زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی چند معروف ماؤں کے خیالات

May 09, 2018
 

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’پیوند کی طرح چمکتی ہوئی روشنی ، روشنی میں نظر آتے ہوئے بجھے بجھے چہرے ، چہروں پر لکھی داستانیں ، داستانوں میں چھپا ہوا ماضی، ماضی میں چھپا ہوا بچپن ، جگنوؤں کو چنتا، تتلیوں کو پکڑتا ، پیڑ کی شاخوں سے جھولتا ، کھلونوں کی دکانوں کو تکتا ، باپ کی گود میں ہنستا ، ماں کی آغوش میں مسکراتا ، مسجدوں میں نمازیں پڑھتا ، جھیل میں تیرتا ، دھول مٹی سے سنورتا ، ننھے ننھے ہاتھوں سے دعائیں مانگتا ، غلیل سے نشانے لگاتا ، پتنگ کی ڈور میں الجھا ، نیند میں چونکتا ہوا بچپن......

اب خدا جانے کن بھول بھلیوں میں کھو کر رہ گیا ہے‘‘،یہ سچ ہے کہ بچپن کی ہر یاد نظروں کے سامنے آنے والے کسی منظر،کسی بھی بات میں کہیں نہ کہیں چھپی ضرور ہوتی ہے ،جو ہمیں چشم زدن میں بہت پیچھے لے جاتی ہے،جہاں باپ کی شفقت کے ساتھ ’’ماں‘‘کا نرم گرم احساس جاگزیں ہوتا ہے۔بلاشبہ زندگی گزارنے کے ہر انداز میں کہیں نہ کہیں ہمارے ماں،باپ کی جھلک موجود ہوتی ہے۔

بچے کی پرورش میں’’ماں‘‘ کا کردار بنیاد فراہم کرتا ہے،فی زمانہ تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا کے انداز بھی بدل گئے ہیں ،ہم کہہ سکتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ماؤں نے بھی بچوں کی تربیت کے انداز تبدیل کر دیے ہیں،ہم نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ’ماؤں‘ سے اس حوالے سے بات کی ہے ،اُ ن کی گفت گو نزر قارئین ہے۔

ڈاکٹر ہما بقائی:

میںمکمل طورپر ایک پروفیشنل عورت ہوں۔ درس و تدریس کے حوالے سے میری مصروفیات بہت زیاہ ہیں، لیکن میں نے اپنے کیرئیر کا آغاز شادی کے آٹھ برس بعد کیا، آٹھ برس تک میںایک ’’فل ٹائم‘‘ ماں تھی،بچوںکی پرورش، نگہداشت اور گھریلو ذمے داریوں کے باعث میں پروفیشنل لائن میں دیر سے آئی،کیونکہ یہ وہ وقت تھا جب گھر اوربچوں کو میری ضرورت تھی۔

میںآج کل کی مائوںکی جو کہ اگر پروفیشنل بھی ہوںتو ان میںیہی Guiltدیکھتی ہوں کہ وہ اپنے بچوںکے لیے فکر مند رہتی ہیں کہ ملازمت پر جاتے ہوئے بچوںکو کس کے حوالے کرکے جائیں۔ یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ اولاد کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اکثر نوجوان مائیں بچوں کو اپنے والدین یا ساس، سسر کے پاس چھوڑ کر جاتی ہیںیہاںتک پھر بھی درست ہے کہ بچوںکی تربیت کے حوالے سے اس قدر پریشانی نہیںہوتی لیکن اگر مائیں بچوںکو ’’ماسیوں‘‘ کےحوالے کرکے جائیں تو، فکر مند ہی رہتی ہیں۔ ماں بچے کی دوری کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ماں ہمیشہ بچے کو غلط کام سے روکتی ہے یہی وجہ ہے کہ بچوںکی تربیت کے حوالے سے بھی مسائل جنم لے رہے ہیں۔

