| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
November 14, 2017 | 12:00 am
نوازشریف کا مفاد ہو تو اسٹیبلشمنٹ کے تمام کام جائز، میجر جنرل(ر) اعجازاعوان

Todays Print

نوازشریف کا مفاد ہو تو اسٹیبلشمنٹ کے تمام کام جائز، میجر جنرل(ر) اعجازاعوان

کراچی(ٹی وی رپورٹ)وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ کراچی کے معاملات میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا اپنا اپنا کام ہے،امن کیلئے رینجرز کو کسی کے ساتھ بیٹھنا یا بٹھانا پڑتا ہے تو اس میں حرج نہیں مگر پارٹیوں کو جوڑنا یا توڑنا اسٹیبلشمنٹ کا کام نہیں ہے، پی سی او کا جج ہو یا کوئی جرنیل جس نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہو اس کی کوئی معافی نہیں ہے، ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں،اداروں کو مضبوط اور غیرمتنازع ہونا چاہئے،سیاست سیاستدانوں کو کرنے دی جائے۔ جبکہ میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کا مفاد ہو تو اسٹیبلشمنٹ کے تمام کام جائز، امن کیلئے اکٹھا ہونے کا کہے تو کہتے ہیں حد میں رہے۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جسٹس کھوسہ کی معذرت اصولوں کے مطابق ہے۔

انیس ایڈووکیٹ نے کہا کہ فاروق ستار اداروں کو بدنام کررہے ہیں۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ اعجاز اعوان،پی ایس پی کے رہنما انیس ایڈووکیٹ اور ماہر قانون بیرسٹر علی ظفر بھی شریک تھے۔ انیس ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان میں عوام اسٹیبلشمنٹ کا مطلب بخوبی سمجھتی ہے،فاروق ستارنے اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی،انٹیلی جنس اداروں نے کراچی میں کوئی پارٹی توڑنے یا بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔اعجاز اعوان نے کہا کہ جب نواز شریف کا مفاد ہو تو ان کیلئے اسٹیبلشمنٹ کے تمام کام جائز ہیں ،لیکن اگر اسٹیبلشمنٹ دو پارٹیوں کو امن کیلئے اکٹھا ہونے کیلئے کہے تو یہ کہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ اپنی حد میں رہے۔

پاکستان میں فوج ، آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جنس اور رینجرز کا جامع نام اسٹیبلشمنٹ رکھ دیا گیاہے،اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیو ایم اور پی ایس پی کو متحدہو کرامن کی سیاست کا مشورہ دیا تو اس میں کوئی غلطی نہیں ہے،پرویز مشرف کے بیان سےاسٹیبلشمنٹ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آئین میں فوج کے سیاست میں کردار کی کوئی گنجائش نہیں ہے،آئین سیاست یا ریاستی کاموں میں صرف پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ کو تسلیم کرتا ہے،جسٹس کھوسہ نے حدیبیہ پیپر ملزکیس کی سماعت سے معذرت عدالتی اصولوں کے مطابق کی ہے۔

