| |
Home Page
جمعرات18؍ ربیع الثانی 1439ھ 18 ؍ جنوری2018ء
طارق بٹ
January 13, 2018 | 12:00 am
معجزہ ہی ہو گا

Might Be A Surprise

بلوچستان میں جس طرح کی کھچڑی پکا دی گئی ہے معجزہ ہی ہو گا کہ صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے سے بچ سکے کیونکہ جو بھی بحران پیدا کیا گیا ہے اس کا مقصد ہی اس ایوان کو ختم کر کے مارچ میں ہونے والے سینٹ کے الیکشن کو سبوتاژ کرنا ہے ۔نامعلوم افراد نے پھر اپنا کام دکھایا اور کچھ اسمبلی ممبران خصوصاً وہ جن کا تعلق نون لیگ سے تھا پر دبائو ڈالا کہ وہ یہ طوفان کھڑا کر دیں ۔ یہ صرف ہم ہی نہیں کہہ رہے بلکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی انکشاف کیا ہے کہ کچھ ایم پی ایز نے انہیں اپنے دورہ کوئٹہ کے دوران بتایا کہ ان پر دبائو ڈالاگیا ہے ۔ جب سے انہوں نے 5ماہ قبل وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا ہے 3بار کوئٹہ کا دورہ کیا ہے اور کسی موقع پر بھی انہیں نون لیگ کے ممبران کی طرف سے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف کوئی شکایت وصول نہیں ہوئی تھی ۔ نون لیگ کی اعلیٰ قیادت کے لئے یہ سرپرائز تھا کہ اچانک اس کے ایم پی ایز نے تحریک عدم اعتماد کا ساتھ دینے کا اعلان کیا اور ایک ’’باغی‘‘گروپ سامنے آگیا ۔ ان میں سے کسی بھی ممبر نے یہ زحمت گوارہ نہیں کی کہ وہ پارٹی کی سینٹرل قیادت کو اعتماد میں لے یا اس پر زور دے کہ وزیراعلیٰ ان کی ’’شکایات‘‘ دور کریں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ اچانک یہ تمام ایم پی ایز خود بخود ہی ’’انقلابی ‘‘ بن گئے ۔ جب مبینہ طور پر نون لیگ کے 21میں سے 15ارکان نے جماعت کی پالیسی کے خلاف فیصلہ کیا تو یہ ممکن ہی نہ رہا کہ پارٹی کی سینٹرل قیادت ثناء اللہ زہری سے یہ کہتی کہ وہ اپنے عہدے سے چمٹے رہیں لہذا اس نے اسی میں ہی عافیت جانی کہ وہ انہیں مشورہ دے کہ وہ مستعفی ہو جائیں ۔ باغی گروپ پر دبائو کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے باوجود وزیراعظم کی دعوت کے ان سے ملنے سے صاف انکار کر دیا ۔وزیراعظم اور نون لیگ نے ایک اچھی روایت قائم کی کہ انہوں نے ہارس ٹریڈنگ کا راستہ نہیں اپنایا اور صاف ستھری سیاست کو متعارف کرایا ورنہ ماضی میں ایسے موقعوں پر ممبران کی خرید وفروخت ہوتی رہی ہے جس نے سیاست پر سیاہ داغ لگائے ہیں۔
بظاہر اصل پلان کچھ اس طرح کا لگتا ہے کہ ایک کمزور ایم پی اے کو وزیراعلیٰ منتخب کرایا جائے جو’’ حکم ‘‘کے مطابق اسمبلی کو تحلیل کر دے تاکہ سینیٹ کے الیکشن میں رکاوٹ ڈالی جاسکے۔ یہ باتیں بھی کی جارہی ہیں کہ اس کے بعد خیبر پختونخوا اور سندھ کی اسمبلیاں بھی تحلیل کرائی جائیں گی تاکہ ملک میں سخت بحران پیدا ہو جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ آدھی سینیٹ کا الیکشن نہ ہو سکے بلکہ عام انتخابات بھی وقت پر نہ ہو سکیں اور ایک افراتفری کا عالم اور آئینی بحران پیدا ہو جائے جس سے غیر جمہوری قوتوں کو مداخلت کا موقع مل سکے ۔ اگر واقعی ایسا ہو گیا تو یہ ملک کی بڑی بدقسمتی ہو گی۔وزیراعلیٰ کے ایک امیدوار جان جمالی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگلا چیف منسٹر اسمبلی کو تحلیل بھی کر سکتا ہے اور یہ بالکل آئین کے مطابق ہو گا ۔ موصوف کافی عرصہ سے نوازشریف کے خلاف گرج رہے ہیں اس وجہ سے کہ انہیں صوبائی ا سپیکر کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا مگر ساڑھے 4سال ان کی ایک نہ چلی اور وہ خاموش رہے اب جبکہ بحران پیدا کرنے کا وقت آیا تو انہوں نے اپنی ہی جماعت یعنی نون لیگ کے کچھ ایم پی ایز کو بھی ساتھ ملا لیا ۔ بلوچستان میں جس طرح ہونےوالا ہے اس کا اندازہ اپوزیشن جماعتوں جنہوں نے تحریک عدم اعتماد کو سپانسر کیا تھا کہ اس اعلان سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اگلی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے مگر نئے وزیراعلیٰ کو سپورٹ کریں گے یعنی اگلے چیف منسٹر کو اپنا عہدہ رکھنے کے لئے انہی جماعتوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا اور جونہی وہ اپنا ہاتھ کھینچیں گے تو یہ دھڑام سے نیچے گر پڑیں گے۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ باغی گروپ کے 15میں سے کتنے ایم پی ایز اگلے وزیراعلیٰ کی حمایت کریں گے کیونکہ ان میں سے کم ازکم 4تو اس عہدے کے امید وار ہیں۔