مطمئن… …
پریشانیاں گو کہاں آج بھی کمدماغ اور دل مطمئن ہیں ہمارےنہیں پالتے ہم کوئی غم کہ یہ دنبڑھاپا منانے کے دن ہیں ہمارے
May 02, 2026 / 12:00 am
قدر…
محنت کشوں نے کام کیا عام طور پردن رات انہماک سے جنّات کی طرحتاہم جفاکشی کی یہاں قدر ہے کہاںاُجرت عطا ہوئی انہیں خیرات کی طرح
May 01, 2026 / 12:00 am
حقیقت… ……
کامراں ٹھیرتا ہے طاقتورکیا نہیں یہ حقیقت آفاقیہو جو کمزور، وہ لڑائی میںفتح پاتا ہے صرف اخلاقی
April 30, 2026 / 12:00 am
نتن یاہو……
نتن یاہو نہیں چَوپایہ پھر بھیوہ اپنے ظلم پر پُھولا ہوا ہےہزاروں لاکھوں جانیں لینے والاخود اپنی موت کیا بُھولا ہوا ہے
April 29, 2026 / 12:00 am
آلات … …
وہ پُر امن دنیا نہیں چاہتےبناتے ہیں جو لوگ آلاتِ جنگبظاہر اگر جنگ رُک بھی گئیرہیں گے بدستور حالاتِ جنگ
April 28, 2026 / 12:00 am
مستقل… ……
قیمتیں بڑھتی رہیں گی صبح و شامقوم دُکھ پر دُکھ سہے گی مستقلجنگ تو ٹل جائے گی سر سے مگرسخت مہنگائی رہے گی مستقل
April 27, 2026 / 12:00 am
کیفیت…
دل پریشانیوں سے بوجھل ہےاور یہ کیفیت مسلسل ہےبے یقینی کی حد نہیں یاربآدمی انتہائی بیکل ہے
April 26, 2026 / 12:00 am
جاری……
وقفہ آنا تو ممکن ہے یلغار میںخاتمے کے نہیں کوئی آثار تکجنگ جاری رہے گی فریقین میںآخری فتح تک، آخری ہار تک
April 25, 2026 / 12:00 am
مگر …
اِسے دولت سکون و عافیت کینہیں حاصل تو یہ دنیا ہے کنگلیکئے ہیں اس نے کیا کیا شہر آبادمگر ہے آدمی جنگلی کا جنگلی
April 24, 2026 / 12:00 am
کام ………
ہے انہیں اپنے کام سے مطلبامن کی فکر ہے نہ جانوں کیہو رہی ہے کمائی صبح و شاماسلحہ ساز کارخانوں کی
April 23, 2026 / 12:00 am
وابستہ…
ہوں ایران کے آئندہ دنیا امر یکہ کا مستقبلدونوں ہی سے وابستہ ہےپوری د نیا کا مستقبل
April 22, 2026 / 12:00 am
صیدِ زبوں …
ہمارے ذہن پر جنگ و جدل کا خوف طاری ہےزباں پر حضر تِ اقبالؔ کا یہ شعر جاری ہے’’ابھی تک آدمی صیدِ زبونِ شہر یاری ہےقیامت ہے کہ انساں، نوعِ انساں کا شکا
April 21, 2026 / 12:00 am
شش و پنج… ……
ہیں کس شش و پنج میں فریقینہے بھی ہمیں کچھ خبر، نہیں بھیرُک جائے گی جنگ آخرِ کاراِس باب میں شک بھی ہے، یقیں بھی
April 20, 2026 / 12:00 am
نشانہ……
کہیں کاش بھول کربھی نہ بپاہو جوہری جنگ کہ اگر زمین اِس کا کبھی بن گئی نشانہنہ رہےگا کوئی اتنا جو کہے پسِ تباہیکہ بنا ہوا تھاکل تک یہ جہاں نگار خانہ
April 19, 2026 / 12:00 am