کیا پنجاب میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان سیٹ ایڈ جسمنٹ ہوسکے گی؟

March 15, 2018

تجمل گرمانی

پاکستان پیپلزپارٹی نے چیئرمین سینیٹ الیکشن کے لئے سنیئر رہنما رضا ربانی کو نظر انداز کر کے حیران کر دیاحالانکہ مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف کی حمایت کے بعد رضا ربانی کی جیت واضح تھی۔

چیئرمین سینیٹ کے لئے پیپلزپارٹی میں دو آرا تھیں، پیپلزپارٹی کے صدر بلاول بھٹو اور سنیئر قائدین نواز شریف کی جانب سے تائید و حمایت کے بعد رضا ربانی کی نامزدگی پر آمادہ تھے لیکن پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے صدر آصف علی زرداری پہلے دن سے رضا ربانی کی نامزدگی پر تیار نہیںتھے لیکن الیکشن سے محض ایک دن قبل پیپلزپارٹی اور پارلیمنٹرین دونوں جماعتوں کے قائدین آصف علی زرداری کی رائے سے متفق ہو گئے اور بلوچستان سے آزاد سینیٹر صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ اور سلیم مانڈوی والا کی بطور ڈپٹی چیئرمین حمایت کا اعلان کر دیا گیااور آصف زرداری کے حمایت یافتہ دونوں امیدوار اکثریت سے کامیاب ہو گئے جس سے واضح ہو گیا کہ پیپلزپارٹی کے سیاسی امور کی باگ ڈور عملی طور پر پارلیمنٹرین کے صدر آصف علی زرداری نے اپنے ہاتھوں میںلے رکھی ہے اور امیدواروں کا چنائو اور ٹکٹو ں کی تقسیم تک اہم فیصلے وہی کر رہے ہیں اور سینیٹ کے حالیہ الیکشن ، چیئرمین ، ڈپٹی چیئرمین کی نامزدگی نے اس کی مہر ثبت کر دی ہے ۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے صدر آصف علی زرداری کی طرف سے بلوچستان سے مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار صادق سنجرانی کی حمایت اور جیت سے اس بات کو تقو یت ملتی ہے کہ پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان سیاسی معاملات پر اتفاق ہو گیا ہے اور آئندہ پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ دونوں فریق مل جل کر آگے بڑھیں گے۔

پیپلزپارٹی کی پچاس سالہ تاریخ آئین ، جمہوریت اوروفاق پاکستان سے جڑی ہوئی ہے ، اس کی قیادت اور کارکن دونوں کی زندگی آمریت کے خلاف ، بحالی جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لئے جد و جہد کر تے ہوئے گزری ہے ، صرف دو مواقع پر مفاہمت کی راہ اختیار کی گئی پہلی مرتبہ جب جنرل پرویز مشرف نے 2007میں این آر او (National Reconciliation Ordinance) جاری کیا جس کے تحت بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی اور سنیئر رہنمائوں کے خلاف مقدمات ختم کر کے انھیں عام معافی مل گئی ، دوسرا موقع چیئرمین سینیٹ کے موجود ہ الیکشن ہیں ، پہلی مرتبہ پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاہدہ طے ہوا لیکن دوسرے موقع پر انڈر سٹینڈنگ کے ذریعے معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔

پیپلزپارٹی کو اسٹیبلشمنٹ سےمعاملات طے ہونے کے بعد بہت سیاسی فوائد ملنے کی امید ہے ۔ پیپلزپارٹی کے رہنمائوں کے خلاف سندھ میں نیب کے کریک ڈائون میںنرمی ہو گی ، ریفرنس اور مقدمات کا دبائو کم ہو گا ، سینیٹ میںاہمیت بڑھے گی ، آئندہ عام انتخابات میںبلوچستان اور سندھ کے صوبوں میں برتری ہو گی, پنجاب میںکھوئی ہوئی ساکھ بحال ہونے کی امید پیدا ہو ئی ہے ، عمران خان سے سیاسی تعلقات کی راہیں ہموار, پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان سیٹ ایڈجسٹمنٹ ورنہ الیکشن کے بعد حکومت سازی کے لئے دونوںکے درمیان اتحاد کی صورت پیدا ہو سکتی ہے ۔

پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مفاہمت کی راہ گزشتہ برس میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد ہموار ہونا شروع ہوئی ، اسٹیلشمنٹ کو اپنی وفاداریوں کی یقین دہانی دلانے کے لئے پیپلزپارٹی نے اسمبلیوں میںفرینڈلی اپوزیشن کا رویہ ترک کر کے حکومت کے خلاف علانیہ جلسے کئے اور زرداری نے موچی دروازہ میں نواز شریف کو درندہ اور ناسور تک کہہ دیا ، بلوچستان حکومت کی تبدیلی کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک پیپلزپارٹی فیورٹ جماعت بن گئ ، پیپلزپارٹی نے بھی اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لئے دو اہم رہنمائوں کی قربانیاںدیں جن میں رضا ربانی کو چیئرمین سینیٹ نامزد نہ کر نا اور فرحت اللہ بابر کو آصف علی زرداری کے ترجمان کے عہدے سے ہٹانا شامل ہے جبکہ اس سے پہلے چودھری منظور احمد کو پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سے ہٹادیا گیا اور انھیں وسطی پنجاب میں جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا جبکہ مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ کو بنا دیا گیا ۔

چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کے بعد پیپلزپارٹی کو پنجاب میں بھی دو رس فوائد ہو گے ، پیپلزپارٹی کے ذرائع کہتے ہیںکہ تحریک انصاف کے ساتھ انتخابات کے دوران سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے جس فارمولہ پر بات چیت کا امکان ہے اس کے مطابق گزشتہ انتخابات 2013میں تحریک انصاف جن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں سے کامیاب ہوئی اور جن حلقو ں میںاس کےامیدوار دوسری پوزیشن پر رہےوہاں پیپلزپارٹی کے امیدوار کھڑے نہیں ہو گے جبکہ پیپلزپارٹی کو جنوبی پنجاب ، سندھ اور بلوچستان میں تحریک انصاف کی حمایت کی ضرورت ہو گی اور وہاں تحریک انصاف کے امیدوار کھڑے نہیںہو گے ۔

تحریک انصاف کولودھراں میںعلی جہانگیر ترین، وہاڑی اسحاق خاکوانی، ملتان عامر ڈوگر، شاہ محمود قریشی نیز مختلف شہروں سے مسلم لیگ ن کے منتخب ارکان قومی و صوبائی اسمبلی جو تحریک انصاف میںشمولیت اختیار کر رہے ان کے حلقوں جبکہ میانوالی، راولپنڈی، لاہوراور کراچی میںبھی پیپلزپارٹی کی حمایت اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہو گی، دوسری جانب پیپلزپارٹی کو لودھراں میں صدیق بلوچ، ملتان یوسف رضا گیلانی، رحیم یار خان مخدوم احمد محمود، گجرات قمر زمان کائرہ، لاہور ثمینہ گھرکی کے لئے واہگہ، آصف ہاشمی شاہدرہ، طارق میو کے لئے کاہنہ سمیت بعض دیگر حلقوں میںتحریک انصاف کے حمایت کی ضرورت ہو گی ، مختصر کہ بعض حلقوں میں ایڈجسٹمنٹ اور باقی تمام حلقوں کو اوپن چھوڑ دیا جائے گا۔

پیپلزپارٹی کے حلقوںکا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی کی کامیابی کے بعد بلوچستان میں احساس محرومی کا خاتمہ اور وہاں کے عوام کو مثبت پیغام پہنچے گا، پیپلزپارٹی جو تین چار نشستوں سے کامیاب ہوتی رہی آئندہ انتخابات میں اس کو بلوچستان سے مزید نشستوں پر کامیابی کی توقع ہے۔

