انصاف سب کیلئے

September 26, 2022

’’ آئین کی پاسداری ، قانون کی حکمرانی اور انصاف تک سب کی یکساں رسائی قومی ترقی و خوشحالی کیلئے لازم ہیں‘‘ بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس میں عدالت عظمیٰ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیا ل کے اظہار خیال کے یہ بنیادی نکات ایسی حقیقت ہیں جسے تسلیم سب کرتے ہیں لیکن ہماری قومی زندگی میں پون صدی بعد بھی جن کا نفاذ ابھی غور و خوض اور تقاریر و خطابات ہی کے مراحل میں ہے ۔ سپریم کورٹ میں منعقدہ دو روزہ کانفرنس میں بھی ان حوالوں سے بہت اچھی باتیں ہوئیں۔ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے اپنے خطاب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت محروم طبقے کے حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہے ، قانون کی حکمرانی اور خوش حال پاکستان کیلئے ضروری ہے عدلیہ تک سب کی مساوی رسائی ہو۔ چیف جسٹس نے ان اہداف کے حصول کیلئے تنازعات کے تصفیے کے متبادل نظام کا اختیار کیا جانا ضروری قرار دیا۔ علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور پراسیکیوشن کو اپنی کارکردگی اور باہمی تعاون کو بہتر بنانا ہوگا،عدلیہ اور بار کو جدید قانونی علم اور ٹیکنالوجی سے آگہی حاصل کرنا ہوگی ۔ پورے نظام کو اہلیت کی بنیاد پر استوار کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے نظام کی بنیاد میرٹ پر ہے۔ چیف جسٹس نے صراحت کی کہ خواتین ہماری آبادی کا پچاس فی صد ہیں لہٰذا دیگر شعبوںکے ساتھ ساتھ عدلیہ اور بار میں بھی خواتین کی نمائندگی بڑھائی جانی چاہیے۔ موجودہ نظام انصاف میں فیصلوں میں تاخیر کے حوالے سے انہوں نے اعتراف کیا کہ اس نظام میں حتمی فیصلے عشروں میں ہوپاتے ہیں لیکن تنازعات کے حل کا متبادل نظام فوری انصاف میں مددگا ثابت ہوگااورسائلین کو اس سے استفادے کا مشورہ دیا جانا چاہیے۔بلاشبہ متبادل طریقے ہمارے بنیادی عدالتی نظام پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے میں بہت معاون ثابت ہوسکتے ہیں ‘ مختلف ادوار میں اس ضمن میں اقدامات کیے جاتے رہے ہیں اورجرگہ سسٹم، یونین کونسلوں کی نظام انصاف میں شرکت، قاضی عدالتوں وغیرہ جیسے تجربات کے مفید نتائج سامنے آئے بھی ہیں لیکن یہ طریقے شاید تسلسل کے ساتھ جاری نہ رہ پانے اور نیم دلی کے ساتھ آزمائے جانے کی وجہ سے قبولیت عامہ حاصل نہیں کرسکے ۔ لہٰذاانہیں مقبول بنانے کی خاطر شہریوں کو ان کے بارے میں باقاعدہ مہم چلا کر مکمل آگاہی فراہم کی جانی چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ ریاست کے کلیدی نظام انصاف میں تاخیر کو بھی کم کرنے کی خاطر تمام ضروری تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں کیونکہ مروجہ نظام کی اس خامی نے انصاف کے عمل کو سائلین کیلئے مایوس کن بنادیا ہے۔ مدعا علیہان کے وکلاء کے تاخیری حربے، عدالتوں سے ملنے والی لمبی تاریخیں،غیر ضروری اور غیر متعلقہ بحث کے ذریعے معاملے کو الجھانا ، پھر سائل کا حصول انصاف کی خاطر نچلی عدالتوں سے اعلیٰ عدالتوں تک اپیل دراپیل کے ذریعے پہنچنے پر مجبور ہونا ، عدالتوں اور وکیلوں کی ہوشربا فیسیں، ایسے اسباب ہیں جن کی وجہ سے بیشتر مظلوم افراد عدالتوں کا رخ ہی نہیں کرتے ۔ انصاف کو امیر و غریب سب کیلئے واقعی یکساں طورپر قابل حصول بنانا ہے تو ان تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔ نظام انصاف میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس ضمن میں اچھی کوشش ہے ، چیف جسٹس کے مطابق سپریم کورٹ نے 7 ماہ میں 3 ہزار 300 سے زائد مقدمات کے فیصلے ویڈیو لنک پر کیے جس سے وکلا اور سائلین کے وقت اور پیسے کی بچت ہوئی جبکہ ملک کی تمام عدالتوں کو بذریعہ آٹومیشن سسٹم آپس میں لنک کیا جا رہا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قوم کے ہر فرد کو یکساں، تیزرفتار، کم خرچ اور بے لاگ انصاف فراہم کرنے کی خاطر پارلیمنٹ، عدلیہ اور بار کونسلیں باہمی تعاون سے جلد از جلد تمام مطلوبہ اقدامات عمل میں لائیں کیونکہ عدل ہی کسی قوم کی بقاو سلامتی اور ترقی و خوشحالی کا حقیقی ضامن ہوتا ہے۔