میزبان حامد میر نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان سرحد پر باجوڑ کے علاقے میں پاک فوج کی سرحدی چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنادیا، اس حملہ میں دس بارہ دہشتگرد مارے گئے جبکہ پاک فوج کے کیپٹن جنید حفیظ اور سپاہی رحیم نے جام شہادت نوش کیا ہے،یہ بہت اہم واقعہ ہے اس طرح کے مزید واقعات پیش آرہے ہیں لیکن ہم پاکستان کی داخلی صورتحال میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ ان معاملات پر توجہ نہیں دے رہے، اس وقت جبکہ پاکستان کو بہت سے اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے تو بیرونی دشمنوں کی سازشوں میں بھی تیزی آرہی ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ کراچی کے معاملات میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا اپنا اپنا کام ہے، کراچی کے حالات سب سے زیادہ پرویز مشرف کے دور میں خراب ہوئے جو اسٹیبلشمنٹ کا ایک چہرہ تھا، مشرف اور پیپلز پارٹی کے دور میں کراچی میں امن نہیں تھا، ملکی معاملات صرف اسٹیبلشمنٹ حل نہیں کرسکتی اسی کیلئے سیاسی عزم کی ضرورت ہوتی ہے، نواز شریف نے کراچی میں امن کیلئے سیاسی عزم دیا تو یہاں امن قائم ہوا، دیئے گئے کام کو کرنا اسٹیبلشمنٹ کا کام ہے، حکومتی و سیاسی قیادت کا فرض بنتا ہے وہ گائیڈ لائن دیں۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ کراچی کے امن کیلئے رینجرز کو کسی کے ساتھ بیٹھنا یا بٹھانا پڑتا ہے تو اس میں حرج نہیں مگر پارٹیوں کو جوڑنا یا توڑنا اسٹیبلشمنٹ کا کام نہیں ہے، پہلے بھی مینڈیٹ کو توڑنے مروڑنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان ٹوٹ گیا تھا، ہم نے پاکستان کی خاطر پچھلے چار سال کا بہت کچھ اپنے اندر رکھا ہوا ہے، ہم نہیں بولیں گے کیونکہ اداروں کے استحکام اور مضبوطی سے پاکستان کی مضبوطی ہے،ایسے حالات پیدا نہ کیے جائیں کہ پاکستان کے مفاد کی خاطر ہی کسی کو بولنا پڑے، آئیں مل کر کام کریں مگر اپنا اپنا کام کریں۔طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان سیاستدانوں نے بنایا لیکن جب اسٹیبلشمنٹ کا پہلا چہرہ حکومت میں آیا تو پاکستان ٹوٹا، پاکستان کا آئین بھی ایک سیاستدان نے دیا۔

پاکستان میں ایٹم بم بنانے کی بنیاد بھی ایک سیاستدان نے رکھی جو پھانسی چڑھ گیا، ایٹمی دھماکا بھی ایک سیاستدان نے کیا اس کے علاوہ کسی کی ہمت نہیں ہوئی، اسٹیبلشمنٹ کے ایک چہرے نے ہمیں کلاشنکوف اور ہیروئن دی، دوسرے چہرے نے گڈ اور بیڈ طالبان دیئے، ہمارے ستر ہزار لوگ مروائے، ہماری زمین سے ڈرون اڑوا کر ہمیں ہی مروایا، سیاستدان پھر آئے اور اپنی ذمہ داری لی، ہم نے اسی اسٹیبلشمنٹ کو نیک نام کرنے کیلئے سیاست سے جدا کیا، انہیں کہا آپ کی عزت ہونی چاہئے آپ کو متنازع نہیں ہونا چاہئے، اسی اسٹیبلشمنٹ نے پھر بہت سارے کھیل کھیلے، اسٹیبلشمنٹ کو جو حکمت عملی دی جائے اس پر عمل کرنا اس کا کام ہے، جس دن الطاف حسین نے انڈیا میں تقریر کی اس دن مشرف کہاں تھا،اس وقت انہیں نہیں پتا تھا یہ را کے ایجنٹ ہیں یا کراچی تباہ ہورہا ہے، ہمارا کریڈٹ ہمیں لینے دیں آپ کا کریڈٹ آپ کو دیں گے، آپ کا کریڈٹ ہے آپ جان دے رہے ہیں مگر آپ کی حد یہ ہے کہ اپنا کام کریں، جہاں سے سیاست شروع ہوتی ہے اس میں داخل نہ ہوں۔

طلال چوہدری نے کہا کہ امریکا کی فوج بھی سویلین حکومت کی امداد میں کام کرتی ہے، فلوریڈا میں سیلاب اور طوفان آیا تو وہاں بھی امریکی فوج نے کام کیا، حکومت کو اگر ضرورت پڑتی ہے تو فوج نے یہ کام کرنے ہوتے ہیں، اگر نہیں کرنے تو پھر کیا کرنا ہے، لندن میں جو واقعات ہوئے اس کے بعد وہاں کی گلیوں میں فوجی ڈیوٹی دے رہے ہیں، ایک حد ہے کہ جہاں سے سیاست شروع ہوتی ہے وہاں سے ان کا کردار ختم ہوجاتا ہے، یہاں اداروں کو مستحکم نہیں ہونے دیا گیا، پارلیمنٹ چار سال کی ہوتی ہے تو اسے کاٹ دیا جاتا ہے، پی سی او کا جج ہو یا کوئی جرنیل جس نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہو اس کی کوئی معافی نہیں ہے، غلط کام کی کسی کو اجازت نہیں ہے۔