میاںنواز شریف جنھیں گزشتہ 30برسوںسے پنجاب کی سیاست میںبلاشرکت غیرے اقتدا ر حاصل رہا ، انھو ں نے اپنی نااہلی کے بعد اپنے برادر اصغر میاں شہباز شریف کو پارٹی صدر نامزد کیا جو بلامقابلہ پارٹی صدر بن چکے ہیں ، خیال ظاہر کیاجارہا تھا کہ میاں شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کو قبول ہو گے اور مسلم لیگ ن کے اقتدار کی راہیں ہموار ہو گی لیکن سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ ن کو فارغ کر دیا گیا ،اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ مسلم لیگ ن کے لئے آنے والے دنوں میںسیاسی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

شہبا ز شریف بھی اسٹیبلشمنٹ کی ناراضی سمجھ چکے ہیں اور آصف زرداری اور عمران خان کے گٹھ جوڑ سے نالاں ہو کر کہنے پر مجبور ہو گئے کہ زرداری اور نیازی گٹھ جوڑ کو الیکشن میں دفن کر دیں گے ،سڑکوں، پلوں، فلائی اوور کا جال بچھانے سے مخالفین کو تکلیف ہو رہی ہے لیکن سوال ہے کہ لاہور میںہونے والی ترقی او رخوشحالی سے پنجاب کے دیہی علاقوں ، جنوبی پنجاب، سندھ ، بلوچستان سمیت پسماندہ صوبوں کو کیا فائدہ ہوا؟ مسلم لیگ ن 2008میں جب اقتدار میںآئی تو دہشت گردی ، بجلی ، گیس کی لوڈ شیڈنگ اور معیشت کی تباہی سب سے بڑے چیلنچ تھے ۔

کہا جاتا ہے کہ افواج پاکستان نے دہشت گردی کو نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے بہت حد تک ختم کر دیا لیکن نیشنل ایکشن پلان کے ضمن میں سول اداروں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیںجس وجہ سے دہشت گردی کا ناسور ابھی تک باقی ہے ، معیشت بین الاقوامی قرضوںمیںجکڑی ہوئی ہے ، قومی اداروں کو قرضے لینے کے لئے عالمی اداروں کے پاس گروی رکھا جارہا ہے اور پی آئی اے ، پاکستان سٹیل مل جیسے اہم اداروں کی نجکاری ہو رہی ہے ، روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے ، کسانوںکو گنے اور زرعی اجناس کی پوری قیمتیں نہیںمل رہیں، چھوٹے شہروں اور دیہات کے ترقیاتی فنڈز بڑے شہروں میںجاری میگا پراجیکٹس پر استعمال ہو رہے ہیںاور ان علاقوںمیںپانچ برسوں بعد بھی بھوک، افلاس ، غربت ، بے روزگاری ، تعلیم اور صحت کی سہولیات کا فقدان ہے ،ایسے حالات میںمسلم لیگ ن کی قیادت کیسے گمان کر رہی ہے کہ آئندہ الیکشن میں عوام انھیں ووٹ دیںگے اور مسلم لیگ ن دوبارہ بر سر اقتدار آئے گی ۔

مسلم لیگ ن اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت ،عوام کے بڑھتے ہوئے مسائل ، عدالتوں میںزیر سماعت مقدمات اور نیب انکوائریوں کے جال میں بری طرح پھنس چکی ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن کا سیاسی گراف گر رہا ہے ، اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر الیکشن تیاریوں میں مصروف ہیںتو مسلم لیگ ن کی قیادت احتجاجی سیاست پر توانائیاں صرف کر رہی ہے ، ایسے حالات میں یقینی فائدہ اپوزیشن جماعتوںکو ہو گا اور نقصان مسلم لیگ ن کو ہو گا، موجودہ سیا سی منظر کو دیکھتے ہوئے صاف نظر آرہا ہے کہ آنے والے الیکشن کے دوران مسلم لیگ ن وسطی پنجاب تک محدو ہو سکتی ہے ۔