| |
Home Page
منگل 27 ذوالحج 1438ھ 19 ستمبر 2017ء
September 14, 2017 | 12:00 am
کرپشن ریفرنس، شریف فیملی نیب عدالت طلب، فلیگ شپ کیس میں نواز شریف، حسین اور حسن کو 19 ستمبر کیلئے سمن جاری

Todays Print

کرپشن ریفرنس، شریف فیملی نیب عدالت طلب، فلیگ شپ کیس میں نواز شریف، حسین اور حسن کو  19 ستمبر کیلئے سمن جاری

اسلام آباد (نمائندہ جنگ)اسلام آباد کی احتساب عدالت نے شریف فیملی کو طلب کرلیا، فلیگ شپ کیس میں نواز شریف، حسین اور حسن نواز کو 19 ستمبر کیلئے سمن جاری کردیئے، باقی دو ریفرنس جمع جبکہ اسحاق ڈار کے خلاف آج ہوگا،نواز شریف کے نام سمن میں کہا گیا ہے کہ الزامات کا جواب دینے کیلئے آپ کی عدالت میں حاضری ضروری ہے، رجسٹرار آفس کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کیخلاف دو، اسحاق ڈار کے خلاف ایک ریفرنس حتمی اسکروٹنی کے بعد احتساب عدالت بھجوادیا جائے گا، نیب نے شریف فیملی اور اسحاق ڈار کے خلاف چاروں ریفرنسز کیلئے سہیل عارف، عمران شفیق، محمد اصغر اور فضل قریشی کو پراسکیوٹر تعینات کردیا گیا۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز دائر ہونے پر احتساب عدالت میں حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آف شور کمپنیوں سے متعلق نیب کے فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں حسن نواز، حسین نواز کو19 ستمبر کو طلب کرلیا ہے۔ دوسری جانب نیب نے شریف خاندان اور اسحاق ڈار کیخلاف ریفرنسزکیلئے پراسیکیوٹر تعینات کردیئے ہیں، علاوہ ازیں نیب نے لندن فلیٹس اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر کے دوبارہ احتساب عدالت میں دائر کر دئیے ہیں، وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس اعتراضات دور کر کے آج جمعرات کو دائر کیا جائے گا۔

رجسٹرار کے مطابق شریف خاندان کیخلاف دو جبکہ اسحاق ڈار کیخلاف ایک ریفرنس حتمی اسکروٹنی کے بعد احتساب عدالت بھجوا دیا جائے گا۔ شریف خاندان کیخلاف آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس حتمی سکروٹنی کے بعد احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر نیب کے پراسکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی بھی موجود تھے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس میں نامزد ملزمان نواز شریف ، ان کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کے سمن جاری کرتے ہوئے 19 ستمبر کو عدالت طلب کر لیا ہے۔

سابق وزیراعظم کو جاری کئے گئے سمن پر ماڈل ٹائون لاہور اور جاتی عمرہ رائے ونڈ کے پتے درج ہیں۔ نواز شریف کو جاری سمن میں کہا گیا ہے کہ الزامات کا جواب دینے کیلئے آپ کی عدالت حاضری ضروری ہے لہٰذا 19ستمبر کو صبح نو بجے عدالت میں پیش ہوں۔ رجسٹرار آفس کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور شریف خاندان کیخلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور لندن فلیٹس سے متعلق دو ریفرنسز حتمی اسکروٹنی کے بعد احتساب عدالت کو بھجوا دئیے جائیں گے۔

دریں اثناءنیب کے پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے نمائندہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بدھ کو شریف خاندان کیخلاف العزیزیہ سٹیل ملز اور لندن فلیٹس ریفرنسز اعتراضات دور کر کے دوبارہ دائر کر دئیے ہیں جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ریفرنس پر بھی اعتراضات دور کر دئیے ہیں تاہم وقت کی قلت کے باعث مذکورہ ریفرنس آج دائر کر دیا جائے گا۔دوسری جانب نیب نے شریف خاندان اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف دائر کئے گئے ریفرنسز میں پراسکیوٹرز تعینات کر دئیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سہیل عارف ، عمران شفیق ، محمد اصغر اورفضل قریشی کو مذکورہ ریفرنسز میں پراسکیوٹر مقرر کیا گیا ہے،جن کانوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے،دریں اثنا سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں شریف خاندان کیخلاف نیب ریفرنسز دائر ہونے پر احتساب عدالت اور ریکارڈ روم کے باہرسکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا۔ بدھ کو احتساب عدالت اسلام آباد ، نیب پراسیکیوشن اور ریکارڈ روم کے باہر پولیس اہلکار تعینات کر دئیے گئے۔ کمرہ عدالت میں جانے کیلئے شناخت اور موبائل فون کے استعمال پر پابندی کو لازم قرار دیدیا گیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے دو روز قبل سیکرٹری داخلہ کو سکیورٹی کیلئے خط ارسال کیا تھا جس پر احتساب عدالت میں حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا۔