کیا جا سکے گا، عدالت نے قرار دیا کہ اس مقصد کیلئے سپریم کورٹ میں خصوصی بنچ کی تشکیل کیلئے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا جائے گا، جسٹس کھوسہ نے کہا کہ دو ججز یعنی وہ خود (جسٹس آصف سعید خان کھوسہ) اور جسٹس گلزار احمد نے اپنے اختلافی نوٹ میں فوجداری کارروائی کیساتھ ساتھ وزیر اعظم نواز شریف کو عوام کے ساتھ غلط بیانی کی پاداش میں صادق اور امین نہ ہونے کی بناء پر عوامی عہدہ کیلئے نااہل قرار دینے کی رائے دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے انہیں بطور رکن قومی اسمبلی ڈی نوٹیفائی کرنے کی رائے دی ہے ۔جسٹس کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے نواز شریف اپنی ملکیتوں اور لندن کی جائیدادوں کی وضاحت کرتے ہوئے قوم، پارلیمنٹ اور عدالت کے سامنے دیانت دار نہیں رہے،اس بد دیانتی کی وجہ سے وزیراعظم نواز شریف آئین کی شق 62اور عوامی نمائندگان کے قانون 1976کے تحت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ)کے رکن رہنے کے اہل نہیں رہے، جسٹس کھوسہ نے اختلافی نوٹ میں الیکشن کمیشن کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ نواز شریف کو رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے نااہل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کرے جس کے نتیجے میں وہ وزارت عظمیٰ کیلئے نااہل قرار پائیں۔