| |
Home Page
اتوار 29 صفر المظفر 1439ھ 19 نومبر 2017ء
July 17, 2017 | 12:00 am
مکتوب قونیہ،زمینوں کی آبیاری سو فیصد ڈرپ ایریگیشن سے ہورہی ہے

Todays Print

(حنیف خالد)مفکرپاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال مولانا جلال الدین رومی کو اپنا روحانی مرشد و پیشوا گردانتے تھے۔ مولانا رومی1207ءمیں پیدا ہوئے اور وہ 17 دسمبر 1273ء میں وصال پاگئے۔مولانا جلال الدین رومی کے مزار کے احاطے میں قوینہ کے عوام نے مفکر پاکستان ڈاکٹر محمد اقبال کے احترام میں علامتی قبر بنا رکھی ہے۔ مفکرپاکستان ،مولانا جلال الدین رومی کا اس قدر عزت اور احترام کرتے تھے کہ ایک دفعہ علامہ اقبال غیر منقسم ہندوستان سے یورپ جارہے تھے جب پائلٹ نے بتایا کہ اب وہ ترکی کی فضائی حدود سے گزرنے والا ہے تو علامہ اقبال نے اپنے جوتے اتار دیئے اور اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ میں اپنے روحانی مرشدو پیشوا جو 13 ویں صدی عیسوی میں مالک حقیقی سے جا ملے تھے، کے ملک پر جوتوں سمیت پرواز میں نہیں جا سکتا اور اپنے مذہبی  وروحانی مرشد کے ملک میں نشست پر بیٹھ کر سفر جاری رکھ سکتا ہوں۔ قونیہ ملتان کی طرح صوفیائے کرام کا شہر ہے۔

یہاں پر حضرت مولانا (رومی) کے علاوہ ان کے استاد حضرت شمس تبریز کی علامتی قبر بھی ہے۔ قونیہ میں استنبول سے پہلے اسلام کا پرچم بلند ہواتھا۔ قونیہ کے لوگ انتہائی ملنسار،مہمان نواز اور مذہبی رجحان رکھنے والے ہیں۔ پاکستان سے قونیہ کے لوگوں کا خصوصی لگائو ہے۔ جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کےپندرہ سالہ دور اقتدار میں انقرہ سے قونیہ تک دو سو کلو میٹرفی گھنٹہ سے زیادہ رفتار سے ٹرین چلتی ہےجبکہ پاکستان ستر سالوں میں آج تک سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار والی مسافر ریل گاڑی نہیں چلا سکا حالانکہ ڈکٹیٹر جرنیل پرویز مشرف کے وفاقی وزیر ریلوے کراچی سے پشاور تک شروع کرکے ایک سے زیادہ بار اعلانات کرتے رہے ہیں۔ قونیہ کی زرعی ترقی پاکستان کے زمینداروں جاگیرداروں کاشتکاروں کیلئے قابل تقلید ہے۔

ہمارے ہاں نوے فیصد پانی ضائع ہورہا ہے کیونکہ پاکستان میں ڈرپ ایریگیشن کا جدید نظام خال خال ہے۔ قونیہ میں سو فیصد زمینوں کی آبیاری ڈرپ ایریگیشن(Drip Irrigation) کے ذریعے ہورہی ہے۔ اس طرح قونیہ کے کاشتکار پاکستان کے مقابلے میں دس فیصد پانی استعمال کرکے پاکستان سے90 فیصد زیادہ پیداوار حاصل کررہے ہیں۔ ترک صدر کے مہمان ہونے کے باوجود15جولائی کو سفیرپاکستان سہیل محمود نے پریس اتاشی عبد الاکبر کو اپنی گاڑی میں قونیہ لے جانے کو کہا۔ عبدالاکبر کو جو راقم کے بہترین دوست ہیں، اپنی گاڑی میں  وفد کے چھ کے چھ ارکان کو قونیہ جانے اورڈنر کی پیشکش۔

راقم اور عمر ملک کو لیکر وہ خود گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اژرمان پہنچے۔ حضرت مولانا جلال الدین رومی کے مقبرے پر پہنچے۔مقبرے میں مولانا رومی اور ان کے شاگردوں کا مطبخ دکھایا، مزار سے منسلک میوزیم کے بارے میں بریفنگ دی، احاطے کے اندر علامہ اقبال کی علامتی قبر دیکھی حالانکہ دونوں مشاعر کے ادوار میں چھ سو سال سے زیادہ کا فرق ہے۔ مقبرہ سے ہم رومی ثقافتی شہر قونیہ گئےیہاں ہزاروں افراد کی نشستیں لگی ہوئی ہیں۔ مولانا رومی کے صاحبزادے سلطان ولی نے 13ویں صدی ہجری میں جو محفل سماں شروع کرائی تھی وہ آج بھی جاری ہے۔ڈیڑھ گھنٹے دورانیہ کی محفل سماں میں31 درویش حصہ لے رہے تھے اور مسلسل گھومتے گھومتے اللہ کے کلام پر وجد کررہے تھے۔ یہاں سے فراغت پا کرشام8 بجے ہم ڈنر  کے لئے ہائوزان (Havzan )نامی ریستوران پہنچے تو وہاں ایک میٹر طوالت کےقیمے والے نان (Konya Etili Ekmek)دیسی دہی اور لسی کے ساتھ کھائے،بے حد لذیز تھے کھا کر مزہ آگیا۔

صدر ایردوآن کی پارٹی کے پندرہ سالہ دور حکومت میں ترکی کو ہر شعبے میں جو ترقی دی ہے وہ کئی ایشیائی یورپی ملک میں نظر نہیں آتی پاکستان میں عوام کے وسیع تر مفاد میں پلوں سکولوں سڑکوں انڈر پاس میٹرو کا جال ہسپتالوں تعلیمی اداروں کا جو انفراسٹرکچر بن رہا ہے۔ پاکستانی عوام کے اجتماعی فائدے کے اس انفراسٹرکچر کےدشمن حکومت کی ٹانگ کھینچ رہے ہیں۔ مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔ اگر کسی کا جانا ٹھہر گیا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ مگر جس کا جانا نہیں ٹھہرا اسے کوئی نہیں بھجوا سکتا۔ ترکی کے آٹھ کروڑ عوام کی ضرورت کی غذائی اجناس درآمد نہیں کی جاتیں، ملک کے اندر گندم سمیت ہر قسم کی سبزیاں پھل ترکی پیدا کر کے برآمد کررہا ہے۔