کارپوریٹ سیکٹر کو چاہیے کہ نوجوان مائوں کے لیے حل نکالے ،آفس میںبچوںکے لیے ’’ڈے کیئر‘‘ ہونا چاہیے۔ اپنے بچوںکی پرورش کے حوالے سے کہنا چاہوں گی کہ میںنے اپنے بچوں پر کبھی بھی زبردستی روک ٹوک نہیںکی لیکن ہمیشہ انہیں اچھائی اور برائی میںفرق کرنا سکھایا۔ کیونکہ ہر زمانے کی الگ ویلیوز ہوتی ہیں، ماں کو اندازہ ہونا چاہیے کہ اس کا بچہ اگلے زمانے میں پروان چڑھے گا تو اسے چاہیے کہ بچے کو اُس کے زمانے کے لحاظ سے تربیت دے۔ میں نے بچوں کے لیے خود کو بھی زمانے کے ساتھ تبدیل کیا ۔

جہاں آرا حئی:

میں نے اپنے بچوںکی تربیت کے لیے کبھی کوئی خطوط متعین نہیںکیے، مگر کوشش ہمیشہ یہی کی کہ جس طرحمیرے والدین نے میری تربیت کی اسی طرح اپنے بچوںکی پرورش کروں۔کچھ اصول تو عام طورپر طے ہیںکہ بچوںکو سچ بولنے کی ترغیب دینا، بے ایمانی سے دور رہنا، بڑوں کی عزت کرنا وغیرہ۔ یہ وہ بنیادی اصول ہوتے ہیں جن پر ہر گھرانے میںعمل ہوتا ہے، انہیں بتانا نہیںپڑتا،بچہ خود ماحول دیکھ کر سیکھتاجاتا ہے۔

میںنے بھی بچوںکو عملاً یہ اصول سیکھائے، تاہم وقت اور ماحول سے تبدیلیاں آتی ہیں۔ مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے تھے تو صبح اٹھ کر ریڈیوں لگالیا کرتے تھے تو ہمیںڈانٹ پڑتی تھی کہ ’’نہ نماز نہ روزہ ، صبح صبح ریڈیو‘‘اسی طرحہم آج بچوں سے کہتے ہیں کہ ’’خدا کے لیے موبائل تو ہاتھ سے چھوڑ دو‘‘ لیکن ہم بچوں کے ہاتھوں سے موبائل چھڑوا نہیںسکتے۔ اب ماحول بدل چکا ہے۔ ہمارے سامنے یہ سب نت نئی ایجاد ات آئیں لیکن آج کے بچوںکے لیے عجوبہ نہیںہیں۔ یہ اسے اپنی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ہم انہیںمنع نہیںکرسکتے لیکن ہم انہیں اس کے اچھے برے استعمال کے لیے بتاسکتے ہیں کیونکہ آج کا بچہ Logicمانگتا ہے، اسے سمجھانا پڑے گا۔

انہیںسمجھانے کے لیے آپ کے پاس دلیل ہونی چاہیے کسی بات پر ٹوک دو تو چھوٹا بچہ فوراً سمجھ جائے گااوررونے لگے گا لیکن جوں جوں عمر بڑھے گی تو وہ آپ سے دلیل مانگے گا۔ بچوں سے ان کے لیول پر بات کرنا پڑتی ہے،یہ ان کی تربیت کا حصہ ہے۔ اسی طرح سزا کے طورپر نہ میں نے اپنے والدین سے مار کھائی اور نہ اپنے بچوںکو کبھی مارا۔ سزا کے طورپر مختلف طریقے آزمائے یعنی اگر کبھی امتحان میںنمبرز کم آگئے تو ان کی سہولتوں میں کمی کردی، لہٰذا بچوںکی پرورش کے لیے تکنیک سے چلنا پڑتا ہے۔

بچے کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بچے کی اس طرح شخصیت سازی کریںکہ وہ ماحول سے سیکھے اور گھریلو ماحول کو بہتر بنانا ’’ماں‘‘کا کام ہے۔ آج الحمد اللہ میرے بچے شادی شدہ ہیں لیکن جب انہیں مشورہ چاہیے ہوتا ہے تو وہ والدین کے پاس ضرور آتے ہیں انہیںمعلوم ہے کہ والدین کی رائے درست ہوگی۔

ساحرہ کاظمی:

میںسمجھتی ہوںکہ ماںکے لیے سب سے ضروری بات یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ’’دوست‘‘ بنے، ان کے ساتھ وقت گزارے۔ جوںجوں آپ کا بچہ بڑا ہوتا ہے اس دوران اگر ماں یا باپ سے اس کا کمیونیکشن گیپ بڑھ جائے تو وہ اپنی باتیں والدین سے شئیر نہیںکرے گا بلکہ اپنے مسائل اور الجھنیں اپنے دوستوں سے شئیر کرے گا۔ لہٰذا اپنی اولاد کو وقت دیں، ان سے بات کریں، اسکول کی باتیں وہاں کے مسائل سنیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ ماں ’’پروفیشنل‘‘ ہے تو اس پر دوہری ذمے داری عائد ہوجاتی ہے۔ جب میرے بچے چھوٹے تھے، تو ان دنوںظاہر ہے میری ٹی وی مصروفیات زیادہ تھیں۔ میں تب بھی بچوںکے ساتھ ضرور وقت گزارتی تھی ۔میں اس لحاظ سے خوش نصیب ہوںکہ میرے بچوںکی تربیت میں میرے والدین کا بھی عمل دخل رہا ہے، ظاہر ہے میرا بھروسہ تھا کہ نانا، نانی کے پاس میرے بچوںکی بنیادی تربیت اچھی ہوگی، لیکن آج کی خاص کر پروفیشنل مائوں کے لیے چیلنجز زیادہ ہیں۔ ماحول تبدیل ہوا ہے بچوںکو اپنے والدین کے پاس تو چھوڑا جاسکتا ہے لیکن ملازمین کے حوالے نہیںکرسکتے۔

پہلے زمانے میں باتیںچھپ جایا کرتی تھیں ،آج پے در پے ایسی خبریں اخبارات میں آرہی ہیں کہ دل دہل جاتا ہے۔ آج سوسائٹی کو چیلنجز درپیش ہیں، اس حوالے سے ماں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی دوست بنے، انہیں اعتماد دے۔ مجھے یاد ہے میں ٹی وی اسٹیشن سے دنوں بچوں کو لینے اسکول جاتی تھی اکثر بچے ضد کرتے کہ ماما سامنے جو آئس کریم والا کھڑا ہے ہمیں اس سے آئس کریم کھانی ہے ،میںوہیںگاڑی کھڑی کرکے بچوںکے ساتھ آئس کریم کھاتی۔ مجھے لوگ کہتے کہ آپ تو آرٹسٹ ہیں اور ٹھیلے سے آئس کریم لے کر کھاتی ہیں۔ میںان سے کہتی، یہ میرے بچوںکی خواہش ہے، میں کیوں نہ ان کے ساتھ انجوائے کروں۔ اس دوران میںبچوںسے خوب باتیں کرتی، ان کے اسکول کا احوال پوچھتی، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہر ماں بچوں کو قریب رکھے۔

ان سے خوب باتیں کرے کہ آج وین میں کیا ہوا، کسی دوسرے بچے نے مارا تو نہیں یا اسکول میں کسی بچے نے دھکا تو نہیں دے دیا۔ یہ بچے کی تربیت کے لیے ضروری ہے ان کا اعتماد بڑھتا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ میںکسی تقریب میں جاتی ہوںتو دیکھتی ہوںکہ بچے بڑوں کو سلام تک نہیںکرتے، جبکہ یہ بنیادی بات ہے جو ہمیںبچپن میں سکھائی جاتی ہے۔ سمجھ لیںتربیت کا لازمی حصہ ہے۔ مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب مجھے لوگ کہتے ہیںکہ تم نے بچوںکو اچھی تربیت دی ہے۔ تمہارے بیٹے (علی) نے اتنی بڑی تقریب میں آکر ہمیں سلام کیا۔ جب لوگ ایسی مثالیںدیتے ہیں تو بہت اچھا لگتا ہے۔

نادیہ حسین:

