پنجاب میں انسداد پولیو مہم

November 28, 2022

پنجاب کے 9 اضلاع میں آج سے انسداد پولیو مہم کا آغاز ہورہا ہے اس دوران 5 سال تک کی عمر کے 63لاکھ بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی جیسے بڑے اضلاع میں بھی ابھی تک اس عفریت کا مکمل خاتمہ نہیں ہوسکا ہے بلکہ ان بڑے شہروں کو اس حوالے سے زیادہ خطرے میں گھرے اضلاع قرار دیا جارہا ہے جہاں نئی انسداد پولیو مہم سات روزتک جاری رکھی جائے گی جبکہ دیگرچھ اضلاع سیالکوٹ، ڈی جی خان، ملتان، میانوالی، بہاولپور اور راجن پور میں اس مہم کا دورانیہ پانچ روز رکھا گیا ہے۔خیال رہے کہ ان شہروں میں ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا جس کی وجہ سے نونہالان وطن ہنوز اس بیماری کے نرغے میں ہیں۔ اس موذی مرض سے بچانے کے لئے حکومتی کوششیں جاری ہیں۔ جب تک پولیو کا جڑ سے خاتمہ نہیں ہوجاتا طفلان پنجاب معرض خطر میں رہیں گے جس سے بچاؤ کے لئے حفاظتی قطرے پلانا اشد ضروری ہے کیونکہ پولیو ویکسین کو اس بیماری سے نجات کے لئے مؤثر گردانا جاتا ہے۔ لاہور میں گذشتہ ماہ 12 لاکھ 35 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے اس کے باوجود مثبت ماحولیاتی نمونوں کی وجہ سے عوام اور محکمہ صحت کے ذمہ داران کو ہمہ وقت چوکس رہنے کا چیلنج درپیش ہے۔ توجہ طلب امر ہے کہ پولیو کے خلاف مسلسل جاری بیداری شعور کی مہم کے باوجود عوام کی ایک خاصی تعداد غفلت شعاری کا مظاہرہ کرتی ہے جس کی وجہ سے ان کے اپنے بچے اس موذی مرض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ذرائع ابلاغ میں پولیو کے مریضوں کے بارے میں خبریں آتی ہیں تو عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں بھی منفی تاثر قائم ہوتا ہے جس کی روک تھام بہرحال لازمی ہے اور اس کے لیے ملک کو پولیوسے مکمل نجات دلانا ضروری ہے۔