| |
Home Page
بدھ 4؍ جمادی الثانی 1439ھ 21؍ فروری 2018ء
February 13, 2018 | 12:00 am
ظفرالحق کمیٹی رپورٹ نہ آئی تو وزیراعظم کو توہین عدالت کا نوٹس دینگے، اسلام آباد ہائیکورٹ

Todays Print

ظفرالحق کمیٹی رپورٹ نہ آئی تو وزیراعظم کو توہین عدالت کا نوٹس دینگے، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں ) فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریماکس دیے ہیں کہ اگر آئندہ سماعت پر راجہ ظفرالحق کمیٹی کی رپورٹ پیش نہ کی تو وزیراعظم کو توہین عدالت کا نوٹس بھیجیں گے۔پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی نے عدالت کو بتایا کہ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ ابھی تک فائنل نہیں ہوئی جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور ان کی سرزنش بھی کی۔ فاضل جج نے استفسار کیا کہ ʼکیسے ہو سکتا ہے کہ کمیٹی سربراہ کے دستخط کے باوجود رپورٹ حتمی نہ ہو، کیا آپ چاہتے ہیں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ سے براہ راست ریکارڈ طلب کریں،آپ کو احساس نہیں کہ ختم نبوت کا معاملہ ہے اس پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، گزشتہ آرڈر میں لکھوایا تھا کہ وزیر داخلہ کے دستخط نہ ہوں تو بھی رپورٹ پیش کی جائے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں کیا گیا اور حکومتی رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے، حکومت اگر ایسا کرے گی تو باقی کیا کرینگے، وہ کون لوگ ہیں جو مسلمان نہیں مگر مسلمان بن کر عہدوں پر فائز ہیں ۔اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے منسٹر 20 منٹ کے نوٹس پر عدالت میں حاضر ہو گئے تھے جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ تو انہوں نے کون سا احسان کیا، اگر نہ آتے تو وارنٹ جاری کرتے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش نہ ہوئی تو توہین عدالت کا نوٹس وزیراعظم اور متعلقہ 3 وزرا کو دیں گے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل نہ کھیلا جائے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 فروری تک کے لئے ملتوی کردی۔واضح رہے کہ ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے معاملے پر مذہبی جماعت کی جانب سے نومبر 2017 میں 22 روز تک دھرنا دیا گیا جو بعدازاں وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے اور ایک معاہدے کے بعد ختم ہوا۔دھرنے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست زیرسماعت ہے جب کہ عدالت نے آبزرویشن دی تھی کہ دھرنے کے خاتمے کے لئے کئے گئے معاہدے کی ایک شق بھی قانون کے مطابق نہیں اور جو معاہدہ ہوا اس کی قانونی حیثیت دیکھنی ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے تھے کہ ʼزخمی میں ہوا ہوں ریاست کو کیا حق ہے میری جگہ راضی نامہ کرے ، جس پولیس کو مارا گیا کیا وہ ریاست کا حصہ نہیں، اسلام آباد پولیس کو 4 ماہ کی اضافی تنخواہ دینی چاہیے، پولیس کا ازالہ نہیں کیا جاتا تو مقدمہ نہیں ختم ہونے دوں گا۔