اولاد کی شخصیت میںماںکا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بچے کی شخصیت سازی کے لیے ہر مرحلے پر ماںکو اپنی ذمے داری پورےخلوص سے نبھانی ہوتی ہے۔ بڑوںکی عزت کرنا، سچ بولنا اور وقت کی پابندی جیسے رہنما اصول ماںہی بچے کو بتاتی ہے۔ میں نے بھی ہر ماںکی طرحبچوںکی بہترین تربیت پر فوکس کیا ۔ عموماً بچے بلا امتیاز تیزی سے اچھی بری عادت کو اپنا لیتے ہیں لہٰذا میری کوشش ہوتی ہے کہ بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دوں تاکہ ان میں مثبت عادتیںاجاگر ہوں۔ ہمیں سوسائٹی کے حوالے سے کئی چیلنجز کا سامنا ہے لہٰذا ہمیں بچوں پر زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ اسی طرح ہر بچے میںفطری طورپر کئی خصوصیات ہوتی ہیں۔ میرے بچوں کو اسپورٹس سے بہت لگائو ہے۔

وہ سائیکلنگ بہت شوق سے کرتے ہیں، لیکن سائیکلنگ کے لیے ان کو باہر بھیجنا بھی مسئلہ ہے۔ سڑکیں بھی ٹھیک نہیںہیں۔ لہذا یہ چھوٹے چھوٹے مسائل بچوںمیں موجود ٹیلنٹ کو ضائع کردیتے ہیں۔ میں انہیں مکمل اور بہترین ماحول دینا چاہتی ہوںجہاںیہ اپنی ہر جائز خواہش اور شوق پورا کریں۔ میں ان کی دلچسپیوں میں ان کا ساتھ دیتی ہوں ۔ ظاہر ہے باہر کا ماحول ایسا نہیںکہ انہیں اکیلے بھیجوں تو جب وہ سائیکلنگ کے لیے جاتے ہیںتو میں بھی ان کے ساتھ ہوتی ہوں۔ والدین کو چاہیے کہ اولاد کو دلچسپیوں پر توجہ دیں اولاد کے دوستوں سے بھی دوستی کریں۔

سیما غزل:

ماں خاندان کی بنیاد ہوتی ہے۔ میری ماں نے ہمیشہ بچوںکو اعتماد دیا۔ ہم زیادہ بہن بھائی تھے لیکن ہمارے والدین نے تربیت میں کوئی کسر نہیںچھوڑی۔ لہذا ہم نے کبھی جھوٹ نہیںبولا، غلطی ہوتی تو فوراً ماں کو جاکر بتادیتے۔ میںنے اپنی زندگی میں یہ اصول رکھا کہ اولاد کو ہمیشہ اعتماد دیا جائے۔ اس سے بات کی جائے۔ جب بچہ بولنا شروع کرتا ہے تو وہ سب سے پہلے سوالات کرتا ہے۔ ہمارے ہاںایسا ہوتا ہے کہ بچوںکے سوالات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ جب میرے بیٹے نے بولنا شروع کیا تو وہ طرح طرح کے سوالات کرتا تھا۔ میری بہن اکثر چڑ جاتی اور کہتی تمہارا بیٹا تو بہت بولتا ہے۔

اُس سے میںکہتی کہ اگر میں اسے جواب دینا چھوڑ دوں تو کل وہ کسی دوسرے ، تیسرے آدمی سے سوال کرے گا اور ممکن ہے کوئی اور فرد اسے کچھ غلط ہی سکھا دے ۔میںماں ہوں لہٰذا میرا فرض ہے کہ اسے سمجھائوں، سیکھائوں۔ ایک مرتبہ میرے بیٹے نے ایسا سوال کیا جس کا جواب میں نہیںدے سکتی تھی۔ اُس وقت وہ بہت چھوٹا تھا ۔ میں نے اسے کہا کہ آپ یہ سوال اپنی کاپی میںلکھ لو تاکہ آپ کو سوال یاد رہے۔ میں آپ کو اس کا جواب چار سال بعد دوں گی۔ میرے بیٹے نے وہ سوال اپنی نوٹ بک میںلکھ لیا۔ اسے یقین تھا کہ ماں اسے جواب دے گی۔ جب وہ بڑا ہوا تو اس نے نوٹ بک مجھے دکھائی۔