سیاستدان پھانسی بھی چڑھا، کوڑے بھی کھائے، جیل میں بھی رہا، اٹک قلعہ میں بھی رہا ہے، میں وہ منظر دیکھنا چاہتا ہوں کہ قانون توڑنے والے غدار کو بھی اسی طرح لٹکایا جائے، نواز شریف کے ابھی جو فیصلے ہوئے پاکستان کی تاریخ اس پر کیا لکھے گی،حکومت کے اداروں کو حکومت کے کہے پر عمل کرنا چاہئے،ہم ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، اداروں کو مضبوط اور غیرمتنازع ہونا چاہئے، سیاست سیاستدانوں کو کرنے دی جائے، کبھی ترامیم روکنے کی کوشش ہوتی ہے توکبھی پارٹیاں بنتی ہیں،یہ کون کررہا ہے، پاکستان کیلئے کام کریں کسی کو اقتدار میں لانے یا ہٹانے کی کوشش نہ کریں۔

انیس ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان میں عوام اسٹیبلشمنٹ کا مطلب بخوبی سمجھتی ہے، فاروق ستا ر نے جو کچھ کیا ہم نے پچاس گھنٹے اس کا جواب دینے سے احتراز کیا، متحدہ کے رہنما پی ایس پی کو اسٹیبلشمنٹ کی تشکیل کردہ جماعت ثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے حالانکہ معاملہ اس کے برخلاف ہے،فاروق ستار ایم کیو ایم پر اپنی گرفت کھوچکے تھے، فاروق ستار کے خلاف بغاوت ہوئی تو انہوں نے ملبہ پی ایس پی اور مصطفی کمال پر ڈالنے کی کوشش کی، فاروق ستارنے اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ انیس ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے بشمول رینجرز ، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس پاکستان کی بیرونی سیکیورٹی کے ساتھ اندرونی سیکیورٹی کے بھی محافظ ہیں، کراچی میں ’را‘کے ایجنٹوں اور دہشتگردوں کیخلاف فوجی آپریشن چل رہا ہے،کلبھوشن نے بلوچستان کے ساتھ کراچی میں بھی ’را‘ کی موجودگی کا اقرار کیا تھا، پاکستان کے خفیہ ادارے کراچی کو ’را‘ کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔

انیس ایڈووکیٹ نے کہا کہ انٹیلی جنس اداروں نے کراچی میں کوئی پارٹی توڑنے یا بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی، اسٹیبلشمنٹ چاہتی تو ایم کیو ایم کو تباہ و برباد کردیتی لیکن انہیں راہ راست پر آنے کا موقع دیا گیا،ان کی درخواست پر اداروں کے لوگوں نے ہم سے ساتھ بیٹھنے کیلئے رابطہ کیا، فاروق ستار اور ان کے لوگ کسی حوالدار کے ٹیلیفون کو بھی انکار نہیں کرسکتے ہیں، مصطفی کمال نے اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش نہیں کی، فاروق ستار کی بار بار اداروں کو مداخلت کی دعوت کے بعد میں نے انہیں پیغام بھجوایا کہ اِدھر اُدھر فون کرنے کے بجائے مل کر بیٹھیں، اپنی پارٹی کو بتائے بغیر میں نے فاروق ستار کو پی آئی بی آنے کی پیشکش کی، جس شخص کا پرانا اٹیچمنٹ برقرار ہو وہ اداروں کو بدنام کرنے کیلئے حیلے بہانے تلاش کرتے ہیں، ہم کراچی کو ’را‘ کے ایجنٹوں کے شکنجے سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔

اعجاز اعوان نے کہا کہ فوج پاکستان اور کراچی کی صورتحال میں اہم ترین اسٹیک ہولڈر ہے، کراچی میں امن کی بحالی میں فوج نے اہم کردار ادا کیا، اگر اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیو ایم اور پی ایس پی کو متحدہو کر امن کی سیاست کا مشورہ دیا ہے تو اس میں کوئی غلطی نہیں ہے، اگر اسٹیبلشمنٹ کو دو قدم آگے جاکر بھی تشدد پسندوں کا سر کچلنا پڑے تو کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جب نواز شریف کا مفاد ہو تو ان کیلئے اسٹیبلشمنٹ کے تمام کام جائز ہیں ،لیکن اگر اسٹیبلشمنٹ دو پارٹیوں کو امن کیلئے اکٹھا ہونے کیلئے کہے تو یہ کہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ اپنی حد میں رہے،یہ سب اسٹیبلشمنٹ کے گملے میں لگے پودے ہیں جو آج سیاست کررہے ہیں۔

جب ان کی عدالتیں دہشتگردوں کو سزانہ دے سکیں تو ان کی حکومت اسٹیبلشمنٹ کو عدالت کا کام بھی سونپ دیتی ہے، اگر اسٹیبلشمنٹ بھل صفائی کرسکتی ، واپڈا کو سنوار سکتی ، عدالتی ذمہ داریاں نبھاسکتی اورنواز شریف کو سیاست میں متعارف کرواسکتی ہے تو کیا نہیں کرسکتی۔اعجاز اعوان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں،ان کے بیان سے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی تعلق نہیں ہے، پرویز مشرف اس ملک کو جس معراج پر لے جاسکتے تھے ان کا دس سالہ حکومتی ریکارڈ اس کا گواہ ہے، ایم کیو ایم کو مہاجروں کی سیاست کرنے کا حق ہے لیکن الطاف حسین سے خود کو لاتعلق کریں۔

اعجاز اعوان نے کہا کہ لگتا ہے سیاستدانوں کو سارے قتل معاف ہیں، اگر وہ حلف اٹھا کر سپریم کورٹ پر حملہ کردیں تو وہ بھی جائز ہے، اگر وہ حلف اٹھا کر پارلیمنٹ کے فلو ر پر جھوٹ بولیں یا سپریم کورٹ میں جعلی دستاویزات جمع کرائیں تو وہ بھی جائز ہے، تمام پابندیاں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ پر ہیں،ان پر کوئی پابندی نہیں ہے،اگر عدالت انہیں بددیانتی اور جھوٹ بولنے پر گھر بھیجے تو عدالت غلط ہے۔

ماہر قانون بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے تنازع سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فوج سیاست میں مداخلت کررہی ہے،مصطفی کمال کی باتوں سے اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں دخل اندازی ظاہر نہیں ہوتی البتہ ممکن ہے سہولت دی گئی ہو، پاکستان میں سول حکومت بہت سے معاملات میں فوج کو بلاتی ہے، آئین میں فوج کے سیاست میں کردار کی کوئی گنجائش نہیں ہے، آئین سیاست یا ریاستی کاموں میں صرف پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ کو تسلیم کرتا ہے، آئین میں فوج کا کردار واضح ہے،انہیں ریاست کی سرحدوں کی حفاظت کرنی ہے ،اگر کوئی سویلین حکومت کسی معاملہ میں فوج کی مدد مانگے تو وہ مدد کرنے کی پابند ہے ۔

حدیبیہ پیپرمل کیس کے حوالے سے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جسٹس کھوسہ نے حدیبیہ پیپر ملزکیس کی سماعت سے معذرت عدالتی اصولوں کے مطابق کی ہے، جسٹس کھوسہ نے پاناما کیس میں اپنے فیصلے میں واضح طور پر حدیبیہ کیس کے فیصلے کو غلط قرار دیا تھا، عدالتی کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق کوئی جج ایک فیصلہ کرچکا ہو تو اپیل میں وہ کوئی بات نہیں کرسکتے،انہیں اپنے بنچ سے ہٹ جانا چاہئے۔