جان جمالی کا یہ کہنا کہ پارٹی کے بلوچستان چیپٹر پرنون لیگ کے صدر نوازشریف کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور یہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے حقائق کے خلاف ہے کیونکہ ساڑھے 4سال تو صوبائی پارلیمانی جماعت نے بالکل وہی کچھ کیا جو جماعت کے صدر کہتے رہے یعنی ان کے فیصلے کے مطابق ہی نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک پہلے ڈھائی سال وزیراعلیٰ رہے اور باقی ڈھائی سال کے لئے ثناء اللہ زہری نے یہ عہدہ سنبھالا ۔ اب تو اسمبلی کی مدت میں صرف 4ماہ رہ گئے ہیں تو یہ کہنا کہ بلوچستان چیپٹر کوئی آزاد جماعت ہے غلط ہے ۔ آئندہ الیکشن کے لئے جو بھی نون لیگ بلوچستان سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدوار چنے گی وہ وہی ہوں گے جن کا فیصلہ نوازشریف کریںگے۔
صرف نون لیگ کا باغی گروپ اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ وہ ثناء اللہ زہری کو مستعفی ہونے پر مجبور کر سکے اصل کھیل بلوچستان اسمبلی میں جے یو آئی (ف)کی پارلیمانی جماعت جو کے اپوزیشن بنچوں پر بیٹھتی ہے نے شروع کیا ۔ اس کے سامنے جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بے بس ہیں۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ بحران پیدا کرنے میں ان کی جماعت کوئی کردار ادا کرے۔ انہوں نے جماعت میں اتحاد رکھنے کے لئے فیصلہ صوبائی چیپٹر پر ہی چھوڑ دیا۔اس صورتحال میں سب سے اچھا رول حاصل بزنجو کی نیشنل پارٹی جس کے صوبائی اسمبلی میں 11ممبران ہیں اور محمود اچکزئی کی پختونخواہ ملی عوامی پارٹی جس کے پاس 14ایم پی ایز ہیں نے ادا کیا کیونکہ وہ اس سازش کا حصہ نہیں بنیں اگرچہ ان کے ایک دو ممبران نے اپنی جماعتوں کے ڈسپلن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ساتھ دینے کا عندیہ دیا ۔ ان دونوں جماعتوں اور نون لیگ کے 5ممبران اسمبلی جو باغی گروپ کے 15ایم پی ایز کونکال کر بچتے ہیں کی عددی پوزیشن اب بھی بہت اچھی ہے جو کہ 30کے لگ بھگ بنتی ہے اسمبلی میں اتنا سالڈ بلاک کوئی اور نہیں ہے جبکہ وزیراعلیٰ بننے کے لئے کم سے کم 33ارکان کی حمایت درکار ہے ۔دوسری طرف جے یو آئی ف کے 8ارکان ہیں ٗ سردار عطاء اللہ مینگل کی جماعت کے 2ایم پی ایز ہیں ٗ ق لیگ کے 5ممبران ہیںاور عوامی نیشنل پارٹی اور مجلس وحدت المسلمین کا ایک ایک ایم پی اے ہے اس کے علاوہ نون لیگ کے باغی گروپ کے 15ممبرز ہیں جن کا ایک بلاک کی شکل میں کسی امیدوار کو ووٹ دینا بہت مشکل لگ رہاہے ۔ لہذا جو بھی وزیراعلیٰ بنے گا اس کو نیشنل پارٹی اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کی حمایت ہر صورت درکار ہو گی ورنہ وہ چھوٹی جماعتوں کے ہاتھوں یرغمال رہے گا۔ نوازشریف چاہتے ہیں کہ ایسا وزیراعلیٰ بنے جو کٹھ پتلی نہ ہو اور کسی کے’’آرڈر ‘‘ پر اسمبلی کو تحلیل نہ کر دے ۔ انہیں اعتراض نہیں ہو گا اگر حاصل بزنجو اور محمود اچکزئی دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر یہ طے کر لیں کہ ڈاکٹر عبدالمالک کو دوبارہ وزیراعلیٰ بنا دیا جائے تاکہ اسمبلی بھی قائم رہ سکے اور سینیٹ کے الیکشن بھی وقت پر ہو سکیں۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ جو کچھ بلوچستان میں کیا گیا ہے اس سے جمہوریت کی کوئی خدمت نہیں ہوئی بلکہ اسے کمزور ہی کرنے کی کوشش کی گئی ہے بالکل صحیح ہے۔ ضروری ہےکہ ہم بلوچستان جیسے صوبے جس میں یقیناً بہت سی بیرونی قوتیں خرابی پیدا کرنے کے لئے برسر پیکار ہیں اور پاک چائنہ اقتصادی راہداری کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں کو اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے جن کا مقصد نوازشریف کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانا ہے کو اس طوفان سے دور رکھیں۔