پھر میںنے اسے اس کی عمر کے لحاظ سے بات سمجھادی۔ لہٰذا ماں باپ کو بچوںکو ان کی سطح پر ڈیل کرنا ہوتا ہے۔ میںنے کبھی بیٹے کو جھوٹ بولنے نہیں دیا۔جب میرا بیٹا تین سال کا تھا تو ایک مرتبہ اسکول سے گھر آیا، میں نے کپڑے تبدیل کرائے اور ہاتھ، منہ دہلایا۔ میں نے نوٹ کیا کہ وہ بہت جلدی میںہے،جلدی جلدی سارے کام کرنے کے بعد وہ اپنے اسکول بیگ کی طرف چلا گیا۔ کچھ نکالنے لگا میںچونکہ اسے نوٹ کررہی تھی،اُ س کے پاس پہنچ گئی دیکھا اس کے بیگ سے رنگ برنگی سونف کا ایک پیکٹ نکلا۔ میںنے تھوڑا سختی سے پوچھا کہ یہ پیکٹ کہاں سے آیا؟ تو وہ سہم گیا۔ خیر میں نے ملازم سے کہا کہ ایسا ہی پیکٹ اسے دکان سے دلوالائو اور بیگ سے نکلنے والا پیکٹ میں نے اپنے پاس رکھ لیا۔

جب میرا بیٹا اپنا سونف کا پیکٹ لے آیا تو میں نے اسے کہا کہ اسکول سے جو تمہیں پیکٹ ملا ہے وہ ٹیچر کو دے دینا اور کہنا کہ غلطی سے تم نے لے لیا ہے۔ اگلے دن اسکول پرنسپل کا فون آیا۔ انہوںنے کہا یہ یہ رنگ برنگی سونف کے پیکٹ ہم نے کلاس میں بٹوائے تھے۔ چھٹی کا وقت تھا تو کلاس ٹیچر نے اس کی ڈیسک پر ڈبہ رکھ دیا۔ آپ کے بیٹے کو پتہ نہیںچل سکا کہ اسکول کی طرف سے ہے اور اس نے اپنے بیگ میںرکھ لیا۔ بچہ ابھی بہت چھوٹا ہے وہ نہیں سمجھے پایا۔ بہرحال مجھے سختی کرنا پڑی۔ بچوںکو ہر لحاظ سے ’’واچ‘‘ کرنا ہوتا ہے۔بعض لوگ مجھ سے کہتے ہیںتمہارا اکلوتا بیٹا ہے تم بلاوجہ سختی کرتی ہو،لیکن ظاہر ہے میں آج ہوں،کل نہیںہوگی یہ کس طرحزندگی گزارے گا ؟

اسی طرحمیںایک اور واقعہ سنائوںکہ میرا بیٹا آٹھویں کلاس میںتھا تو اسے میرے بھانجے کے جوتے پسند آگئے۔ وہ 800روپے کے تھے۔ مجھ سے کہنے لگا ماما ایسے جوتے چاہئیں، آٹھ سو روپے کے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرے پاس تو آٹھ سو روپے نہیںہیں، تم ایسا کرو کہ اپنی پاکٹ منی سے جمع کرو۔ میرے پاس آدھے پیسے تو ہیں، ہم مل کر جوتے خرید لیں گے، اس طرح اسے پیسے جمع کرنے کی عادت ہوگی۔ ایک روز اس نے خوش ہوکر کہا کہ امی میرے پاس 300روپے جمع ہوگئے۔ اس طرحہم نے دکان پر جاکر وہ جوتے خرید لیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب اگر اسے کچھ خریدنا ہوتا ہے تو وہ پہلے دیکھتا ہے کہ اس کے پاس کتنے پیسے ہیںاور کتنے جمع کرنا ہوں گے۔

اسی طرحمیں نے اسے کبھی بلا ضرورت دوستوں میںبیٹھنے نہیں دیا۔ اس کے دوستوں سے خود بھی دوستی کی کہ پتہ چلے کہ کن لوگوںمیںجارہا ہے یہ سب کچھ مائوں کو کرنا پڑتا ہے۔ میںنے اپنے بیٹے کو کتابیںپڑھنے کی عادت ڈالی ہے۔ اسے ہمیشہ کتابیں تحفے میں دیتی ہوں۔ آج اس کی لائبریری میری لائبریری سے بڑی ہے۔ اب اسے عادت ہوگئی ہے کہ اپنی ہر بات مجھ سے شئیر کرتا ہے۔ ہم ماں بیٹا دنیا کے ہر ٹاپک پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں۔

صفورہ خیری:

پچھلے وقتوں کی مائیں ہی الگ تھیں۔ آج کی مائوں کے پاس فرصت ہی نہیں ہے۔ پہلے بنیادی اور ابتدائی تعلیم پر زور دیا جاتا تھا۔ احکامات خداوندی سے آگاہی کے لیے پہلے ماں باپ کو اس کا پابند ہونا ضروری تھا۔ بچے والدین کو دیکھ کر نماز، روزے کے پابند ہوتے تھے۔ آداب زندگی سیکھتے تھے۔ وفاداری اور رواداری تھی ان میں ۔افسوس کی بات ہے کہ اب بچے تابع دار نہیںرہے۔ وقت بدل گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مائیں اپنی ذات میںگم ہیں۔ اب یہ فیشن آیاہے کہ ہر پچاس برس کی عورت پچیس برس کی بننا چاہتی ہے۔

اسی لیے ’’پارلر‘‘ آباد ہوگئے ہیں۔ ان خواتین کا جوکہ مائیں بھی ہیںزیادہ فوکس، کپڑے، جوتے، زیور ہی ہیں۔ لہٰذا بچوںکی تربیت اس طرحنہیںہورہی جیسے پہلے ہوتی تھی۔ اسی لیے نوجوان نسل’ فریسٹریشن‘ کا شکار ہورہی ہے، زیادہ سختی کرو تو گھر سے ہی بھاگ جاتے ہیں۔ میرا ایک ہی بیٹا ہے، وہ دنیا کا مشکل ترین بچہ ہے، جب وہ چھوٹا تھا تو اکثر اس سوال پر روز دیتا تھا کہ آپ کے ہاتھ بڑے کیوںہیں اور میرے چھوٹے کیوں؟

کبھی پوچھتا خرگوش تیز بھاگتا ہے یا چیتا۔ اسے سوالات کرنے کی بہت عادت تھی۔ کبھی کبھی مجھے کوفت بھی ہوتی لیکن میںاسے کوئی نہ کوئی جواب بناکر مطمئین کرتی تھی۔ میں نے کبھی اسے نظر انداز نہیںکیا ہمیشہ اسے اعتماد دیا۔ ملازمت کے ساتھ گھر سنبھالنا یقیناً دشوار ہے لیکن توازن ضروری ہے۔ آج کل کی مائوںکو چاہیے، توازن کے ساتھ زندگی گزاریں اپنے بچوںکو خود سے دور نہ کریں۔

فضیلہ قیصر:

ہر ماں باپ اپنی اولاد کے لیے بہترین کرنا چاہتے ہیں۔انہیں دنیا کی ہر آسائش دینا چاہتے ہیں۔ہر چیز وقت اور حالات کے تحت ہوتی ہے۔ جب ہم چھوٹے تھے تو زمانہ ہی الگ تھا، ہمارے والدین ہمارے لیے اچھاہی چاہتے تھے اور زندگی کی ہر سہولت دیتے تھے۔ آج زمانہ مختلف ہے اب بچے زیادہ ڈیمانڈنگ ہوگئے ہیں ۔اپنےبچوں کےلیے بھی میں نے ہمیشہ سے یہی اصول رکھاکہ انہیں تعلیم بہتر سے بہتر دلوانی ہے اور تربیت میںبھی کوئی کسر نہیں چھوڑنی۔

اپنی طرف سے تو یہی کوشش رہتی ہے کہ بچوںکو اچھا انسان اور مسلمان بنائوں۔ میںبچوں پر بے جا سختی کی قائل نہیں یہی وجہ ہے کہ آج میرے بچے اعلیٰتعلیم حاصل کررہےہیں اور میرے بہت قریب ہیں۔ ان سے میرا رویہ ہمیشہ دوستانہ رہا ہے۔


مکمل خبر پڑھیں